شریک زندگی
شوکت تھانوی
اے شریک زندگی اے زندگی بھر کے عذاب
آہ ہم دونوں کی الفت وہ ہوئی کامیاب
عقد وہ جس نے محبت کا کیا خانہ خراب
زندگی کی ہر مسرت رہ گئی ہے بن کے خواب
طالب ومطلوب دونوں صاحب اولاد ہیں
یعنی اپنے حق میں ہم خود ہی ستم ایجاد ہیں
کیا ہوا وہ دور حسرت اور ارمانوں کے دن
وہ ڈرامائی حسیں راتیں وہ افسانوں کے دن
نغمہ ہاۓ عشق کی وہ بے سری تانوں کے دن
تیری فرقت میں لتا کے عشقیہ گانوں کے دن
وہ تصور میں ہزاروں رنگ سے جلوہ فگن
اودے اودے ،نیلے نیلے،پیلے پیلے ،پیراہن
کب کھلے دروازہ تیرے گھر کا بس یہ انتظار
تیرا آنچل ہی نظر آجاۓ تو آۓ قرار
اپنے دروازے پر پینک میں ترا امیدوار
جیسے کوئی صبر والا کھیلے مچھلی کا شکار
دفعتا چلمن ہلی اور دل کی دھڑکن بن گئی
آنکھ سے اچھلی نظر زینے پہ تیرے چڑھ گئی !
اور ادھر بیتاب رکھتی تھی تجھے دل کی لگی
تو کبھی روزن میں تھی چلمن کے پیچھے تھی کبھی
جو بڑے بوڑھے تھے تیرے وہ نہ تھے بالکل غبی
خاص کر والد ترے سلجھے ہوئے تھے آدمی
ایک دن بولے کہ برخور دار سچ کہتے ہیں ہم
عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیرو بم!
مختصر یہ ہے کہ شادی ہو گئی پائی مراد
چونکہ پاکستان کے ہم ہیں اس لیے زندہ باد
اب جو دیکھا زندگی کو تو نظر آئی جہاد
عشق اپنا اس قدر سمٹا کہ اب ہے ایک یاد
عاشق و معشوق ہیں اور کثرت اولاد ہے
اے شریک زندگی شادی بڑی افتاد ہے

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں