اردو غزل||مفتی تقی عثمانی کی غزل||اردو کے بہترین درد بھرے اشعار||Mufti Taqi Usmani ghazal||mhbt kia hai dil ka dard se mamoor ho jana|محبت کیا ہے؟ دل کا درد سے معمور ہو جاناک
غزل
شاعر: محمد تقی عثمانی
محبت کیا ہے ؟،دل کا درد سے معمور ہو جانا
متاعِ جاں کسی کو سونپ کر مجبور ہو جانا
ہماری بادہ نوشی پر فرشتے رشک کرتے ہیں
کسی کے سنگِ در کو چومنا مخمور ہو جانا
قدم ہیں راہِ اُلفت میں تو منزل کی ہوس کیسی
یہاں تو عین منزل ہے تھکن سے چُور ہو جانا
یہاں تو سر سے پہلے دل کا سودا شرط ہے یارو
کوئی آسان ہے کیا سرمد و منصور ہوجانا
بَسا لینا کسی کو دل میں دل ہی کا کلیجا ہے
پہاڑوں کو توبس آتا ہے جل کر طور ہوجانا
نظر سے دور رہ کر بھی تقؔی وہ پاس ہیں میرے
کہ میری عاشقی کو عیب ہے مہجور ہوجانا

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں