نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ناراض نہ ہونا||ضرورت رشتہ|ضرورت رشتہ مزاحیہ نظم|برخوردار|ہڑتال|ہکلے کا پیار|Zarorat e rishta mazhiya kalam|دلاور فگار کی مزاحیہ شاعری کا انتخاب||مزاحیہ غزل||Dilawar Figar ki mazhiya shayari ka intekhab||Mazahiya shayari

  

 
ناراض نہ ہونا||ضرورت رشتہ|ضرورت رشتہ مزاحیہ نظم|برخوردار|ہڑتال|ہکلے کا پیار|Zarorat e rishta mazhiya kalam|دلاور فگار کی مزاحیہ شاعری کا انتخاب||مزاحیہ غزل||Dilawar Figar ki mazhiya shayari ka intekhab||Mazahiya shayari
ناراض نہ ہونا||ضرورت رشتہ|ضرورت رشتہ مزاحیہ نظم|برخوردار|ہڑتال|ہکلے کا پیار|Zarorat e rishta mazhiya kalam|دلاور فگار کی مزاحیہ شاعری کا انتخاب||مزاحیہ غزل||Dilawar Figar ki mazhiya shayari ka intekhab||Mazahiya shayari


ناراض نہ ہونا

دلاور فگار

 

استاد جو اب خام ہیں ناراض نہ ہونا

جہل بھی بی کام ہیں ناراض نہ ہونا

عریانی و  عیاشی و سرمستی و رندی

کلچر کے نئے نام ہیں ناراض نہ ہونا

موضوع غزل جن کا  ہے آرائش گیسو

شاعر ہیں کہ حجام ہیں ناراض نہ ہونا

ذرے کے جو بنتے ہیں غلام اور ہیں وہ لوگ

ہم بندہ بے دام ہیں، ناراض نہ ہونا ہے

 پستی میں ہیں جو لوگ انہیں اوپر  اٹھاؤ

اوپرسے  یہ احکام ہیں، ناراض نہ ہونا

اس دور میں معقول کہا جاتا ہے جن کو

 سارے ہی غلط کام ہیں، ناراض نہ ہونا

ایسے بھی ہیں کچھ لوگ جو ہیں ملک میں مشہور

اور  شہر میں گمنام ہیں، ناراض نہ ہونا        

 

ہڑتال

 

 تین دن ہڑتال سے، سبزی کا وہ فقدان تھا

نام کو سبزی نہ تھی ہر مارکیٹ ویران تھا

 بیٹھے تھے بیکار سبزی منڈی میں سبزی فروش

آسماں سے سبزی لے کر آئے اب کوئی سروش

آلو کہتا تھا کہ  یہ ہڑتال سرکاری نہیں

کانے آلو کھائیے، کیا ہے جو ترکاری نہیں

لال پیلا تھا ٹماٹر سبزی کی ہڑتال  سے

اور پھر اس کی بھی قیمت دس گنی تھی دال سے

 ایک صاحب سبزیاں کھا کر جو اب تک زندہ تھے

 اپنی صورت آئنے میں دیکھ کر شرمندہ تھے

ایک کہہ رہے تھے گھر میں پودینہ نہیں

بے پودینہ کے جینا کوئی جینا نہیں

کیوں نہ ہوتا ان کے دل پر قحط پودینہ کا داغ

اپنے گھر میں چھوڑ کر آئے تھے پودینے کے باغ

 توری، بھنڈی، مولی، گاجر، مرچ، گوبھی اور ساگ

گولی کھا جائے گا اس سبزی کے بدلے، گھر کو بھاگ

دال بھی ہڑتال میں کس طرح سستے دام آئے

 جوتیوں میں جو بٹے، کھانے میں وہ کیا کام آئے

ضرورت رشته

 

 ایک لڑکا ہے اصیل النسل عالی خاندان

عمر ہے لڑکے کی ففٹی سکسٹی کے درمیان

قبض  رہتا ہے نہ اس کو نزلہ کی تحریک ہے

ایک دن ٹی بی ہوئی تھی اب طبیعت ٹھیک ہے

 آنکھ اک شمع روشن، دوسری تھوڑی سی گل

مختصر یہ ہے کہ لڑکا ہے بہت ہی بیوٹی فل

 پی کے ماہ اللحم جب ملتا ہے داڑھی پر خضاب

 اس کے چہرے پر نظر آتے ہیں آثار شباب

طالب رشتہ قیود علم  سے آزاد ہے

کچھ ادیبوں کی طرح وہ فطرتاً استاد ہے

 اس کے ہاتھوں میں کسی بھی ازم کا تیشہ نہیں

اس مسلماں کو کسی فتوے کا اندیشہ نہیں

 عالموں کے ساتھ رہ کر وہ بھی جید ہوگیا

 پہلے جانے کیا تھا، رفتہ رفتہ سید ہو گیا

بر بنائے مصلحت یا بر بنائی انتقام

آج تک کنوارہ ہے یہ وحدت پرستوں کا امام

 اس کے بارے میں یہی کہتی ہے دنیا بالعموم

وہ موحد ہے اور اس کا کیش ہے ترک رسوم

شب کو براتے میں کہتا ہے،  مجھے دولہا بناؤ

 کوئی بیوہ ہو تو اس کو میری منکوحہ بناؤ

 کیا بتاؤں کس قدر دلچسپ باتیں اس کی ہیں

''نیند اس کی ہے، دماغ اس کا ہے، راتیں اس کی ہیں"

 شادیوں کی آج چونکہ گرمئی بازار ہے

کوئی کنوارا شہر میں بچنا بہت دشوار ہے

سوچتا ہے اب کہ سہرا باندھ لے یہ نونہال

 پیر نا بالغ  کو اب آیا ہے شادی کا خیال

 اس کو لڑکی چاہئے، لڑکی جو آوارہ نہ ہو

 در حقیقت چاند  ہو،مصنوعی سیارہ نہ ہو

جامعہ کی کوئی بھی ڈگری ہو اس کے ہاتھ میں

 کوئی ڈپلومہ نہ لائی ہو سند کے ساتھ میں

زلف پیچاں کی جگہ پٹے نہیں رکھتی ہو وہ

 گھر پہ پہرہ کے لئے کتے، نہیں رکھتی ہو  وہ

اس کو لڑکی چاہیے جو صورتا لڑکا نہ ہو

 جس کے دل میں شعلہ مردانگی بھڑکا نہ ہو

 شیعہ ہو، سنی ہو، دونوں ہو، غرض اس سے نہیں

''و صل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیں''

 لڑکی میکے میں قیام مستقل فرمائے گی

 سال میں دو چار دن سسرال بھی آجائے گی

 لڑکی اپنے ساتھ لائے کم سے کم دو لاکھ کیش

تا کہ لڑکا بعد شادی کر سکے آرام و عیش

مستعد شوہر تو بس لیٹا رہے گا صبح و شام

  نان نفقہ کا بھی بیگم خود کریں گی انتظام

کوئی دوشیزہ اگر ہو حامل جملہ صفات

 خط میں لکھ بھیجے کہ کس دن اس کے گھر پہنچے برات

بیاہ کی درخواست پر اردو میں لکھیے  یہ پتا

 عاشق ناشاد، ون بی فیڈرل بی ایریا

کاش بر آئے کسی خاتون کے دل کی مراد

'' این دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد''

برخوردار

کھڑے تھے ایک برخوردار کل نزدیک ریگل کے

 میں سمجھا یہ کوئی سرسید و اقبال ہیں کل کے

 کہا میں نے تمہارا نام، بولے سر فراز اختر

کہا کالج میں پڑھتے ہو، تو فرمانے لگے یس سر

کہا میں نے کہ آئندہ بھی پڑھنے کا ارادہ ہے

فرمایا کہ جو کچھ پڑھ لیا وہ بھی زیادہ  ہے

 نہ میں پیچھے کو ہٹتا ہوں نہ میں آگے کو بڑھتا ہوں

 فقط دس سال سے صرف ایک ہی درجہ میں پڑھتا ہوں

 مری صورت ہے نورانی، مری فطرت ہے رومانی

 میں پروانہ صبیحہ کا، صبیحہ میری پروانی

 

ہکلے کا پیار

 

جا جان من تری ذات سے  مما مجھ کو پپا پیار ہے

 خخا غیر ہے خخا خود غرض ووا وقت کا ییا یار ہے

 

ررات بھر ججا جاگنا ددا دوڑنا بھبھا بھاگنا

ببا بائی گاڈیہی مری ححا حالت ززازار ہے

 

ددا دلربا جو تو حسیں مما میں بھی کچھ ککا کم نہیں

 ممامیرا بھی ششا شہر کے ششا شاعروں میں شمار ہے

 

خخا خرچ کا غغا غم نہیں، پپا پیسہ بھی ککا کم نہیں

 میرے پاس بھی ٹٹاٹی وی ہے ببا بنگلہ ہے ککا کار ہے

 

ببابیاہ تجھ سے کروں گا میں تتا تیرے ساتھ مروں گا میں

 ککا کینسر ہے مجھے اگر، ددا دق کی تو بھی شکار ہے

 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...