یہ کہانی پھر سہی
مختار یوسفی
مالیگاؤں
ہم کو کس نے جم کے مارا یہ کہانی پھر سہی
کس نے پھوڑا سر ہمارا یہ کہانی پھر سہی
درد جب غزلیں سنانے کا اٹھا کل رات کو
'' ہم نے کس کس کو پکارا یہ کہانی پھر سہی''
لڑ رہی تھیں بی پڑوسن آج بیگم سے مری
''کون جیتا کون ہارا یہ کہانی پھر سہی ''
جوتے کھا کر اس گلی میں پھر بھی جانا دوستو
کیوں کیا ہم نے گوارا یہ کہانی پھر سہی
آتے ہی مس کال اس کا شور اٹھا بزم میں
وہ ہے ''میرڈ'' تو کنوارا یہ کہانی پھرسہی
چوری چوری چپکے چپکے جھانکنا کھڑکی سے روز
کون کرتا ہے اشارہ یہ کہانی پھر سہی
سارے لیڈر بند ہیں چمچے بھی سب خاموش ہیں
کیسے ہوگا اب گذارا یہ کہانی پھر سہی
کیابتائیں دوست اپنے دوستی کے نام پر
چل دیئے کر کے خسارہ یہ کہانی پھر سہی کیوں
کیوں بتائیں ہم کہ بیگم ان کی ہیں گوبھی کا پھول
اور مسٹر ہیں چھوہارا یہ کہانی پھر سہی
کر دیا مختارؔ کو بھی گھر سے بے گھر آپ نے
کون دے گا اب سہارا یہ کہانی پھر سہی
مشمولہ :ماہ نامہ شگوفہ ؛حیدرآباد ،شمارہ مارچ ۲۰۲۲ء
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں