نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

افسانہ پتھر از زنیرہ بخاری||زنیرہ بخاری کے افسانے||Zunera Bukhari ||afsana Pather

 

 پتھر

 

''ثانیہ صاحبہ آپ کے دل کی تقریبا تمام Veins بند ہو چکی ہیں ۔ میں تو حیران ہوں کہ اب تک آپ زندہ کیسے ہیں؟ ''ڈاکٹر معیز نے میرا  تفصیلی معائنہ کرنے کے بعد ایک بری خبر سنائی۔

کل شام ایک ادبی محفل میں اچانک میں بے ہوش ہو گئی۔ میرے دوست مجھے ہسپتال لے کر آۓ تو پورا ایک دن میں ICU میں بے ہوشی کی حالت میں پڑی رہی۔ میرے سارے ٹیسٹ وغیرہ ہوئے تو یہ خوف ناک خبر کی طرح مجھ پر گری اور میرے وجودکو ریزہ ریزہ کر گئی ۔ انجائنا کا ہلکا سا اٹیک تو ایک دفعہ ہوا تھا۔ پھر دوائیاں اور علاج وغیرہ سے وہ ٹھیک ہو گیا تو میرا دھیان اس جانب سے ہٹ گیا۔ پھر میں لکھنے پڑھنے کے کاموں میں مصروف ہوگئی۔ کچھ دنوں سے طبیعت خراب تھی پر میں ڈاکٹر کے پاس جانا ٹالے جا رہی تھی۔ اور یہ ٹالنا بہت برا ثابت ہوا اور میری حالت انتہائی تشویش ناک ہوگئی۔

''ڈاکٹر صاحب کیا اب کوئی علاج کا راستہ ہے؟“

''میں نے آپ کو پہلے بھی سمجھایاتھا ثانیہ صاحبہ کہ دنیا کی باتوں کو دل پر نہ لیا کریں۔اب دیکھیں آپ نے خود کا کیا حال کر لیا ہے۔''

''شاید رائٹرز ہوتے ہی حساس طبیعت کے مالک ہیں ڈاکٹر صاحب ۔''

 میں نے پھیکی سی ہنسی ہنستے ہوئے جواب دیا۔

'' لیکن آپ کچھ زیادہ ہی حساس ہیں ۔ دل بھی آخر کب تک برداشت کرتا۔ لوگوں کے طنز اور اذیت میں ڈوبے ہوئے نشتروں کو آپ اپنا دل کھلے عام پیش کرتی رہیں ۔ حالانکہ آپ کو تجاہل کی ڈھال سے ان کا سامنا کرنا چاہیے تھا۔'' ڈاکٹر معیز کولگتا ہے میرے افسانے بہت ہی پسند تھے اس لیے مجھے مرتا ہوا دیکھنا ان کے لیے کٹھن مرحلہ ثابت ہورہا تھا۔

''ڈاکٹر صاحب ! اب کیا مجھے گھر بیٹھ کر اپنے موت کے دن گننے چاہئیں ؟"

'' آپ جلد از جلد اپنا ہارٹ ٹرانسپلانٹ کروالیں ۔ بلکہ یہ کام اگلے دو تین دن میں ہوجانا چاہیے۔"

''گر دے ٹرانسپلانٹ کا تو میں نے سنا تھا۔ہارٹ ٹرانسپلانٹ بھی ہوسکتا ہے؟ ''

میں حیران ہوئی۔

''چلو گر دے تو سب کے دو ہوتے ہیں ایک Donate کر دیں تو دوسرے سے زندہ رہا جا سکتا ہے ۔ دل تو سب کا ایک ہی ہوتا ہے ۔ کون ایسا جا نبار ہو گا جو اپنا دل بخوشی مجھے دے کر موت کو گلے لگاۓ گا اور میرا دل بھی نہیں مانتا کہ میں کسی کی زندگی چھین کر خودزندگی حاصل کروں ۔ اگر میری زندگی اتنی لکھی ہے تو اتنی ہی سہی ۔''

 ''اف مس  ثانیہ! ایک تو آپ سوچتی بہت زیادہ ہیں ۔ پہلے میری پوری بات  تو سن لیں''

''جی  فرمائیے '' میں شرمندہ ہوئی ۔

''آپ کا دل ہٹا  کر ہم پتھر لگا دیں گے ۔''

''پھر !!!'' ڈاکٹر صاحب کے منہ سے یہ بات سن کر ، اتنے سوگوار ماحول میں بھی وہ میری دوست کے منہ سے ہنسی نکل گئی جسے اس نے بمشکل قابو کیا۔

 ہنسنے کی  بات نہیں ہے۔ یہ ایک نئی ٹیکنالوجی ہے ۔ جو لوگ بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں ہم ان کے دل میں دل کی شکل کا ایک پتھر نصب کر دیتے ہیں جس میں فٹ ایک چھوٹا سا آلہ دل کا کام سرانجام دیتا ہے ۔ مس  ثانیہ جتنی حساس ہیں وہ کہاں ایک نرم گوشت کے ٹکڑے کا دل سنبھال سکتی ہیں ۔ جیسے موبائل کی  سکرین پر Protector لگا کر ہم اس کی Touch Screen کوٹوٹنے سے محفوظ کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم مس  ثانیہ کے آلہ نما دل کے باہر پتھر لگا کر ان کا وہ دل لوگوں کی باتوں سے ٹوٹنے سے محفوظ رکھیں گے ۔'' میں اب ڈاکٹر صاحب کی باتوں سے حیران ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان بھی ہوگئی تھی۔

'' ڈاکٹر صاحب! میں نے ایسا پہلے کبھی نہیں سنا۔ کیا میں پتھر کے ساتھ زندہ ر وسکوں گی؟''

 

مس’’ ثانیہ ! آپ کے پاس اور کوئی چوائس بھی تو نہیں ہے ۔ مرتو آپ ویسے بھی رہی ہیں ۔‘'ڈاکٹر صاحب مسکراۓ ۔'' آپ جلد از جلد فیصلہ کر لیں ۔''

 ہاسپٹل کے لان میں دو گھنٹے بینچ پر بیٹھ کر میں نے سوچ بچار کے بعد ڈاکٹر صاحب کی بات ماننے  کا فیصلہ کرلیا کیونکہ اس کے علاوہ میرے پاس واقعی کوئی آپشن نہیں تھا۔

دودن بعد میرا ہارٹ ٹرانسپلانٹ کا آپریشن کامیاب رہا اور اللہ کے فضل کرم سے میں نے ایک نئی زندگی کا آغاز کیا۔ زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے پھر وہ چاہے تو پتھر کے ذریعے بھی نئی زندگی بخش دیتا ہے ۔

 وقت گزرتا گیا۔ میں پھر سے افسانے لکھنے لگی اور پھر سے لوگوں کی باتیں برداشت کرتے ہوۓ زندگی کی گاڑی دھکیلنے لگی ۔لیکن اب ان کی باتیں مجھے دکھ نہیں پہنچاتی تھیں کیونکہ دل تو تھا نہیں جسے درد ہوتا اور پتھر دل کیا خاک در دمحسوس کرتا۔

اس دن بھی ایک ادبی محفل میں میرے افسانے کا تماشہ لگا ہوا تھا۔

''ثانیہ جی! آپ کے افسانے میں اردو Flavor نہیں ۔ ایسا لگتا ہے آپ نے افسانہ کسی اور زبان میں سوچ کر اردو میں لکھا ہے ۔''

اب بندہ پوچھے کہ ابرار صاحب نےمیرے دماغ میں جھانک  کر کیسے دیکھ لیا کہ میں کسی زبان میں سوچتی ہوں۔

''ثانیہ جی! آپ کے افسانے لمبے بہت ہوتے ہیں۔''

 اسرار صاحب کو کچھ اور نہ سوجھا تو لمبائی پر تنقید شروع کر دی۔

''بھئی میں تو آج تنقید سے باز ہی رہوں گی کیونکہ مجھے تو ثانیہ کا افسانہ سر ے سےسمجھ ہی نہیں آیا۔'' صائقہ صاحبہ نے ہنستے ہنستے میری مٹی پلید کی ۔

میں اپنا سا منہ لے کر اپنا افسانہ اٹھائے مریل  قدموں سے گھر کی جانب چل پڑی ۔

پیچھے سے ارسہ نے آواز دی۔

 ''ثانیہ رکو!''

''ہاں ارسہ کیا ہوا؟ تمھاری تنقید ابھی رہتی ہے؟''

''ارے نہیں پاگل ! لوگوں کی تو عادت ہے باتیں بنانا تم ان کی باتوں کو دل پرمت لینا۔''

''ہاہا ہا! دل ہوگا تو دل پر لوں گی ناں ''میں طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے گھر کی جانب چل پڑی۔

اگلے دن صبح اٹھی تو ایک بری خبر میری منتظرتھی ۔ میرے ہونے والے سسرالی منگنی کا سب سامان انگوٹھی سمیت واپس لے گئے تھے۔ نیند میں چھوٹی بہن نے میری منگنی کی اگلی اور میری نام نہا د محبت کی نشانی کب میری انگلی سے اتاری مجھے معلوم نہ ہو سکا۔ دل ہوتا تو وہ اس لمحے کئی دھڑکنیں مس کر دیتا۔

''لیکن امی انھوں ایسا کیوں کیا اچا نک؟''

 میں نے خشک اور ویران آنکھوں سے امی کودیکھتے ہوئے انتہائی لا چاری سے سوال کیا۔

''چھوڑو بیٹا! وہ لوگ تمھارے  قابل ہی نہیں تھے ۔''

 امی غصے میں بولیں تو بھابھی درمیان میں بول پڑیں ۔

''ارے امی! اصل بات بتا ئیں  نا چھپانے کا کیا فائدہ۔ ثانیہ انھیں تمھاری بیماری سے مسئلہ ہے۔ کیونکہ تم ایک پتھر کے ساتھ ایبنارمل زندگی گزار رہی ہو۔ اور پھر کیا پتہ کتنا عرصہ جی پاؤ۔''

 بھابھی نے صاف گوئی کی ساری حدیں پار کر لیں تھیں ۔ وہ شاید یہ بھول گئی تھیں کہ زندگی اور موت کا تو کسی کا بھی نہیں پتہ یا شاید میری منگنی ٹوٹنے پر انھوں نے آج کھل کر سکون کا سانس لیا ہو جس کے ہونے پر پورا خاندان جل بھن گیا تھا۔

میری منگنی ختم ہونے کا اتناد کھ مجھے نہیں ہوا تھا جتنا لوگوں کو ہوا تھا۔ دن بھر  ''تعزیتی" کالز اور لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا۔ سب کرید کرید کر وجوہات جاننے کی کوشش کرتے اور پھرمرچ مصالحے  لگا کر دوسروں تک پہنچاتے۔ ابھی اس صدمے سے گزرے کچھ ہی دن ہوۓ تھے کہ مجھے پتہ چلا کہ اپنی پہلی کتاب کا جو مسودہ میں نے اپنی ایک دوست کو پڑھنے کے لیے دیا تھا۔ وہ اس نے اپنے نام سے چھپالیا ہے ۔ تب میری برداشت اور غصے کی حد جیسے ختم ہوگئی ۔ میں نے اسے بہت برا بھلا کہا لیکن وہ ماننے کو تیار ہی نہیں تھی کہ اس نے میرا مسودہ چوری کیا ہے ۔ پھر میرے پاس اس کا کوئی ثبوت بھی نہیں تھا کہ میں عدالتوں کے چکر لگاتی ۔اب میں تھک چکی تھی۔ مجھ میں مزید کچھ کرنے کی ہمت بھی نہیں تھی ۔ گھر میں بھا بھیاں معنی خیز انداز میں دیکھتیں اور باہر لوگوں کی نظر میں کچھ نہ کہتے ہوئے بھی بہت کچھ کہہ جاتیں ۔ میرے جیسے حساس لوگوں کا کام واقعی گوشت پوست کے دل کے سہارے جینے کانہیں تھا۔ ہمیں واقعی پتھر کے دل لگوانے کی ضرورت ہوتی ہے۔اس رات میں کافی دیر تک اسی گزری ہوئی زندگی کے بارے میں سوچتی رہی جس میں لوگوں نے کانٹے بودیے تھے اور ان کانٹوں نے میرے دل کو لہولہان کر دیا تھا۔ وہ پتھرہی تھا جواب تک وفا نبھا رہا تھا ۔ سوچتے سوچتے اور روتے روتے نجانے کب میں نیند کی وادیوں میں کھوگئی ۔ ایک روتی ہوئی اور بین کرتی ہوئی آواز سے میری آنکھ کھلی ۔ وہ آواز میری امی کی تھی ۔ وہ ایک چار پائی کو پکڑے چیخ چیخ  کر رو رہی تھیں ۔ نجانے کون مر گیا تھا۔ میں جلدی سے اٹھ کر امی کے پاس آئی اور انھیں دلاسہ دینے لگی لیکن وہ میری بات سن ہی نہیں رہی تھیں۔ بس روئے جاری تھی ۔ کمرے کے کونے میں ڈاکٹر معیز بھی تھے جو میرے بھائی سے کچھ کہہ رہے تھے۔ بھائی کی آنکھوں سے بھی آنسو رواں تھے ۔ نجانے کیا ہوا تھا؟ کون مر گیا تھا؟ گھر میں سب تو زندہ نظر آرہے تھے۔ میری نظروں کے سامنے تھے۔

''بس اماں صبر کرو ۔ وہ اتنی ہی زندگی لکھوا کر آئی تھی۔ اللہ کو شاید یہی منظور تھا ۔''

 ڈاکٹرمعیز نے بھائی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دلاسہ دیا۔

'' لیکن آپ نے تو کہا تھا کہ وہ پتھر کا دل نہیں ٹوٹے گا ۔ اس سے اچھا ہم اس کے لیے کسی اصلی گوشت پوست کے دل کا انتظام کر دیتے ۔''

عمار ہچکیاں لے کر رورہاتھا۔

'' یہ کس کی بات کر رہے ہیں ۔ پتھر کا دل تو میرا ہے اور میں تو زندہ ہوں ۔'' میں ان کی باتوں پر حیران ہوئی ۔

جب میں نے اس کا دل کھولا تو  عمارپتھر  ریزہ ریزہ  ہو چکا  تھا جب وہ پتھر کا دل نہیں سنبھال پائی تو گوشت کے دل کا کیا حال ہوتا۔ بس صبر کرو۔ حساس انسانوں کو شاید اتنا ہی زندہ رہنا ہوتا ہے ۔ یقین کرو مجھے اس کے جانے کا بہت دکھ ہے ۔ اس جیسا انسان شاید ہی دنیا میں کوئی اور ہو۔ چپ چاپ صبر سے سب کچھ سہہ جانے والا اور منہ سے شکوہ کا ایک لفظ نکالے بغیر ...''

''یہ میری بات کر رہے ہیں؟'' میں نے ڈاکٹر معیز کی پوری بات بھی نہیں سنی اورمیت کی جانب بھاگی ۔ قریب سے دیکھا تو منہ سے چیخ نکل گئی جو میرے علاوہ کسی کو سنائی نہ دی ۔ ہاں ! میرا پتھر دل بھی ٹوٹ گیا تھا۔ دنیا بہت ظالم ہے ۔ یہ کبھی جینے نہیں دیتی۔اگر میرالو ہے کادل ہوتا تو یہ آگ سے اسے بھی پگھلا دیتی ۔ پتھر نے پھر بھی وفا کی جتنی وہ کر سکا اور آج بھی وہ میرے پاس ہے ۔ ہاں وہ مرنے کے بعد بھی میرے ساتھ ہے ۔ میری قبر کے سرہانے پتھر کا ہی کتبہ لگا ہوا ہے۔

 

نازک تھے اس قدر کہ گل تر سے مر گئے

ہم تہمتوں کے ایک ہی پتھر سے مر گئے

معلوم کر رہا تھا زمانہ جواز مرگ

اپنوں نے کہہ دیا کہ مقدر سے مر گئے


مصنف:      زنیرہ بخاری

افسانہ پتھر از زنیرہ بخاری||زنیرہ بخاری کے افسانے||Zunera Bukhari ||afsana Pather

کتاب چہرہ پہ مصنف سے ملیں 

مجموعہ:مائیگرین اور محبت

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

دستور نظم حبیب جالب||dastoor habib jalib||habib jalib main nahi manta

فیلڈ مارشل ایوب خان نے 1962 میں ایک آئین نافذ کیا   جو فرد واحد کے اقتدار کو بچانے اور اس کی طاقت کے دوام کے لیے نافذ کیا گیا تھا ۔اس آئین کے جواب میں حبیب جالب ؔ جو شاعر عوام و جمہور تھے  اور محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے تھے  نظم ’’ دستور ‘‘ لکھی   یہ نظم اس دور میں اتنی مقبول ہوئی کہ کسی نے ایوب خان سے کہا ’’ تمھارا  آئین  نافذ نہیں  ہو سکا ایک کمرے میں رہنے والا  ایک غریب سا شاعر اس آئین سے جیت گیا ہے  ‘‘ یہ نظم آج بھی ظلم و جبر اور انسانی آوازوں کے دبانے پر یاد کی جاتی ہے یہ  جمہور کی آزادی اور مزاحمت کا استعارہ ہے ۔ نظم پڑھیں دستور حبیب جالب دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا Deep jis ka mehlaat hi mein jale Chand logon ki khushiyon ko le kar chale Woh jo saaye mein har maslihat ke pale Aise dastoor ko subah be-noor ko Main nahin m...

تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations

   لیکچر نمبر:۶ تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی  مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations ڈاکٹر محمد قمر اقبال کا حضرت اقبال کی تصنیفات پر مفصل اور تحقیقی لیکچر  علامہ اقبال کی مشہور تصانیف تصانیف اقبال کا تعارف ۲۴۔اکتوبر ۲۰۲۱ء بزم فکر  اقبال پاکستان کے صدر جناب  پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال نے ۲۴۔ اکتوبر کو اقبال کی تصنیفات کے بارے میں ایک مبسوط لیکچر فراہم کیا جس میں اقبال کی تصنیفات کو ان کے سال اشاعت کی ترتیب سے شرکاء  کے گوش گزار کیا گیا۔یہ لیکچر معلوماتی سطح کا تھا فکر اقبال کے طالب علموں کو اقبال کی  فکر کے سرچشموں سے کماحقہ  آگاہ ہونا چاہیے اوریہ لیکچر اس سلسلے میں بھر پور معاونت فراہم کرتا ہے اقبال کی شاعری کی کتب ،نثری کتب ،تراجم اوران کے بعد مرتبہ کتب جو ان کی وفات کے بعد اکٹھی کی گئیں سب اس لیکچر میں جمع کر دی گئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی حوالہ جاتی کتب بھی قارئین کو لکھوا دی گئی ہیں اپنے مشمولات کے لحاظ سے یہ لیکچر کافی اہم ہے جس میں اقبال کی کتابیات تیار ہو گئی ہے ۔ڈاک...

himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب

غزل ہمانشی بابرہ himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب  لوگ تو لوگ ہیں لوگوں کی طرح دیکھتے ہیں ایک ہم ہیں اسے بچوں کی طرح دیکھتے ہیں   ہم کو دنیا نے لکڑ ہارا سمجھ رکھا ہے ہم تو پیڑوں کو پرندوں کی طرح دیکھتے ہیں   تم تو پھر غیر ہو تم سے تو پھر شکایت کیسی میرے اپنے مجھے غیروں کی طرح دیکھتے ہیں تیرا دیدار قضا ہوتا نہیں ہے ہم سے ہم تجھے دیکھنے والوں کی طرح دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل   میری خوشبو کو ہواؤں میں اڑانے والا لوٹ  کے آیا نہیں چھوڑ  کے جانے والا   پیار کے ساتھ مجھے طعنے دیا کرتا ہے  تجھ میں بھی رنگ ہے کچھ کچھ زمانے والا   ایسے بچھڑا ہے کہ ملنے کی  دعا کرتا ہے ہر ملاقات پہ منہ پھیرکے  جانے والا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   غزل     ساتھ دینے کا دلایا تھا بھروسا تونے اور پھر چھوڑ دیا مجھ کو اکیلا تو نے   اپنی مرضی سے مجھے چھوڑ کے جانے والے میری مرضی کو کہاں چھوڑ دیا تھا تو نے    بات رخسار کی ہوتی تو کوئی بات نہ تھی آج تو روح پہ مارا ہے تمانچا    تو نے   ...

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...

2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری

  اٹھا عجب تضاد سے انسان کا خمیر عادی فنا کا تھا    تو پجاری بقا کا تھا احمد ندیم قاسمی Utha ajab tazad se insan    ka khameer Adi fana ka tha to pujari baqa ka tha Ahmad Nadeem  Qasmi اداسیوں کا سبب کیا    کہیں بجز اس کے یہ زندگی ہے پریشانیاں    تو ہوتی ہیں احمد فراز Udasion ka sabab kia kahin bajuz is ky Ye zindagi hai preshanian to hoti hain Ahmad Faraz خود کو ترتیب دیا از سرِ نو زندگی میں ترا انکار بہت کام آیا Khud ko tarteeb dia az sar-e-nau Zindagi main tira inkar bht kam aya مرنا تو اس جہاں میں کوئی حادثہ نہیں اس دور ِ ناگوار میں جینا کمال ہے حسنی Marna to is jahan main koi hadsa nhi Is dor-e-Nagawar main jeena  kamal hai 2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری