خلیج
اے مجھ سے مل کے اپنے خول میں گھسنے کی کوشش کرنے والو
اے حسیں لوگو
اے دل کے درد سے ناآشنا ، دل کے قریں لوگو
مجھے لگتا ہے تم سے مل کے اکثر یوں
کہ جیسے اس کرے پر اب ا کیلامیں ہی خاکی رہ گیاہوں
اور کرلاتی ہوئی اک کونج کے مانندتنہا ہوں
بجز میرے نہیں ہے کو ئی داغ اس ڈولتی ،ا جلی ،دھلی د نیا کے دامن پر
ز میں پراب نہیں ہے کوئی فرزندز میں ،لوگو
اگر چہ تم ہو ،لیکن تم
مگن اپنی اڑانوں میں،سر عرش بریں ،لوگو
بسیرا ہے تمھاراتو تمناؤں کی شہد وشیر جنت میں
ہوس کے لہلہاتے سبزہ و گل میں
طلب کے حوض کوثر پر
جہاں کی خبر یں ہم جیسوں کی قسمت میں نہیں
اے باہنر اور بے یقیں لوگو
تمھاری ذات کی گہرائیوں ، پہنائیوں کے پیچ و خم کی
سب تہوں کی ،سارے پرتوں کی
نہیں کوئی خبر ہم کو
گلاب و یاسمیں لوگو
تمھارےدل کی نامعلوم برف آلود جھیلوں پر
نہ جانے رقص کرتے ابر پاروں کے غزالوں کا
نہ جانے نیلے نیلے آسماں کی بھولی بھالی وسعتوں کا حسن کیسا ہے
خدا جانے تمھارے دل کے کو ہ بیستوں کی گھاٹیوں میں
کتنی نا دریا فت غاریں ہیں
اور ان غاروں میں لوح سنگ خارا پر
خط میخی میں ،کن عہدوں کی رنگ ونور سے معمور تاریخیں
معلق ہیں ، محجر ہیں
بظاہر ریشمیں لوگو
تم اکثر غیبتوں کی عینکیں آنکھوں پہ رکھے
تہمتوں کی خر دبینیں ہاتھ میں لے کر
تعصب کی سلگتی دھوپ میں بیٹھے ہوے ہوتے ہو
چاے پیتے ،اخباروں، رسالوں کی ورق گردانی کرتے
اور صدق دل سے گپیں ہانکتے ہو
آفتابی بیٹھکوں میں بات چلتی ہے
تصوف پر ،ادب پر ،جنس پر ،مہنگائی پر ،اشیا کی قلت پر
مقامی اور آفاقی سیاست پر
خلیجی پانیوں کے پیٹ میں پڑتے مروڑوں پر
معیشت کی رگوں میں دوڑ نے والے زرسیال کے نایاب ہوجانے پر
اوراس کے عواقب پر
جہان سرخ کے ایوان خاص الخاص کے گرتے ستونوں پر
کسی مقبول چہرے کے کسی تازہ Scandalپر
نئےتجویز ہونےوالےتنخواہوں کے کچھ بہتر سکیلوں پر
کسی ساتھی کے Move-overپہ،یا اس کی Promotion پہ
یا حکام بالا کے کسی Notification پر
ملازم پیشگی کی تیس یا بتیس سالہ ذلتوں کے اس زیان معنوی پر
جوضمیروں کی مشینوں کو تلافی کا کبھی موقع نہیں دیتا
تمھاری گفتگوؤں میں تو Homosexual Relationing پر
یورپی دانش وروں کی تازہ تحقیقات کے فضلے بھی ہوتے ہیں
کفایت میں مہارت نے
مروت کے مروج سلسلوں سے بھی تمھیں محفوظ رکھا ہے
بچت میں جو ید بیضاخدا نے تم کو دے رکھا ہے
اس کو دیکھ کر مجھ کو تمھارےہاتھ پر بیعت کی خواہش ہے
تکلف اورتصنع میں تخصص کی فضیلت نے
تمھیں کذب و ریا اور کبرو نخوت کی جو یہ دولت عطا کی ہے
تواب تم حق بہ جانب ہو
زباں کی تیزیوں کے جوہروں میں جینے والو ،تم فرشتےہو
مگر لگتا جیسےگرگ باراں دیدہ ہواورگھات میں ہو تم
عیوب دیگراں کی جستجو میں
نکتہ چیں لوگو
سر دشت جہالت ہوکسی بھائی کی سوکھی لاش کی شہ رگ چبا لینے کے درپے
اے پڑھے لکھے ،ذ ہیں لوگو
تمھیں مردارخوری سے ذرا بھی گھن نہیں آتی
اے مار آستیں لوگو میں
میں Etiquette سے واقف نہیں ہوں جانتا ہوں میں
میں اپنانے کو یہ آداب اپنالوں
مگر مجھ میں یہ اہلیت نہیں
افسوس ہے ، مجھ میں ،مرے دل میں
کسی کے عیب کو Enjoy کرنے کی صلاحیت نہیں کوئی
میں دانش ور نہیں ہوں
میں فقیر بے نوا، درویش بے مایہ ہوں
ان وصفوں سے عاری ہے مری طبع حزیں ،لوگو
مجھے اس بار خاطر دل کی
ایسی خشکیوں ،نااہلیوں ،کم ظرفیوں ،بدذوقیوں پر سخت احساس ندامت ہے
تمھیں جن سے شکایت ہے
حقیقت ہے تمھاری طبع نازک کی پریشانی کا سنگیں سانحہ
میرے لیے وجہ اذیت ہے
اے میرے ہم نشیں لوگو
مگراب میں
بہت کالے پہاڑوں میں گھرے
اس سرخ مٹی والے قصبے میں
تمھارے دائرے میں آ گیا ہوں
پیٹ کے دوزخ کو بھرنے کے لیے
چلتی ہوئی چکی کے جابر چکروں میں پستے پستے
اب تمھارے راستے میں آ گیا ہوں میں
تمھارے راستے میں ہوں ،مگر پتھر نہیں ہوں میں
مرا تلخا بہ جاں بھی گوارا ہوکبھی
اے انگبیں لوگو
مرے سینے کی سل، جو خاندان سنگ اسود سے ہے
اس کے نیچے سچ مچ ایک دل ہے، جو دھڑکتا ہے
جسے اندازہ ہوجاتا ہے
جشن ہاو ہو میں ایک تحقیرانہ خاموشی کا اور بےاعتنائی کا
کسی یخ بستہ ماتھے پرشکن بن کر چمکتی کم نگاہی کا
جسے اندازہ ہوجاتا ہے میری اور اپنی سبکیوں کا
دل سیانا ہے ،سمجھتا ہے
کہ بعض اوقات ان باتوں میں نادانستگی کی کارفرمائی بھی ممکن ہے
مگر بے رنگ خاموشی اسے تکلیف دیتی ہے
وہ پاگل پن سے روپڑ تا ہے ،محفل میں ، وہیں ،لوگو
سدا آپس میں پھولوں کی طرح ہنستے رہو،خندہ جبیں لوگو
کبھی تم کو نہ دیکھیں روزوشب اند وہ گیں لوگو
مجھے آئینہ کاری ،رنگ ریزی ،لفظ سازی ،شعر بازی ،خوش نوائی ،خوش ادائی کا ہنر آتا نہیں ہے
اور نہ میں آب و گل جذبات سے کوزہ گری کے فن کی باریکی سمجھتا ہوں
مرے رنگوں کو ،لفظوں کو صدا جانو
یہ بے سامانی دل ہے ، اسے حسن طلب سمجھو
اور ان سطروں کے پھیلے ہاتھ کے خالی مقدرکو
مرا کشکول دریوزه گری کہ لو
تمھیں یا پھر تمھارے Bank balance کو
خدا اس کو فزونی در فزونی دے
بھلا کیا فرق پڑ جائے گا کچھ خیرات کرنے سے
کہو ، کچھ بھی نہیں ،لوگو
دلوں کے آنگنوں میں ، روح کے تازہ لہو پر پلنے والی
سونے چاندی کی امر بیلوں کے اندھے خوشہ چیں لوگو
تمھارے ،خیر کے گھٹتے ذخائر کو
اس اک سرسبز نیکی کے صلے میں
جانے کیا کیا کچھ ملے گا
ہاں تمھاری سود میں پروان چڑھتی سوچ کی سطحوں کو
اس کا کچھ بھی اندازہ نہیں ہو
کبھی دوبول چاہت کے
کبھی اک دل رباسی مسکراہٹ ہی
کبھی، اس وقت کے ریلے کے ازخو درفتہ بھنوروں میں
اگر مل جاؤں میں تم کوکہیں ،لوگو
اے مجھ سے مل کے اپنے خول میں گھسنے کی کوشش کرنے والو
اے حسیں لوگو
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں