ٹی وی پر اک بندر آیا
دیکھو دیکھو اینکر آیا
ٹی وی پر اک بندر آیا
روپ بدل کر جوکر آیا
لے کر الجھے منظر آیا
خالی بھیجا اک سر آیا
خبریں لے کر ولگر آیا
ٹی وی پر اک بندر آیا
جیسے جیسے منہ کھولے گا
آپ سے تم ،پھر تو بولے گا
منہ میں خاک اور خوں رولے گا
جھوٹ پہ سچ کو وہ تو لے گا
کرنے پھر سے ٹر ٹر آیا
دیکھو دیکھو اینکر آیا
ٹی وی پر اک بندر آیا
فتوٰی ہے غدار ہیں ہم بھی
بلوا ہے مکار ہیں ہم بھی
بکوا دہشت کار ہیں ہم بھی
لقوا ہے بیمار ہیں ہم بھی
کتنا لچا لائر آیا
دیکھو دیکھو اینکرآیا
ٹی وی پر اک بندر آیا
جھوٹے نعرے گھڑنے والا
سب سے ہر دم لڑنے والا
بھڑنے اور جھگڑنے والا
بد بوؤں سے سڑنے والا
ٹی وی پر اک مہتر آیا
دیکھو دیکھو اینکر آیا
ٹی وی پر اک بندر آیا
بھائی بھائی کا دشمن ہے
بکھرا بکھرا گھر آنگن ہے
ہم پہ مسلط یہ راون ہے
جگ میں رسوا ہائے وطن ہے
منہ میں کیچڑ بھر کر آیا
دیکھو دیکھو اینکر آیا
ٹی وی پر اک بندر آیا
بینک بھی لوٹو بینکر چپ ہےملک بھی لوٹو لیڈر چپ ہے
شہر جلا دو رہبر چپ ہے
قہر بڑھا دو اینکر چپ ہے
سچائی میں سنسر آیا
دیکھو دیکھو اینکر آیا
ٹی وی پر اک بندر آیا
شاعر :نعیم جاوید
نظم مشمولہ :ماہنامہ شگوفہ [حیدرآباد دکن]؛شمارہ مارچ ۲۰۲۲ء ،ص۶۴

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں