پیڑ کا المیہ
اک پرانا قصہ ہے
داستاں میں لکھا ہے
میں نے بھی پڑھا ہے وہ
اک عجیب بستی تھی
اک عجب قبیلا تھا
لوگ بھی نرالے تھے
جوبڑے مہم جو تھے
راستے بناتے تھے
سیدھا چلتے رہتے تھے
راستے کی ہر مشکل سہل کرتے جاتے تھے
زندگی کی راہوں میں پیڑ بھی تو آتے ہیں
کیا عجب قبیلہ تھا
پیٹر کا ٹنا ان کو خوش کبھی نہیں آیا
ان کو ایسا لگتا تھا
پیڑ کا ٹنا گو یا جرم سے زیادہ ہے
پیڑ کاٹنا گو یا کفر سے بھی بڑھ کرہے
کتنے خوش عقیدہ تھے
ان کے راستے میں جب
پیڑ کوئی آجا تا
سارے اس کے گرداگرد
مل کے بیٹھ جاتے تھے
اور یک زباں ہوکر
اس کو خوب جی بھر کے
بددعائیں دیتے تھے
گالیاں سناتے تھے
لعن طعن کرتے تھے
لعن طعن کرتے تھے اور کرتے رہتے تھے
بد دعائیں دیتے تھے اور دیتے رہتے تھے
بس یہی وظیفہ وہ صبح و شام کرتے تھے
ان کی بد زبانی سے
پیڑسوکھ جاتا تھا
خود ہی مرنے لگتا تھا
مر کے گرنے لگتا تھا
کیا عجیب بستی ہے
لوگ بھی نرالے ہیں
جن کے پاؤں کی آہٹ پا کے سہم جاتا ہوں
ایک پیڑمیں بھی ہوں
اور اس قبیلے کی رہ میں ایستادہ ہوں
![]() |
| پیڑ کا المیہ از طارق حبیب |ملامت کتاب|Tariq Habib Poetry |
طارق حبیب
مجموعہ: ملامت

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں