نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

خلیج از ڈاکٹر معین نظامی / شعروشاعری|Doc.Moeen Nizami

  

خلیج




اے مجھ سے مل کے اپنے خول میں گھسنے کی کوشش کرنے والو

 

اے حسیں  لوگو

 

اے دل کے درد سے ناآشنا ، دل کے قریں لوگو

مجھے لگتا ہے تم سے مل کے اکثر یوں

کہ جیسے اس کرے پر  اب ا کیلامیں ہی خاکی رہ گیاہوں

 

اور کرلاتی ہوئی  اک کونج کے مانندتنہا ہوں

بجز میرے نہیں ہے  کو ئی داغ اس ڈولتی ،ا جلی ،دھلی د نیا کے دامن پر

 ز میں پراب نہیں ہے کوئی فرزندز میں ،لوگو

اگر چہ تم ہو ،لیکن تم

مگن اپنی اڑانوں میں،سر عرش بریں ،لوگو

بسیرا ہے تمھاراتو تمناؤں کی شہد وشیر جنت میں

ہوس کے لہلہاتے سبزہ و گل میں

طلب کے حوض کوثر پر

جہاں کی خبر یں ہم جیسوں کی قسمت میں نہیں


اے باہنر اور بے یقیں لوگو

تمھاری ذات کی گہرائیوں ، پہنائیوں کے پیچ و خم کی

سب تہوں کی ،سارے پرتوں کی

نہیں کوئی خبر ہم کو

گلاب و یاسمیں لوگو

تمھارےدل کی نامعلوم برف آلود جھیلوں پر

نہ جانے رقص کرتے ابر پاروں کے غزالوں کا

 

نہ جانے نیلے نیلے آسماں کی بھولی بھالی وسعتوں کا حسن کیسا ہے

 خدا جانے تمھارے دل کے کو ہ بیستوں کی گھاٹیوں میں

کتنی نا دریا فت غاریں ہیں

اور ان غاروں میں لوح سنگ خارا پر

خط میخی میں ،کن عہدوں کی رنگ ونور سے معمور تاریخیں

معلق ہیں ، محجر ہیں

بظاہر ریشمیں لوگو

تم اکثر غیبتوں کی عینکیں آنکھوں پہ رکھے

تہمتوں کی خر دبینیں ہاتھ میں لے کر

تعصب کی  سلگتی دھوپ میں بیٹھے ہوے ہوتے ہو

چاے پیتے ،اخباروں، رسالوں کی ورق گردانی کرتے

اور صدق دل سے گپیں ہانکتے ہو

 آفتابی بیٹھکوں میں بات چلتی ہے

تصوف پر ،ادب پر ،جنس پر ،مہنگائی پر ،اشیا کی قلت پر

 مقامی اور آفاقی سیاست پر

خلیجی پانیوں کے پیٹ میں پڑتے مروڑوں پر

معیشت کی رگوں میں دوڑ نے والے زرسیال کے نایاب ہوجانے پر

اوراس کے عواقب پر

جہان سرخ کے ایوان خاص الخاص کے گرتے ستونوں پر

کسی مقبول چہرے کے کسی تازہ Scandalپر

نئےتجویز ہونےوالےتنخواہوں کے کچھ بہتر سکیلوں پر

کسی ساتھی کے Move-overپہ،یا اس کی Promotion پہ

یا حکام بالا کے کسی Notification پر

ملازم پیشگی کی تیس یا  بتیس سالہ ذلتوں کے اس زیان معنوی پر

جوضمیروں کی مشینوں کو تلافی کا کبھی موقع نہیں دیتا

تمھاری گفتگوؤں میں تو Homosexual Relationing    پر

یورپی دانش وروں کی تازہ تحقیقات کے فضلے بھی ہوتے ہیں

کفایت میں مہارت نے

مروت کے مروج سلسلوں سے بھی تمھیں محفوظ رکھا ہے

بچت میں جو ید بیضاخدا نے تم کو دے رکھا ہے

 اس کو دیکھ کر مجھ کو تمھارےہاتھ پر بیعت کی خواہش ہے

تکلف اورتصنع میں تخصص کی فضیلت نے

تمھیں کذب و  ریا اور کبرو نخوت  کی جو یہ دولت عطا کی ہے

تواب تم حق  بہ جانب ہو

زباں کی تیزیوں کے جوہروں میں جینے والو ،تم فرشتےہو

 

مگر لگتا جیسےگرگ باراں دیدہ ہواورگھات میں ہو تم

 

عیوب دیگراں کی جستجو میں

 

نکتہ چیں لوگو

سر دشت جہالت ہوکسی بھائی کی سوکھی لاش کی شہ رگ چبا لینے کے درپے

اے پڑھے لکھے ،ذ ہیں لوگو

تمھیں مردارخوری سے ذرا بھی گھن نہیں آتی

اے  مار آستیں لوگو میں

میں Etiquette سے واقف نہیں ہوں جانتا ہوں میں

میں اپنانے کو یہ آداب اپنالوں

مگر مجھ میں یہ  اہلیت نہیں

افسوس ہے ، مجھ میں ،مرے دل میں

کسی کے عیب کو Enjoy کرنے کی صلاحیت نہیں کوئی

میں دانش ور نہیں ہوں

میں فقیر بے نوا، درویش بے مایہ ہوں

ان وصفوں سے عاری ہے مری طبع حزیں ،لوگو

مجھے اس بار خاطر دل کی

 

ایسی خشکیوں ،نااہلیوں ،کم  ظرفیوں ،بدذوقیوں پر سخت  احساس ندامت ہے

تمھیں جن سے شکایت ہے

حقیقت ہے تمھاری طبع نازک کی پریشانی کا سنگیں سانحہ

میرے لیے وجہ اذیت ہے

اے میرے ہم نشیں لوگو

 

مگراب میں

 بہت کالے پہاڑوں میں گھرے

اس سرخ مٹی والے قصبے میں

 

تمھارے دائرے میں آ گیا ہوں

 پیٹ کے دوزخ کو بھرنے کے لیے

چلتی ہوئی چکی کے جابر چکروں میں پستے پستے

اب تمھارے راستے میں آ گیا ہوں میں

 تمھارے راستے میں ہوں ،مگر پتھر نہیں ہوں میں

 

 

 

مرا تلخا بہ جاں بھی گوارا ہوکبھی

اے انگبیں لوگو

 

مرے سینے کی سل، جو خاندان سنگ اسود سے ہے

اس کے نیچے سچ مچ ایک دل ہے، جو دھڑکتا ہے

 

جسے اندازہ ہوجاتا ہے

 

جشن ہاو ہو میں ایک تحقیرانہ خاموشی  کا اور بےاعتنائی  کا

کسی یخ بستہ ماتھے پرشکن بن کر چمکتی کم نگاہی کا

جسے اندازہ ہوجاتا ہے میری اور اپنی سبکیوں کا

 

دل سیانا ہے ،سمجھتا ہے

 

کہ بعض اوقات ان باتوں میں نادانستگی  کی کارفرمائی بھی ممکن ہے

مگر بے رنگ خاموشی اسے تکلیف دیتی ہے

 

وہ پاگل پن سے روپڑ تا ہے ،محفل میں ، وہیں ،لوگو

 

سدا آپس میں پھولوں کی طرح ہنستے رہو،خندہ جبیں لوگو

کبھی تم کو نہ دیکھیں روزوشب اند وہ گیں لوگو

مجھے آئینہ کاری ،رنگ ریزی ،لفظ سازی ،شعر بازی ،خوش نوائی ،خوش ادائی کا ہنر آتا نہیں ہے

 

اور نہ میں آب  و گل جذبات سے کوزہ گری کے فن کی باریکی سمجھتا ہوں

 

مرے رنگوں کو ،لفظوں کو صدا جانو

 

یہ بے سامانی دل ہے ، اسے حسن طلب سمجھو

 

اور ان سطروں کے پھیلے ہاتھ کے خالی مقدرکو

 

مرا کشکول دریوزه گری کہ لو

 

تمھیں یا پھر تمھارے Bank balance کو

 

خدا اس کو فزونی در فزونی دے

 

بھلا کیا فرق پڑ جائے گا کچھ خیرات کرنے سے

 

کہو ، کچھ بھی نہیں ،لوگو

 

دلوں کے آنگنوں میں ، روح کے تازہ لہو پر پلنے والی

سونے چاندی کی امر بیلوں کے اندھے خوشہ چیں لوگو

 

تمھارے ،خیر کے گھٹتے ذخائر کو

 

اس اک سرسبز نیکی کے صلے میں

 

جانے کیا کیا کچھ ملے گا

ہاں تمھاری سود میں پروان چڑھتی سوچ کی سطحوں کو

 

اس کا کچھ بھی اندازہ نہیں ہو

کبھی دوبول چاہت کے

 

کبھی اک دل رباسی مسکراہٹ ہی

 

کبھی، اس وقت کے ریلے کے ازخو درفتہ بھنوروں میں

 

اگر مل جاؤں میں تم کوکہیں ،لوگو

 

اے مجھ سے مل کے اپنے خول میں گھسنے کی کوشش کرنے والو

اے حسیں لوگو

انتخاب صبا قیصر


مجموعہ:تجسیم



خلیج از ڈاکٹر معین نظامی / شعروشاعری|Doc.Moeen Nizami




معین نظامی 


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

دستور نظم حبیب جالب||dastoor habib jalib||habib jalib main nahi manta

فیلڈ مارشل ایوب خان نے 1962 میں ایک آئین نافذ کیا   جو فرد واحد کے اقتدار کو بچانے اور اس کی طاقت کے دوام کے لیے نافذ کیا گیا تھا ۔اس آئین کے جواب میں حبیب جالب ؔ جو شاعر عوام و جمہور تھے  اور محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے تھے  نظم ’’ دستور ‘‘ لکھی   یہ نظم اس دور میں اتنی مقبول ہوئی کہ کسی نے ایوب خان سے کہا ’’ تمھارا  آئین  نافذ نہیں  ہو سکا ایک کمرے میں رہنے والا  ایک غریب سا شاعر اس آئین سے جیت گیا ہے  ‘‘ یہ نظم آج بھی ظلم و جبر اور انسانی آوازوں کے دبانے پر یاد کی جاتی ہے یہ  جمہور کی آزادی اور مزاحمت کا استعارہ ہے ۔ نظم پڑھیں دستور حبیب جالب دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا Deep jis ka mehlaat hi mein jale Chand logon ki khushiyon ko le kar chale Woh jo saaye mein har maslihat ke pale Aise dastoor ko subah be-noor ko Main nahin m...

تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations

   لیکچر نمبر:۶ تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی  مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations ڈاکٹر محمد قمر اقبال کا حضرت اقبال کی تصنیفات پر مفصل اور تحقیقی لیکچر  علامہ اقبال کی مشہور تصانیف تصانیف اقبال کا تعارف ۲۴۔اکتوبر ۲۰۲۱ء بزم فکر  اقبال پاکستان کے صدر جناب  پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال نے ۲۴۔ اکتوبر کو اقبال کی تصنیفات کے بارے میں ایک مبسوط لیکچر فراہم کیا جس میں اقبال کی تصنیفات کو ان کے سال اشاعت کی ترتیب سے شرکاء  کے گوش گزار کیا گیا۔یہ لیکچر معلوماتی سطح کا تھا فکر اقبال کے طالب علموں کو اقبال کی  فکر کے سرچشموں سے کماحقہ  آگاہ ہونا چاہیے اوریہ لیکچر اس سلسلے میں بھر پور معاونت فراہم کرتا ہے اقبال کی شاعری کی کتب ،نثری کتب ،تراجم اوران کے بعد مرتبہ کتب جو ان کی وفات کے بعد اکٹھی کی گئیں سب اس لیکچر میں جمع کر دی گئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی حوالہ جاتی کتب بھی قارئین کو لکھوا دی گئی ہیں اپنے مشمولات کے لحاظ سے یہ لیکچر کافی اہم ہے جس میں اقبال کی کتابیات تیار ہو گئی ہے ۔ڈاک...

himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب

غزل ہمانشی بابرہ himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب  لوگ تو لوگ ہیں لوگوں کی طرح دیکھتے ہیں ایک ہم ہیں اسے بچوں کی طرح دیکھتے ہیں   ہم کو دنیا نے لکڑ ہارا سمجھ رکھا ہے ہم تو پیڑوں کو پرندوں کی طرح دیکھتے ہیں   تم تو پھر غیر ہو تم سے تو پھر شکایت کیسی میرے اپنے مجھے غیروں کی طرح دیکھتے ہیں تیرا دیدار قضا ہوتا نہیں ہے ہم سے ہم تجھے دیکھنے والوں کی طرح دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل   میری خوشبو کو ہواؤں میں اڑانے والا لوٹ  کے آیا نہیں چھوڑ  کے جانے والا   پیار کے ساتھ مجھے طعنے دیا کرتا ہے  تجھ میں بھی رنگ ہے کچھ کچھ زمانے والا   ایسے بچھڑا ہے کہ ملنے کی  دعا کرتا ہے ہر ملاقات پہ منہ پھیرکے  جانے والا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   غزل     ساتھ دینے کا دلایا تھا بھروسا تونے اور پھر چھوڑ دیا مجھ کو اکیلا تو نے   اپنی مرضی سے مجھے چھوڑ کے جانے والے میری مرضی کو کہاں چھوڑ دیا تھا تو نے    بات رخسار کی ہوتی تو کوئی بات نہ تھی آج تو روح پہ مارا ہے تمانچا    تو نے   ...

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...

2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری

  اٹھا عجب تضاد سے انسان کا خمیر عادی فنا کا تھا    تو پجاری بقا کا تھا احمد ندیم قاسمی Utha ajab tazad se insan    ka khameer Adi fana ka tha to pujari baqa ka tha Ahmad Nadeem  Qasmi اداسیوں کا سبب کیا    کہیں بجز اس کے یہ زندگی ہے پریشانیاں    تو ہوتی ہیں احمد فراز Udasion ka sabab kia kahin bajuz is ky Ye zindagi hai preshanian to hoti hain Ahmad Faraz خود کو ترتیب دیا از سرِ نو زندگی میں ترا انکار بہت کام آیا Khud ko tarteeb dia az sar-e-nau Zindagi main tira inkar bht kam aya مرنا تو اس جہاں میں کوئی حادثہ نہیں اس دور ِ ناگوار میں جینا کمال ہے حسنی Marna to is jahan main koi hadsa nhi Is dor-e-Nagawar main jeena  kamal hai 2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری