وزیر کا فرمان از شوکت تھانوی||وزیروں مشیروں کے لیے مزاحیہ اشعار|نمکین کلام از شوکت تھانوی||wazir ka farman funny poetry by shoukat thanvi||best urdu funny poetry collection وزیر کا فرمان از شوکت تھانوی||وزیروں مشیروں کے لیے مزاحیہ اشعار|نمکین کلام از شوکت تھانوی||wazir ka farman funny poetry by shoukat thanvi||best urdu funny poetry collection
وزیر کا فرمان
شوکت تھانوی
لوگو مجھے سلام کرو میں وزیر ہوں!
گردن کے ساتھ خود بھی جھکو میں وزیر ہوں
گردن میں ہار ڈال دو میں جھک سکوں اگر
نعرے بھی کچھ بلند کرو میں وزیر ہوں
تم ہاتھوں ہاتھ لو مجھے دورہ پر آؤں جب
موٹر کے ساتھ ساتھ چلو ، میں وزیر ہوں
لکھے ہیں شاعروں نے قصائد میرے لیے
ایک آدھ نظم تم بھی کہو میں وزیر ہوں!
جو مجھ سے ، کہنے آؤ خبردار مت کہو!
جو کچھ میں کہہ رہا ہوں سنو میں وزیر ہوں
بے شک ہے برہمی سی میری گفتگو کے بیچ
لیکن اسے ادب سے سنو میں وزیر ہوں
میں وہ نہیں کہ یوسف بے کارواں پھروں
میرا جلوس لے کر چلو میں وزیر ہوں
اخبار والوں سوچ کر کرو سوال!
جوں شیشہ میرے منہ نہ لگو میں وزیر ہوں
مجھ سے قرابتوں کو بس اب بھول جاؤ تم
اے میرے بھائی بند گدھو میں وزیر ہوں
مجھ کو تو مل گئی ہے وزارت کی زندگی
مرتے ہو تم، تو جاو مرو، میں وزیر ہوں
![]() |
| وزیر کا فرمان از شوکت تھانوی||وزیروں مشیروں کے لیے مزاحیہ اشعار|نمکین کلام از شوکت تھانوی||wazir ka farman funny poetry by shoukat thanvi||best urdu funny poetry collection |

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں