غزل
شوق بہرائچی
مہ جبینوں کی محبت کا نتیجہ نہ ملا
مرغیاں پالیں مگر ایک بھی انڈا نہ ملا
حسن خود بین نہ ملا حسن خود آرا نہ ملا
جب میں سسرال گیا ایک بھی سالا نہ ملا
کس طرح جاتا کوئی منزل مقصود کی طرف
کوئی یکہ کوئی تانگہ کوئی رکشا نہ ملا
نظر آیا نہ کہیں ناصح ناداں میرا
جستجو جس کی تھی وہ مٹی کا ببوا نہ ملا
اب کی ناکام رہا قائد ملک و ملت
اب کی بربادی اقوام کا ٹھیکہ نہ ملا
شیخ صاحب کے تلون کا فسوں ہے یہ بھی
مسجدوں میں بھی اک مٹی کا بدھنا نہ ملا
اے غم دوست ضیافت میں تری کیا کرتا
ایک خوراک سے راشن ہی زیادہ نہ ملا
لاکھ بازار محبت کے لگاۓ پھیرے
بے وقوفی کے سوا اور کوئی سودا نہ ملا
کس طرح سے کوئی تعمیر نشیمن کرتا
کبھی ستلی نہ ملی اور کبھی سیٹھا نہ ملا
دوست کی شیریں بیانی کا مزا کیا کہیے
ایسی برفی کبھی ایسا کبھی پیڑا نہ ملا
رکھے ہی رکھے ہوئی جنس کرم سب بر باد
ایک بھوکے کو مگر پاؤ بھر آٹا نہ ملا
ہاتھ آئے گا نہ پروانہ جنت اے قوم
شیخ صاحب کو اگر حلوا پراٹھا نہ ملا
کس طرح سے کسی تعمیر کی ہوتی تکمیل
وقت پر جب کبھی اینٹا کبھی گارا نہ ملا
آج شمشیر برہنہ وہ لیے پھرتے ہیں
جن کے گھر میں کبھی اک بانس کا پھٹا نہ ملا
![]() |
| مزاحیہ غزل از شوق بہرائچی|اردو مزاحیہ شاعری|Funny Poetry in Urdu |

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں