ہو بھی سکتی ہے
کہ جورو کی سدا مجھ سے غلامی ہو بھی سکتی ہے
یہ مت بھولو کہ دنیا اب بھی امید پہ قائم
بڑھاپے میں کسی لیلی سے شادی ہو بھی سکتی ہے
وہ جس کے عشق میں مجنوں بنے پھرتے ہیں مولانا
وہ ’’ جان من‘‘ پولیس والے کی بیٹی ہو بھی سکتی ہے
ضروری تو نہیں سوتن بنے ہر حور جنت کی
اگر سوچو تو بیگم کی سہیلی ہو بھی سکتی ہے
کسی دن جوش میں آکر اگر داماد بن جائیں
حویلی سیٹھ کی اک دن ہماری ہو بھی سکتی ہے
بہت اتراۓ پھرتا ہے یہاں مفتی مگر سن لے
قیامت میں تری ایسی کی تیسی ہو بھی سکتی ہے
یہ خواہش ہے کہ دنیا کو نچاؤں ناچ تگنی کا
سیاست میں جو آ جاؤں تو پوری ہو بھی سکتی ہے
جو قیدی ہیں غزل سن سن کے سار ے ہوگئے پاگل
رہائی جیل سے اب شاعروں کی ہو بھی سکتی ہے
کبھی چالیس سے اوپر نہیں ہوتی ہے بیگم کی
ہماری عمر اسی سے پچاسی ہو بھی سکتی ہے
میں ہوں وہ شاعر اعظم کہ مرجاؤں اگر یارو
تو سارے ملک میں اک دن کی چھٹی ہو بھی سکتی ہے
اسی ڈر سے تو میں نے آج ہی بیمہ کرایا ہے
مرے دیوان کی لگتا ہے چوری ہو بھی سکتی ہے
محمد توحید الحق ، کامٹی ضلع ناگپور
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں