غزل
ظہیر قدسی
چشم و لب و قد و گیسو نہیں دیکھے جاتے
بناچشمے کے پری رو نہیں دیکھے جاتے
چاہئیں لاکھوں روپے ہاتھ صفائی کے لیے
صرف دس پیسے میں جادو نہیں دیکھے جاتے
کوئی آندھی ہی چلا کر تو گرا دے یا رب
شاخ جمہور پہ الو نہیں دیکھے جاتے
بے لباسی کا ہنر دیکھنے سب جاتے ہیں
اب تو سرکس میں بھی بھالو نہیں دیکھے جاتے
جس میں جھگڑے کا ہو امکان اسے کرلو قبول
شعر میں حسن کے پہلو نہیں دیکھے جاتے
سرد جذبات ہوۓ ، سوکھ گیا پانی بھی!
شیخ صاحب جو ، لب جو ، نہیں دیکھے جاتے
قوت صبر کرو پیدا یا مرجاؤ ظہیر
تم سے گر بچوں کے آنسو نہیں دیکھے جاتے
![]() |
| اردو مزاحیہ غزل از ظہیر قدسی|بناچشمے کے پری رو نہیں دیکھے جاتے||مزاحیہ شاعری|Zaheer Qudsi |

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں