اقامہ
نعیم جاوید
( عرب ممالک کا عارضی رہائشی اجازت نامہ )
چلے ہو عرب کو خرامه خرامه
یہاں کی ضرورت ہے تازہ اقامہ
مسافر کا خالو نہ پھو پا نه ماما
اقامه اقامه اقامه اقامه
محبت سے رکھیو اسے زیر جامہ
کلیجے سے رکھیو لگا کر اقامہ
ہو ، چاہے اسامہ یا چاہے ابامہ
بچا اک وہی جو بچائے اقامہ
جو سیدھا چلو تو ہے عجوہ کھجور یں
ذرا چال بگڑی دمادم غرامہ
یہ سم سم کا منتر بچا جس نے تھاما
اقامه اقامه اقامه اقامه
▼
اسے بھولنے کی نہ کرنا حماقت
یہی اسم اعظم ، یہی ہےضمانت
یہ بھیجے کی ٹھنڈک کلیجے کی راحت
اسے بھولنے پر مقدر حجامت
سنو مجھ سے یارو بھلکڑ کی درگت
پولیس کی سواری، پولیس کی ضیافت
پکاروگے چلا کے اماں بچا ماں
شرابور ہو جاۓ چپ چاپ جامہ
▼
( ٹرافک سگنل پر جرمانوں کا ذکر )
یہاں چھپ کے تاڑے کہ ظالم حسینہ
ہنسے آنکھ مارے عجب ہے قرینہ
بھگوڑوں کی بھگدڑ سے ہے اس کو کینہ
بچے اس سے حاجی نہ پاجی کمینہ
چمک اس کی انگڑائی بجلی ہے سینہ
بچت کا تمھارا ڈبودے سفینہ
وہ شوخی سے بھتہ لے ہفتہ مہینہ
کھرے نوٹ جائیں گے سیدھے غمامہ
کفایت کا منتر سلامت سلامہ
اقامه اقامه اقامه اقامه
▼
یہاں صبح دم سب کو سورج اٹھادے
مدیروں ،مریدوں کو یکساں جگادے
الارم کی ٹک ٹک بھی نندیا اڑادے
کلیجہ چبا دے یا بھیجا بھنا دے
نہ حیلہ بچاۓ نہ چکمہ پناہ دے
کئی سرغنے یاں ہوۓ سیدھے سادے
رکھو سر پہ تانے چمکتا عمامہ
اقامه اقامه اقامه اقامه
▼
سگھڑ بے کے جینے کا ارمان کرلو
اچاروں وچاروں کے سامان کرلو
پروسو، رسوئی میں پکوان کرلو
گنی بن کے جیون کو گنوان کرلو
تکبر کے ٹیلے کو ڈھلوان کرلو
مزاجوں کی وحشت کو انسان کرلو
سنو وہ جو کہتا ہے'' نفس لوامہ''
کہو خود کو مالک ہو خادم خدامه
▼
یہ صحرا مزاجی ہیں دیوانی ہنڈی
دماغوں کی گرمی ،مزاجوں کی ٹھنڈی
عرب میں عجم یا کوئی تھائی لینڈی
چمن ہے سراپا کوئی صرف ڈنڈی
یہ صد رنگ چہرے بدن اور منڈی
ہیرو ایک ہی اور الگ سب کی گنڈی
اب ہر سال بدلے محبت کا نامہ
غریبی کے پھوڑوں کا تنہا حجامہ
▼
نہ ہو پاس گر تو نہ بینک بولتا ہے
نہ بجلی، نہ پانی نہ گھر کھولتا ہے
نہ گاڑی ،موبائیل کا بل بولتا ہے
نہ نرسیں، نہ سرجن بھی دل کھولتا ہے
نہ کوئی جہاز اپنے پر تولتا ہے
نہ ڈگری، نہ عہدہ،نہ زر بولتا ہے
بھلے تم ہو رستم و طرم و و گاما
اقامه اقامه اقامه اقامہ
▼
کفیلوں کے ڈربے کا مرغ مسلم
رفیقوں کی جیبوں میں سلگا ہوا بم
غریبی کے داغوں کا پھاہاو مرہم
نکالے بڑے حل یہ دینار و درہم
پھٹی خستکوں کا رفو ہے یہ ہمدم
اقامہ جو کھودو تو شادی ہو ماتم
یہ ناڑا نہ ہو تو کہاں ہو Pajama
اقامه اقامه اقامه اقامه
ہو شادی تو بارات مستی نہ بھنگڑا
یہیں سے ملے سب کو داماد تگڑا
نہ ساس اور بہوکا نہ سوکن کا لفڑا
لو جھٹلائیں کیسے گھڑیں عذر لنگڑا
ہو چولھے کی ہڑتال، بیگم سے جھگڑا
تو کھالینا مندی یا پیزا یا رگڑا
گرہستی کو جنت بنادے گا خامہ
نہ کوئی فل اسٹاپ، کولن نہ کاما
▼
یہاں تم سفیرو وقار وطن ہو
پرندے مہاجر بہار چمن ہو
مہاجر پرندو بہار چمن ہو
مسافر پڑاؤ پہ کیوں طعنہ زن ہو
امانت، کفایت تمہارا چلن ہو
سروں پر تمہارے دعاوں کا گگن ہو
ہنر کا ہمالہ ہو،فخرے وطن ہو
کھرے بن کے جینا نہ کرنا ڈراما

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں