نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

poetry in urdu funny||funny poetry in urdu text||مزاحیہ غزل از ضیاالحق قاسمی

 

 مزاحیہ غزل

ضیا الحق قاسمی



میں شکار ہوں کسی اور کا مجھے مارتا کوئی اور ہے

 مجھے جس نے بکری بنا دیا وہ تو بھیڑیا کوئی اور ہے

کئی سردیاں بھی گزر گئیں میں تو اس کے کام نہ آ سکا

 میں لحاف ہوں کسی اور کا مجھے اوڑھتا کوئی اور ہے

 مجھے چکروں میں پھنسا دیا مجھے عشق نے تو رلا دیا

میں تو مانگ تھی کسی اور کی مجھے مانگتا کوئی اور ہے

 میں ٹنگا رہا تھا منڈیر پر کہ کبھی تو آئے گا صحن میں

میں تھا منتظر کسی اور کا مجھے گھورتا کوئی اور ہے

سر بزم مجھ کو اٹھا دیا مجھے مار مار لٹا دیا

مجھے مارتا کوئی اور ہے ولے ہانپتا کوئی اور ہے

مجھے اپنی بیوی پہ فخر ہے مجھے اپنے سالے پہ ناز ہے

نہیں دوش دونوں  کا اس میں  کچھ مجھے ڈانٹتاکوئی اور ہے

میں تو پھینٹ پھینٹ کے پھٹ گیا میں پھٹا ہوا وہی تاش ہوں

 مجھے کھیلتا کوئی اور ہے مجھے پھینٹتا کوئی اور ہے

 مرے رعب میں تو وہ آ گیا مرے سامنے تو وہ جھک گیا

مجھے لات کھا کے ہوئی خبر مجھے پیٹتا کوئی اور ہے

 ہے عجب نظام زکوۃ کا مرے ملک میں مرے دیس میں

 اسے کاٹتا کوئی اور ہے اسے بانٹتا کوئی اور ہے

جو گرجتے ہوں وہ برستے ہوں کبھی ایسا ہم نے سنا نہیں

 یہاں بھونکتا کوئی اور ہے یہاں کاٹتا کوئی اور ہے

عجب آدمی ہے یہ قاسمی اسے بے قصور ہی جانئے

 یہ تو ڈاکیا ہے جناب من اسے بھیجتا کوئی اور ہے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...