صبح کاذب
ہمیں گہری نیندوں سے فرصت نہیں
بے صداد یوتاؤں کی پوجا سے
ہم تھک چکے ہیں!
مری آنکھ تاریکیوں سے الجھ کر
اچا نک کھلی ہے۔۔۔۔
خلاؤں کی اندھی ضیا پوش رنگینیاں
کہ اجالوں کے کتبوں کی سنگینیاں
کون ذرے کے پھیلاؤ کا جوگ ہیں؟
پتلیوں کو گھما کر تو دیکھو
کہ کالے شگافوں میں
شمسی نظاموں کے افتاں و خیزاں
کئی قافلے گر چکے ہیں!
زمیں کے فسوں ساز نخشب
قیامت به کف
حیرتوں کی کرامات پر
داد پانے لگے ہیں!
عجائب غرائب کی تخلیق سے مست ہو کر
خدائی کا جادو چلانے لگے ہیں !
ہماری نمو یا فتہ شستگی نے
تعیش کے آراستہ طاقچوں پہ
فسادات و آفات کےبت سجاۓ
کہیں قحط ہے تو کہیں بھوک ہے
آ ووزاری کہیں تو کہیں ہوک ہے
کہیں بھول ہے تو کہیں چوک ہے
نرالی بہشتوں سے مسحور
انساں کو معلوم ہوگا کہ
اپنے بناۓ اندھیروں کی بارودی دلدل سے
بچنے کا ساماں نہیں !
ہماری کمر بستہ آبادیاں
منزلیں مارنے کے بہانے
سراسیمہ قربانیاں دے رہی ہیں
گھٹاٹوپ چاندوں سے عاجز
نئے دیوتا موت کی جستجو میں جٹے
چا ہ ظلمات میں غرق ہونے کو ہیں !
مری سوچ باطل ہے
میں سوچتا ہوں
مری دسترس میں کوئی شے نہیں ہے
کہ میں کھوکھلا زردشیشے کا بت ہوں!

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں