ذرا سی بات پر کوئی کہاں مغموم ہوتا ہے ||غزل طارق حبیب||اردو کی مشہور غزلیات||Urdu Ghazal||Rekhta||Tariq Habib
غزل
ذرا سی بات پر کوئی کہاں مغموم ہوتا ہے
ہمیں تو اور ہی کچھ واقعہ معلوم ہوتا ہے
ترے ہی دم قدم سے ہے ، یہاں ہر بات کی حرمت
یہاں ہر اسم تیرے نام سے موسوم ہوتا ہے
خدا کے بعد ممتا نے زمیں کو تھام رکھا ہے
وہ جن کی ماں نہیں ہوتی انھیں معلوم ہوتا ہے
تمھی ہر بات کے اتنے معانی ڈھونڈ لاتے ہو
مری ہر بات کا تو ایک ہی مفہوم ہوتا ہے
یہ عقدہ ہم پہ طارق کھل گیا ہے خود شناسی میں
جسے مرنا نہیں آتا وہی محکوم ہوتا ہے
پروفیسر طارق حبیب
جامعہ سرگودھا
مجموعہ غزلیات: بشارت

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں