نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

محسن کش قوم اور ہیروز کی تضحیک|Shoib Akhtar & Doc Abdul Qadeer Khan

محسن کش قوم اور ہیروز کی تضحیک
 محسن کش قوم اور ہیروز کی تضحیک|Shoib Akhtar & Doc Abdul Qadeer Khan 

 


 

محسن کش قوم اور ہیروز کی تضحیک

ہم اس قوم سے تعلق رکھتے ہیں جو کئی صدیوں سے  ادھارے ہیروز پہ چل رہے ہیں کبھی کسی افغان کو پل وقتی ہیرو بنا کے ہندؤں کو نیچا دکھا لیتے ہیں اور کبھی کسی سمندر پار اپنے مسلمان بھائی کو ہی لے کر بغلیں بجاتے ہیں  لیکن اپنے خطے اور اس قوم کے ہیروز کو عزت نہیں  دے سکے ۔۔۔۔مستعار دماغوں اور احساس کمتری کے شکار لوگوں  سے  یہی بعید تھا کہ ان سے اپنے خون اور مٹی سے جڑے ہیرو کبھی برداشت نہ ہو سکے  انھی بونوں نے نواب سراج الدولہ  کو پلاسی میں شکست دلوائی اور  اس کے خاندان کو دریا برد کروایا  اور جب ٹیپو سلطان گورے اور ہندوستان کے درمیان ایک رکاوٹ بنا ہوا تھا اس کی پیٹھ میں بھی چھرا گھونپنے والے یہی بونے تھے ۔۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کو  اس قوم نے غداری مان لیا اور  سو سال زخم چاٹتی رہی ۔۔۔۔غلامی میں ہمیشہ سے خوش رہنے والی قوم نے اپنے ہیروز کو کبھی یاد تک نہ کیا انھی نظر انداز کیے گئے ہیروز میں رائے احمد خان کھرل کا نام بھی آتا ہے جو ساندل بار سے تعلق رکھتے تھے اور گورے کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے شہادت کے درجے پر فائز  ہوئے  آج مٹی سے جڑے چند لوگوں کے سوا انھیں کوئی جانتا تک نہیں ترک اپنے ہیروز کے نام پر ڈرامے تخلیق کر رہے ہیں اور پوری دنیاکی فلم و ڈراما انڈسٹری کو ہلا چکے ہیں کیا ہم اب بھی ایک اچھے غلام بن کے تاریخ سے آنکھیں چراتے رہیں گے ہم اپنے ہیروز کو اپنی آئندہ نسل کے سامنے نہیں رکھیں گے  ہم اب بھی مستعار ہیروز پہ ہی سر دھنیں گے ،سید احمد شہید اور شاہ  اسمعیل کے ساتھ کیا بپتا بیتی کیا ہم  ماضی سے اسی لیے آنکھیں چار نہیں کرتے ۔پاکستان وجود میں آ گیا ایک جہد مسلسل ایک تکلیف دہ سفرکے بعد خوابوں کی تعبیر ملی اور یہ قوم اس ملک کو بنانے والوں کے ہر سال ایک  دفعہ ان کے  مذہب ،عقائد اور فرقے پر سیر حاصل گفتگو کرتی ہے اور انھیں ملحدین ،پارسی اور جانے کیا کیا اعزاز دیتی ہے ۔ملک کا پہلا اور اسلامی دنیا کا دوسرا نوبل انعام یافتہ سائنسدان انھی  تعصبات کی نظر ہو گیا اور قوم اسی مخمصے کاشکار ہے کہ وہ ہمارا ہیرو ہے یا کسی اور کا قوم اس پہ بھی تقسیم کا شکار ہے کیوں کہ ہماری قوم پاکستانیت کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرتی یہاں رنگ ،نسل ،مذہب اور زبان کے حساب سے فیصلے ہوتے ہیں اور یہ تقسیم در تقسیم کا عمل اب مزید اکائیوں میں بٹ چکا ہے ۔اس قوم کے کرموں کا بوجھ ڈاکٹر عبدالقدیر بھی اٹھا چکے ہیں اور اس ملکی اثاثے کا اختتام جس کسم پرسی میں ہوا اور  قوم نے جس بددیانتی کا ثبوت فراہم کیا وہ بھی کسی سے چھپا نہیں ہوا ۔۔۔۔جو قومیں اپنے ہیروز سے آنکھیں چراتی ہیں وہ  اصل میں کوئی نیا ستارا پیدا کرنے کی قوت سے عاری ہوتی ہے اور بانجھ پن کا شکار ہو جاتی ہے۔

حالیہ دنوں میں ریاستی چینل پر ایک مراعات یافتہ شخص نے جس انداز میں شعیب اختر سے برتاؤ کیا  وہ بھی اسی مزاج کی ایک کڑی ہے ۔کہتے ہیں یہاں سب جائز ہے بس کھونٹا مضبوط ہونا چاہیے ۔اول الذکر شخص انھی کھلاڑیوں کی تعریف و توصیف کرتا ہوا مشہور ہوا اور آج خود ہی اپنی بنیاد سے الجھ بیٹھا  ہم ایسے ناہنجار قوم کے اس اثاثے کی تضحیک پر سیخ پا ہو گئے واویلہ کرتے رہے شور مچاتے رہے لیکن جہاں کچھ ہونا تھا وہاں کچھ ہو نہ سکا اور مداوا بڑے شخص کے بڑے پن کے مطابق نہ ہوا بلکہ وہی ٹائیں ٹائیں فش ،خود فراموش قوم کابے حد بھونڈا اور  اوچھا جواب  آیا۔۔۔۔صاحب حل وعقد اور طاقت کے سرچشموں سے گزارش ہے کہ ایسے معاملات جذباتی نوعیت کی توجہ کے مستحق ہوتے ہیں تاکہ کل کو سب محفوظ ہوں  نہیں تو کیا پتا کل کو کوئی راہ چلتے آپ کو بھی پڑ جائے اور آخر میں  ہماری طرف سے اپنے ہیروز کے لیے:

 "ہم شرمندہ ہیں ''۔

قیصر شہزاد ساقی

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

دستور نظم حبیب جالب||dastoor habib jalib||habib jalib main nahi manta

فیلڈ مارشل ایوب خان نے 1962 میں ایک آئین نافذ کیا   جو فرد واحد کے اقتدار کو بچانے اور اس کی طاقت کے دوام کے لیے نافذ کیا گیا تھا ۔اس آئین کے جواب میں حبیب جالب ؔ جو شاعر عوام و جمہور تھے  اور محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے تھے  نظم ’’ دستور ‘‘ لکھی   یہ نظم اس دور میں اتنی مقبول ہوئی کہ کسی نے ایوب خان سے کہا ’’ تمھارا  آئین  نافذ نہیں  ہو سکا ایک کمرے میں رہنے والا  ایک غریب سا شاعر اس آئین سے جیت گیا ہے  ‘‘ یہ نظم آج بھی ظلم و جبر اور انسانی آوازوں کے دبانے پر یاد کی جاتی ہے یہ  جمہور کی آزادی اور مزاحمت کا استعارہ ہے ۔ نظم پڑھیں دستور حبیب جالب دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا Deep jis ka mehlaat hi mein jale Chand logon ki khushiyon ko le kar chale Woh jo saaye mein har maslihat ke pale Aise dastoor ko subah be-noor ko Main nahin m...

تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations

   لیکچر نمبر:۶ تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی  مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations ڈاکٹر محمد قمر اقبال کا حضرت اقبال کی تصنیفات پر مفصل اور تحقیقی لیکچر  علامہ اقبال کی مشہور تصانیف تصانیف اقبال کا تعارف ۲۴۔اکتوبر ۲۰۲۱ء بزم فکر  اقبال پاکستان کے صدر جناب  پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال نے ۲۴۔ اکتوبر کو اقبال کی تصنیفات کے بارے میں ایک مبسوط لیکچر فراہم کیا جس میں اقبال کی تصنیفات کو ان کے سال اشاعت کی ترتیب سے شرکاء  کے گوش گزار کیا گیا۔یہ لیکچر معلوماتی سطح کا تھا فکر اقبال کے طالب علموں کو اقبال کی  فکر کے سرچشموں سے کماحقہ  آگاہ ہونا چاہیے اوریہ لیکچر اس سلسلے میں بھر پور معاونت فراہم کرتا ہے اقبال کی شاعری کی کتب ،نثری کتب ،تراجم اوران کے بعد مرتبہ کتب جو ان کی وفات کے بعد اکٹھی کی گئیں سب اس لیکچر میں جمع کر دی گئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی حوالہ جاتی کتب بھی قارئین کو لکھوا دی گئی ہیں اپنے مشمولات کے لحاظ سے یہ لیکچر کافی اہم ہے جس میں اقبال کی کتابیات تیار ہو گئی ہے ۔ڈاک...

himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب

غزل ہمانشی بابرہ himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب  لوگ تو لوگ ہیں لوگوں کی طرح دیکھتے ہیں ایک ہم ہیں اسے بچوں کی طرح دیکھتے ہیں   ہم کو دنیا نے لکڑ ہارا سمجھ رکھا ہے ہم تو پیڑوں کو پرندوں کی طرح دیکھتے ہیں   تم تو پھر غیر ہو تم سے تو پھر شکایت کیسی میرے اپنے مجھے غیروں کی طرح دیکھتے ہیں تیرا دیدار قضا ہوتا نہیں ہے ہم سے ہم تجھے دیکھنے والوں کی طرح دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل   میری خوشبو کو ہواؤں میں اڑانے والا لوٹ  کے آیا نہیں چھوڑ  کے جانے والا   پیار کے ساتھ مجھے طعنے دیا کرتا ہے  تجھ میں بھی رنگ ہے کچھ کچھ زمانے والا   ایسے بچھڑا ہے کہ ملنے کی  دعا کرتا ہے ہر ملاقات پہ منہ پھیرکے  جانے والا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   غزل     ساتھ دینے کا دلایا تھا بھروسا تونے اور پھر چھوڑ دیا مجھ کو اکیلا تو نے   اپنی مرضی سے مجھے چھوڑ کے جانے والے میری مرضی کو کہاں چھوڑ دیا تھا تو نے    بات رخسار کی ہوتی تو کوئی بات نہ تھی آج تو روح پہ مارا ہے تمانچا    تو نے   ...

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...

2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری

  اٹھا عجب تضاد سے انسان کا خمیر عادی فنا کا تھا    تو پجاری بقا کا تھا احمد ندیم قاسمی Utha ajab tazad se insan    ka khameer Adi fana ka tha to pujari baqa ka tha Ahmad Nadeem  Qasmi اداسیوں کا سبب کیا    کہیں بجز اس کے یہ زندگی ہے پریشانیاں    تو ہوتی ہیں احمد فراز Udasion ka sabab kia kahin bajuz is ky Ye zindagi hai preshanian to hoti hain Ahmad Faraz خود کو ترتیب دیا از سرِ نو زندگی میں ترا انکار بہت کام آیا Khud ko tarteeb dia az sar-e-nau Zindagi main tira inkar bht kam aya مرنا تو اس جہاں میں کوئی حادثہ نہیں اس دور ِ ناگوار میں جینا کمال ہے حسنی Marna to is jahan main koi hadsa nhi Is dor-e-Nagawar main jeena  kamal hai 2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری