نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

یوم کپور از اسد محمد خان||افسانہ||Yom kippur short story of Asad Muhammad Khan

   

یوم کپور

 

میں اور میرے جد یوم کپور*  میں ہیں۔

 اور میں اور میرے جد ، بنی اسرائیل کے وہ قبیلے تھے جو اپنے بھائی بندوں کی حرمز دگیوں سے بیزار ہو، اپنے اپنے ید بیضا اپنی بغلوں میں مار ، ارض موعود کی تلاش میں الٹے چلتے ہوے، پہاڑوں پہاڑ ادھر آ نکلے تھے ۔

پھر ایک قاصد فرخند ہ فال نے ہموار زمینوں اور سمندروں اور جنگلوں کونوید پہنچائی کہ صدق کا سورجؐ طلوع کی منزلوں میں آ گیا ہے ۔ سو ہم نے گینڈے کی سی گردن والے اپنے سردار الف خان سے پکار کر کہا کہ الف خانا! او بے پیر، ٹیلے سے نیچے اتر آاور اپنے تیغے کو زمیں بوس کر دے، یہ رجز خوانی بند کر اور سن لے کہ قبیلہ قریش تو آج سب قبیلوں پر سبقت لے گیا۔ خداۓ موسیٰ کی قسم اس قبیلے کے آسماں شکوہ ہاشم خیل میں تو زمینوں اور آسمانوں کے سرور نے ظہور کیا ہے ۔ او الف خانا! کعبتہ اللہ کی طرف منہ کر لے کہ سورج کی سی پیشانیوں والے آج ابراہیم کے گھر کی سمت مڑ گئے ہیں۔

 سوالف خان ٹیلے سے نیچے اتر آیا، اس نے تیغہ پھینک کر چار بڑی سمتوں میں سجدے گزارے کہ اس کم آ گاہ کو کعبتہ اللہ کی صحیح سمت معلوم تھی ۔ پھر اس نے''وئی '' کہ کر نعرہ مارا اورپھر کی جیسے گھومنا شروع کیا یہاں تک کہ اس کا پیراہن خانہ بدوشوں کے خیمے کی طرح پھیل گیا۔ وہ گھومتا جا تا تھا اور نعرہ زن تھا کہ "ٹول سرفراز ئے ، ڈیرے قسمتئے ، خدائے رخمتئے، وئی وئی وئی ، درگہ ، در گہ، در گہ۔'' پھر اس آواز میں جو بلندی سے لڑھکتے پتھروں جیسی تھی اور فر ط انبساط سے پہلی بارلرزتی تھی اور نمی سے بوجھل تھی ، اس نے کہا کہ اللہ الحمد آج سے ہمارے تیغے ہاشم خیل کی چاکری میں آ گئے ۔ ٹول سر بلند ۓ ، ڈیرے سرفرازے ، رخمتئے مخامخ ، درگه درگه در گہ۔ پھر الف خان کو تا ہ گردن سے کچھ اور نہ بن پڑا تو بے انتہا شادمانی سے نڈھال ہو، اس نے پتھروں سے ٹیک لگائی اور رونا شروع کر دیا۔

یہ روۓ زمین پر الف خان کا پہلا گر یہ تھا ۔

 سواے ارض موعود! میں روتا ہوں ۔ اور اے ارض موعود! میں روتا ہوں ۔ اور اے ارض موعود! میں تو بھولا بسرا قبیلہ تھا اور اپنے ید بیضااپنی بغلوں میں مار تیری تلاش میں نکلا تھا ۔

سو میں ( کہ میرا جد ) ورگزئے  دوست خان اپنے 19 رفیقوں کے ساتھ جنوب کی ٹیکری پر چڑھا اور طشت نما وادی پر نظر ڈالی ، جہاں کفار سے کفار نبردآزما تھے اور بلا کا شور کرتے تھے۔ ور گزۓ دوست خان نے کچھ دیر ان کے طریق جنگ کا مشاہدہ کیا اور طشت نما دادی کے لشکر کو پسپائی کی جنگ لڑتے دیکھا، پھر بیزاری سے منہ پھیر کر جماہی لی اور بولا ” یہ کون لوگ ہیں؟ واللہ ان قرمساقوں کو جنگ مغلو بہ کا بھی شعور نہیں ۔ ''پھر اس نے اپنے گھوڑے کی ایال سے کھیلتے ہوے السائی ہوئی آواز میں پوچھا ، ''وزیر خان ! یہاں سے قلعہ راۓ سین کے فرسنگ ہوگا ؟‘'

 مگر نہیں ۔ ۔۔دوست خان نے قلعہ رائے سین کی بابت نہیں پوچھا تھا، اور شاید اس کے پاس گھوڑے بھی نہیں تھے۔ اس نے اپنے گھوڑے بیچ کر قافلے کی خوراک کا بندوبست کیا تھا اور میرے ابا بتاتے ہیں کہ جدمکرم دوست خان اور اس کے 19 رفیقوں کے پاس بس بے نیام تیغے اور ستو کی چند پوٹلیاں باقی بچی تھیں اور یہ بیس  طالع آزما درہ خیبر کے کسی علاقے تیراہ سے آئے تھے اور درگزۓ دوست خان سردارقبیلہ کا بیٹا تھا اور اپنے بھائی سے روٹھ کر قسمت آزمانے مغلوں کی قلمرو میں در آیا تھا اور جس دن اس نے جنوبی ٹیکری پر کھڑے ہو کر کفار مالوہ کے دوخون آشام لشکروں کو کھانڈے سےکھانڈا بجاتے دیکھا ، اس دن رکھشا بندھن کا تیو ہار تھا مرلینگی ناچنے کی بجاۓ اہل ہنود کھانڈے سےکھانڈا بجارہے تھے اور اگر جداعلی ورگزۓ دوست خان توجہ نہ فر ما تا تو ہزیمت وادی طشت کی رانی کا مقدر تھی ۔ سواس نے توجہ فرمائی اور ہارتے ہوے لشکر کے شانہ بشانہ جنگ کی اور فتح مند آیا ۔ مگر دوست خان کو ان کا طریق جنگ ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔ ہر چند کہ آب و ہوا معتدل تھی اور لوگ وفا سرشت تھے۔ شاید اسی لیے اس نے کچھ دن وہاں قیام کرنے کا فیصلہ کیا اور بالآخر وہیں دفن ہوا اوراس کی ذریت وہاں کئی سو برس ٹھہری ۔

 اور رانی کملا پتی نے ستی ہونے سے ایک ساعت قبل شکرگزاری میں ورگزۓے دوست خان کی بالشت بھر چوڑی کلائی پر راکھی کا طلائی دھا گا باندھ دیا اور اپنے نوعمر کنور کو جواسی جنگ میں یتیم ہوا تھا، خان کی تولیت میں دیا، پھر اپنے لشکر کی فتح کا شنکھ سنتی ہوئی سات داسیوں کے ہمرا چل کی ان سیٹرھیوں تک پہنچی جو آج بھی زیر آب ہیں ، اور جل پوجا کرتی کٹورا سے تال میں اترتی چلی گئی اورستی کہلائی۔

اور تال کے گردا گرد جنت پہاڑیاں تھیں اور سیتا پھلوں کے بن امڈے پڑتے تھے اور کھیتوں کی مٹی نپٹ سیاہ تھی۔ اور رکھشا بندھن کے تیوہار پر چندن موسی ، مہامائی کی پوجا سے فارغ ہوتی تو میرے باپ ور گزئے  عزت خان کی چوڑی کلائی پر راکھی باندھنے سیدھی ہمارے گھر آتی تھی ۔ اور دو جور وؤں والا ٹھا کر ، جس کے کانوں میں سونے کی مندر یاں جھولتی رہتی تھیں ، دارو پی کر دونوں جو روؤں کے ساتھ ایک بیل گاڑی میں لد جا تا اور موسی کے پیچھے پیچھے چلا آتا اور میں بچہ ہی تھا سوا سے دیکھ کر بہت ہنستا تھا اور وہ ہمارے صحن میں لینگی ناچتا تھا کہ ارے لگ گئی رے بھنسا رے کی نیند لگ گئی رے.. سومیری آٹھ پشتیں وہاں نیند کرتی ہیں ۔

اور میرے دادا  ورگزے کمال خان کا پر دادا ور گزۓ نصرت خان چوتھی پشت میں دوست خان بانی ریاست کی صلب تھا اور وہ جرنیل تھا اور اسی  گھر میں جہاں رکھشا  بندھن پر میں دو جور وؤں والے ٹھاکر کو دارو پی کر ناچتے دیکھتا تھا ، اس گھر میں سنہ اٹھارہ سو کچھ میں زبردست آتشزدگی ہوئی تھی اور نصرت خان نے ، کہ زمین کی طرح سانولا اور تاڑ کی طرح لمبا تھا اور اسی لیے کولے خان کہلا تا تھا، اللہ اکبر کانعرہ مارا تھا اور وہ جلتی ہوئی چھت کو الانگ گیا تھا اور جلتی ہوئی دیواروں اور جلتے ہوے طاقچوں پر چڑھتا اترتا اور جلتے ہوے دروازوں سے گزرتا جزدان میں لپٹا ہوا قرآن مجید سینے سےلگاۓ نعرے مارتاصحیح وسالم واپس گیا تھا۔ اور میرا  دادا ور گزۓ کمال خان حب قرآن میں  گریہ کرتا تھا اور کہتا تھا کہ تاریخ ہند  کی جلد نمبر فلاں میں پنڈاریوں کی سرکوبی کے ذیل میں ورگز ۓ نصرت خان ، المعروف کو لے خان جرنیل کی  معرکہ آرائیاں مرقوم ہیں  اور دادا کمال خان  مجھ سے کہتا تھا  کہ لڑکے! جب کو  لے خان بہادر تیرے اس جلتے ہوے مکان میں قرآن لینے کو دا  تو پر کھوں نے بآواز انا للہ الیہ راجعون پڑھا اور تمام پر کھے اتفاق رائے سے ملول ہوے کہ ہیہات!ایک  متشرع مسلمان کی میت کو  مٹی نصیب نہ ہو سکی  اور مثل اہل ہنود  کے سوختہ ہوا.. مگر جب ورگز ۓ نصرت خان کلام مجید سینے سے  لگاۓ شعلوں کی دیوار چیر کر طلوع ہوا  تو پرکھوں  نے نعرہ کیا  کہ ڈیرے قسمتئے ، ٹول سرفراز ۓ ،ٹول سر بلندئے ،وئی وئی ،وئی اور شادمانی سے نڈھال ہو، انھوں نے پتھروں ٹیک لگائی اور  روکر کہا ہاشم خیل کے چاکروں کا چاکر نصرت خان سرخرو آیا اور الف خان  کوتاہ گردن کی صلب مشکور ہوئی  اور زمینوں اور آسمانوں  کے سرور نے اس قبیلے کو اپنی چاکری میں سرفراز فرمایا اور نمی سے بوجھل  آوازوں میں انھوں نے درود وسلام پڑھے اور گریہ کیا۔

سو اے ارض موعود! میں روتا ہوں اور اے رض موعود! میرا  جد سچا تھا کہ وہ  اپنے تیراہ کے لیے گریہ کرتا تھا اور اپنے بڑے بیٹے کو روتا تھا جوٹورنامنٹ کھیلتے ہوے چھاتی پر  گیند لگنے سے شہید ہوا اور میرا باپ سچا ہے وہ اپنے بیٹے کو روتا ہے جو سب تیرا ہوں سے دور  لیاقت آباد کی ایک کشادہ قبر میں ۲۳ سال سے دفن ہے اور  بنو ہاشم کی قسم ،میں سچا  ہوں کہ روتا ہوں ۔

اور  اے ارض موعود کبھی کبھی شام کو دو جوروؤں والا ٹھاکر بھی دارو  پی کر روتا  تھا اور ابا سے اپنے الکو ہلک دکھ بیان  کرتا تھا  اور گنے  کے کھیت کی  طرف منہ  کر کے اپنے مفروضہ دشمن کولکارتا تھا کہ  بھیتر  کا ہے گھس گیوسورے! ایدھر آ  کچو دیکے! مھارے منجھے بھیا  کے تائیں  بندوخ ہے ،سورے کو گوڑی مروا دیگو ۔اور میرے بڑے بھائی کے پاس ایئر گن تھی اور گرمیوں  کی چھٹیوں میں ہم  دونوں سیسا پگھلا پگھلا  کر پیتل کے سانچوں میں ڈالتے جاتے تھے اور بڑے نفیس چھرے بناتے تھے اس اندھے لڑکپن میں اجلی اجلی فاختاؤں کو ہلاک کرتےتھے۔سو اب روتا ہوں اور اے ارض موعود !میں روتا ہوں کہ میں نے فاختائیں کیوں ہلاک کیں۔


*یوم کفارہ (Yom Kippur)


 

یوم کپور از اسد محمد خان||افسانہ||Yom kippur short story of Asad Muhammad Khan

اسد محمد خان ؛ مجموعہ کھڑکی بھر آسمان ،القا پبلیکیشنز

مجموعہ آرڈر کرنے کے لیے وزٹ کریں

www.readings.com.pk


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

دستور نظم حبیب جالب||dastoor habib jalib||habib jalib main nahi manta

فیلڈ مارشل ایوب خان نے 1962 میں ایک آئین نافذ کیا   جو فرد واحد کے اقتدار کو بچانے اور اس کی طاقت کے دوام کے لیے نافذ کیا گیا تھا ۔اس آئین کے جواب میں حبیب جالب ؔ جو شاعر عوام و جمہور تھے  اور محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے تھے  نظم ’’ دستور ‘‘ لکھی   یہ نظم اس دور میں اتنی مقبول ہوئی کہ کسی نے ایوب خان سے کہا ’’ تمھارا  آئین  نافذ نہیں  ہو سکا ایک کمرے میں رہنے والا  ایک غریب سا شاعر اس آئین سے جیت گیا ہے  ‘‘ یہ نظم آج بھی ظلم و جبر اور انسانی آوازوں کے دبانے پر یاد کی جاتی ہے یہ  جمہور کی آزادی اور مزاحمت کا استعارہ ہے ۔ نظم پڑھیں دستور حبیب جالب دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا Deep jis ka mehlaat hi mein jale Chand logon ki khushiyon ko le kar chale Woh jo saaye mein har maslihat ke pale Aise dastoor ko subah be-noor ko Main nahin m...

تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations

   لیکچر نمبر:۶ تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی  مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations ڈاکٹر محمد قمر اقبال کا حضرت اقبال کی تصنیفات پر مفصل اور تحقیقی لیکچر  علامہ اقبال کی مشہور تصانیف تصانیف اقبال کا تعارف ۲۴۔اکتوبر ۲۰۲۱ء بزم فکر  اقبال پاکستان کے صدر جناب  پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال نے ۲۴۔ اکتوبر کو اقبال کی تصنیفات کے بارے میں ایک مبسوط لیکچر فراہم کیا جس میں اقبال کی تصنیفات کو ان کے سال اشاعت کی ترتیب سے شرکاء  کے گوش گزار کیا گیا۔یہ لیکچر معلوماتی سطح کا تھا فکر اقبال کے طالب علموں کو اقبال کی  فکر کے سرچشموں سے کماحقہ  آگاہ ہونا چاہیے اوریہ لیکچر اس سلسلے میں بھر پور معاونت فراہم کرتا ہے اقبال کی شاعری کی کتب ،نثری کتب ،تراجم اوران کے بعد مرتبہ کتب جو ان کی وفات کے بعد اکٹھی کی گئیں سب اس لیکچر میں جمع کر دی گئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی حوالہ جاتی کتب بھی قارئین کو لکھوا دی گئی ہیں اپنے مشمولات کے لحاظ سے یہ لیکچر کافی اہم ہے جس میں اقبال کی کتابیات تیار ہو گئی ہے ۔ڈاک...

himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب

غزل ہمانشی بابرہ himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب  لوگ تو لوگ ہیں لوگوں کی طرح دیکھتے ہیں ایک ہم ہیں اسے بچوں کی طرح دیکھتے ہیں   ہم کو دنیا نے لکڑ ہارا سمجھ رکھا ہے ہم تو پیڑوں کو پرندوں کی طرح دیکھتے ہیں   تم تو پھر غیر ہو تم سے تو پھر شکایت کیسی میرے اپنے مجھے غیروں کی طرح دیکھتے ہیں تیرا دیدار قضا ہوتا نہیں ہے ہم سے ہم تجھے دیکھنے والوں کی طرح دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل   میری خوشبو کو ہواؤں میں اڑانے والا لوٹ  کے آیا نہیں چھوڑ  کے جانے والا   پیار کے ساتھ مجھے طعنے دیا کرتا ہے  تجھ میں بھی رنگ ہے کچھ کچھ زمانے والا   ایسے بچھڑا ہے کہ ملنے کی  دعا کرتا ہے ہر ملاقات پہ منہ پھیرکے  جانے والا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   غزل     ساتھ دینے کا دلایا تھا بھروسا تونے اور پھر چھوڑ دیا مجھ کو اکیلا تو نے   اپنی مرضی سے مجھے چھوڑ کے جانے والے میری مرضی کو کہاں چھوڑ دیا تھا تو نے    بات رخسار کی ہوتی تو کوئی بات نہ تھی آج تو روح پہ مارا ہے تمانچا    تو نے   ...

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...

2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری

  اٹھا عجب تضاد سے انسان کا خمیر عادی فنا کا تھا    تو پجاری بقا کا تھا احمد ندیم قاسمی Utha ajab tazad se insan    ka khameer Adi fana ka tha to pujari baqa ka tha Ahmad Nadeem  Qasmi اداسیوں کا سبب کیا    کہیں بجز اس کے یہ زندگی ہے پریشانیاں    تو ہوتی ہیں احمد فراز Udasion ka sabab kia kahin bajuz is ky Ye zindagi hai preshanian to hoti hain Ahmad Faraz خود کو ترتیب دیا از سرِ نو زندگی میں ترا انکار بہت کام آیا Khud ko tarteeb dia az sar-e-nau Zindagi main tira inkar bht kam aya مرنا تو اس جہاں میں کوئی حادثہ نہیں اس دور ِ ناگوار میں جینا کمال ہے حسنی Marna to is jahan main koi hadsa nhi Is dor-e-Nagawar main jeena  kamal hai 2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری