پتھر
''ثانیہ صاحبہ آپ کے دل کی تقریبا تمام Veins بند ہو چکی ہیں ۔ میں تو حیران ہوں کہ اب تک آپ زندہ کیسے ہیں؟ ''ڈاکٹر معیز نے میرا تفصیلی معائنہ کرنے کے بعد ایک بری خبر سنائی۔
کل شام ایک ادبی محفل میں اچانک میں بے ہوش ہو گئی۔ میرے دوست مجھے ہسپتال لے کر آۓ تو پورا ایک دن میں ICU میں بے ہوشی کی حالت میں پڑی رہی۔ میرے سارے ٹیسٹ وغیرہ ہوئے تو یہ خوف ناک خبر کی طرح مجھ پر گری اور میرے وجودکو ریزہ ریزہ کر گئی ۔ انجائنا کا ہلکا سا اٹیک تو ایک دفعہ ہوا تھا۔ پھر دوائیاں اور علاج وغیرہ سے وہ ٹھیک ہو گیا تو میرا دھیان اس جانب سے ہٹ گیا۔ پھر میں لکھنے پڑھنے کے کاموں میں مصروف ہوگئی۔ کچھ دنوں سے طبیعت خراب تھی پر میں ڈاکٹر کے پاس جانا ٹالے جا رہی تھی۔ اور یہ ٹالنا بہت برا ثابت ہوا اور میری حالت انتہائی تشویش ناک ہوگئی۔
''ڈاکٹر صاحب کیا اب کوئی علاج کا راستہ ہے؟“
''میں نے آپ کو پہلے بھی سمجھایاتھا ثانیہ صاحبہ کہ دنیا کی باتوں کو دل پر نہ لیا کریں۔اب دیکھیں آپ نے خود کا کیا حال کر لیا ہے۔''
''شاید رائٹرز ہوتے ہی حساس طبیعت کے مالک ہیں ڈاکٹر صاحب ۔''
میں نے پھیکی سی ہنسی ہنستے ہوئے جواب دیا۔
'' لیکن آپ کچھ زیادہ ہی حساس ہیں ۔ دل بھی آخر کب تک برداشت کرتا۔ لوگوں کے طنز اور اذیت میں ڈوبے ہوئے نشتروں کو آپ اپنا دل کھلے عام پیش کرتی رہیں ۔ حالانکہ آپ کو تجاہل کی ڈھال سے ان کا سامنا کرنا چاہیے تھا۔'' ڈاکٹر معیز کولگتا ہے میرے افسانے بہت ہی پسند تھے اس لیے مجھے مرتا ہوا دیکھنا ان کے لیے کٹھن مرحلہ ثابت ہورہا تھا۔
''ڈاکٹر صاحب ! اب کیا مجھے گھر بیٹھ کر اپنے موت کے دن گننے چاہئیں ؟"
'' آپ جلد از جلد اپنا ہارٹ ٹرانسپلانٹ کروالیں ۔ بلکہ یہ کام اگلے دو تین دن میں ہوجانا چاہیے۔"
''گر دے ٹرانسپلانٹ کا تو میں نے سنا تھا۔ہارٹ ٹرانسپلانٹ بھی ہوسکتا ہے؟ ''
میں حیران ہوئی۔
''چلو گر دے تو سب کے دو ہوتے ہیں ایک Donate کر دیں تو دوسرے سے زندہ رہا جا سکتا ہے ۔ دل تو سب کا ایک ہی ہوتا ہے ۔ کون ایسا جا نبار ہو گا جو اپنا دل بخوشی مجھے دے کر موت کو گلے لگاۓ گا اور میرا دل بھی نہیں مانتا کہ میں کسی کی زندگی چھین کر خودزندگی حاصل کروں ۔ اگر میری زندگی اتنی لکھی ہے تو اتنی ہی سہی ۔''
''اف مس ثانیہ! ایک تو آپ سوچتی بہت زیادہ ہیں ۔ پہلے میری پوری بات تو سن لیں''
''جی فرمائیے '' میں شرمندہ ہوئی ۔
''آپ کا دل ہٹا کر ہم پتھر لگا دیں گے ۔''
''پھر !!!'' ڈاکٹر صاحب کے منہ سے یہ بات سن کر ، اتنے سوگوار ماحول میں بھی وہ میری دوست کے منہ سے ہنسی نکل گئی جسے اس نے بمشکل قابو کیا۔
ہنسنے کی بات نہیں ہے۔ یہ ایک نئی ٹیکنالوجی ہے ۔ جو لوگ بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں ہم ان کے دل میں دل کی شکل کا ایک پتھر نصب کر دیتے ہیں جس میں فٹ ایک چھوٹا سا آلہ دل کا کام سرانجام دیتا ہے ۔ مس ثانیہ جتنی حساس ہیں وہ کہاں ایک نرم گوشت کے ٹکڑے کا دل سنبھال سکتی ہیں ۔ جیسے موبائل کی سکرین پر Protector لگا کر ہم اس کی Touch Screen کوٹوٹنے سے محفوظ کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم مس ثانیہ کے آلہ نما دل کے باہر پتھر لگا کر ان کا وہ دل لوگوں کی باتوں سے ٹوٹنے سے محفوظ رکھیں گے ۔'' میں اب ڈاکٹر صاحب کی باتوں سے حیران ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان بھی ہوگئی تھی۔
'' ڈاکٹر صاحب! میں نے ایسا پہلے کبھی نہیں سنا۔ کیا میں پتھر کے ساتھ زندہ ر وسکوں گی؟''
مس’’ ثانیہ ! آپ کے پاس اور کوئی چوائس بھی تو نہیں ہے ۔ مرتو آپ ویسے بھی رہی ہیں ۔‘'ڈاکٹر صاحب مسکراۓ ۔'' آپ جلد از جلد فیصلہ کر لیں ۔''
ہاسپٹل کے لان میں دو گھنٹے بینچ پر بیٹھ کر میں نے سوچ بچار کے بعد ڈاکٹر صاحب کی بات ماننے کا فیصلہ کرلیا کیونکہ اس کے علاوہ میرے پاس واقعی کوئی آپشن نہیں تھا۔
دودن بعد میرا ہارٹ ٹرانسپلانٹ کا آپریشن کامیاب رہا اور اللہ کے فضل کرم سے میں نے ایک نئی زندگی کا آغاز کیا۔ زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے پھر وہ چاہے تو پتھر کے ذریعے بھی نئی زندگی بخش دیتا ہے ۔
وقت گزرتا گیا۔ میں پھر سے افسانے لکھنے لگی اور پھر سے لوگوں کی باتیں برداشت کرتے ہوۓ زندگی کی گاڑی دھکیلنے لگی ۔لیکن اب ان کی باتیں مجھے دکھ نہیں پہنچاتی تھیں کیونکہ دل تو تھا نہیں جسے درد ہوتا اور پتھر دل کیا خاک در دمحسوس کرتا۔
اس دن بھی ایک ادبی محفل میں میرے افسانے کا تماشہ لگا ہوا تھا۔
''ثانیہ جی! آپ کے افسانے میں اردو Flavor نہیں ۔ ایسا لگتا ہے آپ نے افسانہ کسی اور زبان میں سوچ کر اردو میں لکھا ہے ۔''
اب بندہ پوچھے کہ ابرار صاحب نےمیرے دماغ میں جھانک کر کیسے دیکھ لیا کہ میں کسی زبان میں سوچتی ہوں۔
''ثانیہ جی! آپ کے افسانے لمبے بہت ہوتے ہیں۔''
اسرار صاحب کو کچھ اور نہ سوجھا تو لمبائی پر تنقید شروع کر دی۔
''بھئی میں تو آج تنقید سے باز ہی رہوں گی کیونکہ مجھے تو ثانیہ کا افسانہ سر ے سےسمجھ ہی نہیں آیا۔'' صائقہ صاحبہ نے ہنستے ہنستے میری مٹی پلید کی ۔
میں اپنا سا منہ لے کر اپنا افسانہ اٹھائے مریل قدموں سے گھر کی جانب چل پڑی ۔
پیچھے سے ارسہ نے آواز دی۔
''ثانیہ رکو!''
''ہاں ارسہ کیا ہوا؟ تمھاری تنقید ابھی رہتی ہے؟''
''ارے نہیں پاگل ! لوگوں کی تو عادت ہے باتیں بنانا تم ان کی باتوں کو دل پرمت لینا۔''
''ہاہا ہا! دل ہوگا تو دل پر لوں گی ناں ''میں طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے گھر کی جانب چل پڑی۔
اگلے دن صبح اٹھی تو ایک بری خبر میری منتظرتھی ۔ میرے ہونے والے سسرالی منگنی کا سب سامان انگوٹھی سمیت واپس لے گئے تھے۔ نیند میں چھوٹی بہن نے میری منگنی کی اگلی اور میری نام نہا د محبت کی نشانی کب میری انگلی سے اتاری مجھے معلوم نہ ہو سکا۔ دل ہوتا تو وہ اس لمحے کئی دھڑکنیں مس کر دیتا۔
''لیکن امی انھوں ایسا کیوں کیا اچا نک؟''
میں نے خشک اور ویران آنکھوں سے امی کودیکھتے ہوئے انتہائی لا چاری سے سوال کیا۔
''چھوڑو بیٹا! وہ لوگ تمھارے قابل ہی نہیں تھے ۔''
امی غصے میں بولیں تو بھابھی درمیان میں بول پڑیں ۔
''ارے امی! اصل بات بتا ئیں نا چھپانے کا کیا فائدہ۔ ثانیہ انھیں تمھاری بیماری سے مسئلہ ہے۔ کیونکہ تم ایک پتھر کے ساتھ ایبنارمل زندگی گزار رہی ہو۔ اور پھر کیا پتہ کتنا عرصہ جی پاؤ۔''
بھابھی نے صاف گوئی کی ساری حدیں پار کر لیں تھیں ۔ وہ شاید یہ بھول گئی تھیں کہ زندگی اور موت کا تو کسی کا بھی نہیں پتہ یا شاید میری منگنی ٹوٹنے پر انھوں نے آج کھل کر سکون کا سانس لیا ہو جس کے ہونے پر پورا خاندان جل بھن گیا تھا۔
میری منگنی ختم ہونے کا اتناد کھ مجھے نہیں ہوا تھا جتنا لوگوں کو ہوا تھا۔ دن بھر ''تعزیتی" کالز اور لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا۔ سب کرید کرید کر وجوہات جاننے کی کوشش کرتے اور پھرمرچ مصالحے لگا کر دوسروں تک پہنچاتے۔ ابھی اس صدمے سے گزرے کچھ ہی دن ہوۓ تھے کہ مجھے پتہ چلا کہ اپنی پہلی کتاب کا جو مسودہ میں نے اپنی ایک دوست کو پڑھنے کے لیے دیا تھا۔ وہ اس نے اپنے نام سے چھپالیا ہے ۔ تب میری برداشت اور غصے کی حد جیسے ختم ہوگئی ۔ میں نے اسے بہت برا بھلا کہا لیکن وہ ماننے کو تیار ہی نہیں تھی کہ اس نے میرا مسودہ چوری کیا ہے ۔ پھر میرے پاس اس کا کوئی ثبوت بھی نہیں تھا کہ میں عدالتوں کے چکر لگاتی ۔اب میں تھک چکی تھی۔ مجھ میں مزید کچھ کرنے کی ہمت بھی نہیں تھی ۔ گھر میں بھا بھیاں معنی خیز انداز میں دیکھتیں اور باہر لوگوں کی نظر میں کچھ نہ کہتے ہوئے بھی بہت کچھ کہہ جاتیں ۔ میرے جیسے حساس لوگوں کا کام واقعی گوشت پوست کے دل کے سہارے جینے کانہیں تھا۔ ہمیں واقعی پتھر کے دل لگوانے کی ضرورت ہوتی ہے۔اس رات میں کافی دیر تک اسی گزری ہوئی زندگی کے بارے میں سوچتی رہی جس میں لوگوں نے کانٹے بودیے تھے اور ان کانٹوں نے میرے دل کو لہولہان کر دیا تھا۔ وہ پتھرہی تھا جواب تک وفا نبھا رہا تھا ۔ سوچتے سوچتے اور روتے روتے نجانے کب میں نیند کی وادیوں میں کھوگئی ۔ ایک روتی ہوئی اور بین کرتی ہوئی آواز سے میری آنکھ کھلی ۔ وہ آواز میری امی کی تھی ۔ وہ ایک چار پائی کو پکڑے چیخ چیخ کر رو رہی تھیں ۔ نجانے کون مر گیا تھا۔ میں جلدی سے اٹھ کر امی کے پاس آئی اور انھیں دلاسہ دینے لگی لیکن وہ میری بات سن ہی نہیں رہی تھیں۔ بس روئے جاری تھی ۔ کمرے کے کونے میں ڈاکٹر معیز بھی تھے جو میرے بھائی سے کچھ کہہ رہے تھے۔ بھائی کی آنکھوں سے بھی آنسو رواں تھے ۔ نجانے کیا ہوا تھا؟ کون مر گیا تھا؟ گھر میں سب تو زندہ نظر آرہے تھے۔ میری نظروں کے سامنے تھے۔
''بس اماں صبر کرو ۔ وہ اتنی ہی زندگی لکھوا کر آئی تھی۔ اللہ کو شاید یہی منظور تھا ۔''
ڈاکٹرمعیز نے بھائی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دلاسہ دیا۔
'' لیکن آپ نے تو کہا تھا کہ وہ پتھر کا دل نہیں ٹوٹے گا ۔ اس سے اچھا ہم اس کے لیے کسی اصلی گوشت پوست کے دل کا انتظام کر دیتے ۔''
عمار ہچکیاں لے کر رورہاتھا۔
'' یہ کس کی بات کر رہے ہیں ۔ پتھر کا دل تو میرا ہے اور میں تو زندہ ہوں ۔'' میں ان کی باتوں پر حیران ہوئی ۔
جب میں نے اس کا دل کھولا تو عمارپتھر ریزہ ریزہ ہو چکا تھا جب وہ پتھر کا دل نہیں سنبھال پائی تو گوشت کے دل کا کیا حال ہوتا۔ بس صبر کرو۔ حساس انسانوں کو شاید اتنا ہی زندہ رہنا ہوتا ہے ۔ یقین کرو مجھے اس کے جانے کا بہت دکھ ہے ۔ اس جیسا انسان شاید ہی دنیا میں کوئی اور ہو۔ چپ چاپ صبر سے سب کچھ سہہ جانے والا اور منہ سے شکوہ کا ایک لفظ نکالے بغیر ...''
''یہ میری بات کر رہے ہیں؟'' میں نے ڈاکٹر معیز کی پوری بات بھی نہیں سنی اورمیت کی جانب بھاگی ۔ قریب سے دیکھا تو منہ سے چیخ نکل گئی جو میرے علاوہ کسی کو سنائی نہ دی ۔ ہاں ! میرا پتھر دل بھی ٹوٹ گیا تھا۔ دنیا بہت ظالم ہے ۔ یہ کبھی جینے نہیں دیتی۔اگر میرالو ہے کادل ہوتا تو یہ آگ سے اسے بھی پگھلا دیتی ۔ پتھر نے پھر بھی وفا کی جتنی وہ کر سکا اور آج بھی وہ میرے پاس ہے ۔ ہاں وہ مرنے کے بعد بھی میرے ساتھ ہے ۔ میری قبر کے سرہانے پتھر کا ہی کتبہ لگا ہوا ہے۔
نازک تھے اس قدر کہ گل تر سے مر گئے
ہم تہمتوں کے ایک ہی پتھر سے مر گئے
معلوم کر رہا تھا زمانہ جواز مرگ
اپنوں نے کہہ دیا کہ مقدر سے مر گئے
مصنف: زنیرہ بخاری
کتاب چہرہ پہ مصنف سے ملیں
مجموعہ:مائیگرین اور محبت

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں