محبوب عزمی کے طنزو مزاح پہ مبنی قطعات
کرم فرمائی
لوگ کہتے ہیں تو جوہر قابل ہی نہیں
فیض تجھ سے ملے ،اس کا کوئی قائل ہی نہیں
ہاتھ میں جوتا اٹھا کر وہ یہ بولی ہنس کر
"ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں''
خیرات
شاپنگ کو جو اک مس نے کہیں نوٹ نکالے
بڑھ کر وہ جھکائے ہوئے گردن بھی ،کمر بھی
مسکین سے اک بوڑھے گداگر نے پکارا
''اے خانہ برانداز چمن کچھ تو ادھر بھی ''
ایک بچارا
لڑکی بچی ہے کون سی شادی کے واسطے
شاید کہ اس میں میرے مقدر کا دوش ہے
عذرا ،نسیم ،کوثر و تسلیم بھی گئیں
''اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے''
تفسیر
پردے کی اہمیت پہ طریقت کی رو سے آج
بولے یوں شیخ بات یہ کانوں میں ڈال لو
سننا ہو ریڈیو کو تو سر ڈھانپ کر سنو
دیکھو اگرجو ٹی وی تو گھونگھٹ نکال لو
| مزاحیہ قطعات|مزاحیہ شاعری|محبوب عزمی||تضمین کی مثالیں||urdu funny poetry||urdu mazahiya shaiyri |
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں