ڈاکوؤں سے انٹر ویو

ڈاکوؤں سے انٹر ویو مزاحیہ شاعری از راجا مہدی علی خان||urdu funny poetry
راجا مہدی علی خان

جی اس بندے کو ویسے تو ابو داؤد کہتے ہیں
بہت سے مہربان لیکن ابو المردود کہتے ہیں
میرے والد فریاد آباد کے مشہور ڈاکو تھے
خدا بخشے انہیں اپنے زمانے کے ہلاکو تھے
فرنکابا د کا تھا نا میرے نانا نے لوٹا تھا
وہ گیارہ سیر کا تالا اسی بندے سے ٹوٹا تھا!
نہیں تھا چور کوئی شہر میں دادا کے پاۓ کا
چرا کر گھر میں لے آۓ تھے کتا وائسراے کا
میرے ماموں کے جعلی نوٹ امریکا میں چلتے تھے
ہزاروں چور ڈاکو ان کی نگرانی میں پلتے تھے!
میرے پھوپھا چھٹے بدمعاش تھے اپنے زمانے کے
خدا بخشے بہت شوقین تھے وہ جیل خانے کے
میرے خالو کبھی نیویارک میں جیبیں کترتے تھے
لب ساحل وہ گیارہ عورتوں سے عشق کرتے تھے
لکڑنانا ولی اللہ تھے سونا بناتے تھے!
حسین بیواؤں کو رو رو کے سینے سے لگاتے تھے
خسر صاحب سخاوت پور کی رانی بھگا لاۓ !
میرے ہم زلف اس کی تین بہنوں کو اٹھالاۓ
چچا میرے بہت مشہور تھے فن رذالت میں
مقدمہ ہار کر وہ ننگے ناچے تھے عدالت میں
میرے بھائی نے کی تھی فورٹونٹی چیف جسٹس سے
وو جب بگڑا جلا دیں اس کی مونچھیں اپنی ماچس سے
بڑے وہ لوگ تھے لیکن یہ بندہ بھی نہیں کچھ کم
خدا کا فضل ہے مجھ پر نہیں مجھ کو بھی کوئی غم
اجازت ہو تو اب بندہ اشارے ہی اشارے میں
بتا دے آپ کو تفصیل سے کچھ اپنے بارے میں
میں راجوں اور مہاراجوں کی جیبیں بھی کترتا تھا
چرس کوکین اور افیون کا دھندا بھی کرتا تھا
میرے معمولی شاگردوں نے چودہ بینک لوٹے تھے
میری کوشش سے باعزت بری ہو کر وہ چھوٹے تھے
عدالت مانتی تھی میری قانونی دلیلوں کو
کرایا میں نے اندر شہر کے پندرہ وکیلوں کو!
مسافر تین عدد پھینکے تھے ایروپلین سے میں نے
ہوا بازوں کو بھی پیٹا تھا جاکر کین سے میں نے
اٹھارہ ڈاکوؤں کی گھڑیاں میں نے اتاری تھیں
کمرسے تھوڑا نیچے ٹھوکر یں بھی ان کے ماری تھیں
نہ انکم ٹیکس دیتا تھا نہ سوپر ٹیکس دیتا تھا!
میں الٹا اپنی سب انکم پہ ان سے ٹیکس لیتا تھا
جو دن میں نے گزارے شان و شوکت سے گزارے ہیں
ذرا کچھ ان دنوں ہی میرے گردش میں ستارے ہیں
مجھے کر لیں جو شامل چوریوں میں اور ڈاکوں میں
یقینا چند دن میں آپ سب کھیلیں گے لاکھوں میں
بڑا ہی میں سور کا ... بس جی بس آگے نہ کچھ کہئے!
اب اپنا فیصلہ ہم کر چکے ہیں مطمئن رہیے
فسانے آپ کے سن کر لبوں پر آ گیا ہے ہم
بہت حیران ہیں اب آپ کی خدمت کر یں کیا ہم
چلو بھا گو یہاں سے یہ تو اپنا باپ آیا ہے
یہ اک دن لوٹ لے گا ہم نے جو کچھ بھی کمایا ہے
آپ مزید پڑھ سکتے ہیں:
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں