نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

والد کی وفات پر از ندا فاضلی|Urdu poetry||والد کی وفات پر اشعار|Nida fazli

  

 ''والد کی وفات پر"   از  ندا فاضلی

ندا فاضلی کے والدکا انتقال کراچی میں ہوا اور وہ ان کے جنازے میں شرکت نہ کر سکے ۔نا رسائی کا یہ دکھ اس نظم میں شدت سے محسوس کیا جا سکتا ہے ۔فاضلی کہتے ہیں میں نے یہ نظم روم میں ایک تقریب کے دوران پڑھی تو ایک گوری خاتون نے کہا:"ندا فاضلی تعجب  کی بات ہے تم اپنے باپ کی موت پہ اب تک نظم لکھتے ہو''

تو کہتے  ہیں میں نے جواب دیا :''اس میں تعجب والی کون سی بات ہے میرا تو صرف ایک ہی باپ تھا ''اس نے جواب دیا یہ یورپ ہے یہاں نہ باپ رہا نہ خدا۔۔۔۔۔۔

تو فاضلی صاحب نے جواب دیا:''میں جس تہذیب سے آیا ہوں وہاں باپ کبھی نہیں مرتا''

عنوان:والد کی وفات پر

تمھاری قبر پر

میں فاتحہ پڑھنے نہیں آیا

مجھے معلوم تھا

تم مر نہیں سکتے

تمھاری موت کی سچی خبر جس نےاڑائی تھی

وہ جھوٹا تھا

وہ تم کب تھے

کوئی سوکھا ہوا پتا ہوا سے مل کے ٹوٹا تھا

مری آنکھیں

تمھارے منظروں میں قید ہیں اب تک

میں جو بھی دیکھتا ہوں

سوچتا ہوں

وہ وہی ہے

جو تمھاری نیک نامی اور بد نامی کی دنیا تھی

کہیں کچھ بھی نہیں بدلا

تمھارے ہاتھ میری انگلیوں میں سانس لیتے ہیں

میں لکھنے کے لیے

جب بھی قلم کاغذ اٹھاتا ہوں

تمھیں بیٹھا ہوا میں اپنی ہی کرسی میں پاتا ہوں

بدن میں میرے جتنا بھی لہو ہے

وہ تمھاری

لغزشوں ناکامیوں کے ساتھ بہتا ہے

مری آوازمیں چھپ کر

تمھارا ذہن رہتا ہے

مری بیماریوں میں تم

مری لاچاریوں میں تم

تمھاری قبر پر جس نے تمھارا نام لکھا ہے

وہ جھوٹا ہے

تمھاری قبر میں میں دفن ہوں

تم مجھ میں زندہ ہو



کبھی فرصت ملے تو فاتحہ پڑھنے چلے آنا۔۔۔۔۔



والد کی وفات پر از ندا فاضلی|Urdu poetry|Nida fazli
والد کی وفات پر از ندا فاضلی|Urdu poetry||والد کی وفات پر اشعار|Nida fazli


    


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...