باسودے کی مریم
مریم کے خیال میں ساری دنیا میں بس تین ہی شہر تھے۔ مکہ، مدینہ اور گنج باسود ہ۔ مگر یہ تین تو ہمارا آپ کا حساب ہے، مریم کے حساب سے مکہ، مد ینہ ایک ہی شہر تھا۔'' اپنےحجو رکا سہر''مکے مدینے سریپ میں ان کے حجو رتھے اور گنج با سودے میں ان کا ممدو۔
ممدوان کا چھوٹا بیٹا تھا۔ اس کے رخسار پر ''اتا بڑا'' ناسور تھا۔ بعد میں ڈاکٹروں نے ناسور کاٹ پیٹ کر رخسار میں ایک کھڑ کی بنادی تھی جس میں سے ممدو کی زبان پانی سے نکلی ہوئی مچھلی کی طرح تڑپتی رہتی تھی۔ مجھے یاد ہے پہلی بار مریم نے اماں کوسرجری کا لطیفہ سنایا تھا تو میں کھی کھی کرکے ہنسنے لگا تھا ۔ اگر مریم اپنے کھردرے ہاتھوں سے کھینچ کھانچ کے مجھے اپنی گود میں نہ بھر لیتیں تو میری وہ پٹائی ہوتی کہ رہے نام اللہ کا۔'' اے دلھین ! بچہ ہے۔ بچہ ہے ری دلھین بچہ ہے ۔'' مگرا ماں نے غصے میں دوچار ہاتھ جڑہی دیے جومریم نے اپنے ہاتھوں پر روکے اور مجھے اٹھا کر اپنی کوٹھری میں قلعہ بند ہوگئیں۔ مریم کے اندھیرے قلعے میں بڑی دیر تک ٹھس ٹھس کر کے روتا رہا۔ وہ اپنے اور میرے آنسو پونچھتی جاتی تھیں اور چیخ چیخ کر خفا ہورہی تھیں ،'' اے ری دلھین ، یہ اللہ کی دین ہیں ۔۔۔نبی کے امتی ہیں ۔ انھیں مارے گی، کوٹے گی تو اللہ نبی کھش ہوں گے تجھ سے؟ تو بہ کر دلھین!توبہ کر۔''
پھر وہ طرح طرح سے کھڑ کی اور مچھلی والا لطیفہ سنا سنا کر مجھے بہلانے لگیں،'' تو بیٹا ڈانگدروں نے کیا کیا کہ حرامیوں نے ممدو کے گال میں کھڈ کی بنا دی اور کھڈ کی میں سے تھرک تھرک، تھرک تھرک ...'' مریم کا دل بہت بڑا تھا اور کیوں نہ ہوتا ، اس میں ان کے حجو رکا مکہ مد ینہ آبادتھا اورسینکڑوں باسودے آباد تھے ۔ جن میں ہزاروں لاکھوں گل گتھنے ممدو اپنی گول مٹول مٹھیوں سے مریم کی دودھوں بھری ممتا پر دستک دیتے رہتے تھے ۔'' انا بوا! دروازہ کھولو۔ اللہ کی دین آۓ ہیں ۔ نبی کے امتی آۓ ہیں ۔''
مریم نے میرے ابا کو دودھ پلایا، وہ میری کھلائی اور میری پناہ تھیں، وہ میرے بھانجے بھانجیوں کی انا تھیں اور ابھی زندہ ہوتیں تو انھی بھانجے بھانجیوں کے بچے اپنے چارج میں لیے بیٹھی ہوتیں ۔ میری تین پشتوں پر مریم کا احسان ہے۔
میں نے ایک بار مریم کے قلعے میں گھس کر ان کی پٹلیا سے گڑ کی بھیلی چرا لی ۔ مریم بچوں کو بگاڑنے والی مشہور تھیں ۔ مگر مجال ہے جو بڑے جرائم میں کسی کی حمایت کر جائیں ۔ انھوں نے فوری طور پر اماں سے میری رپورٹ کر دی اور اماں ، خدا انھیں خوش رکھے، جاگیردار کی بیٹی ، کھری پٹھانی ،اپنی اولاد سے کوئی گھٹیا فعل منسوب ہوتے دیکھ ہی نہیں سکتیں ۔انھوں نے جلال میں آ کر الٹا مریم سےان بولا کر لیا۔
ابا کو پتا ہی نہ تھا کہ گھر میں سرد جنگ جاری ہے ۔ وہ اسی طرح عشا کی نماز کے بعد پندرہ بیس منٹ کے لیے مریم کے پاس بیٹھ کر ان کا حال احوال پو چھتے مریم کے پاؤں دابنے کی کوشش کرتے اوران کی پیار بھری جھڑ کیوں کی دولت سمیٹ کر اپنے کمرے میں سونے چلے جاتے ۔
تین چار دن میری یہ دو جنتیں ایک دوسرے سے برگشتہ ر ہیں اور میں گنہ گار عذاب جھیلتا رہا۔
اماں نے مریم کی دیکھ بھال میں کوئی کوتاہی تو نہ کی مگر مریم کا سامنا ہو جا تا تو اماں کے نازک خدوخال آپی آپ سنگ و آہن بن جاتے ۔ مریم زیادہ تر اپنی کوٹھری میں محصور رہیں اور شاید روتی رہیں ۔ آخر چوتھے پانچویں دن میں پھوٹ بہا اور پٹائی کے خوف سے بے نیاز ہوکر اماں کی گود میں سر رکھ کر میں نے اقبال جرم کر لیا۔ اماں کے پاؤں تلے کی زمین نکل گئی۔ بس ایک غضب کی نگاہ کی ، مجھے ایک طرف دھکیل کر اٹھ کھڑی ہوئیں اور بجلی کی سی تیزی سے مریم کے قلعے میں داخل ہوگئیں ۔ ''ا نا بوا تمھا رامنجھلا تو چور نکلا''۔ بوا! ہمیں معاف کر دو ۔ ''میں نے کواڑ کی آڑ سے دیکھا کہ مریم لرزتے ہاتھوں سے اماں کےدونوں ہاتھ تھامے انھیں چوم رہی ہیں۔ کبھی ہنستی ہیں ،کبھی روتی ہیں اور کبھی اماں کو چپت لگانے کا ڈراما کرتی ہیں ۔'' بس ری دلھین ، بس کر ، چپ ری دلھین! چپ کر ۔ دیکھ، میں مار بیٹھوں گی ۔''
مریم سیدھی سادی میواتن تھیں ۔ میری خالہ سے مرتے دم تک صرف اس لیے خفار ہیں کہ عقیقےپر ان کا نام فاطمہ رکھ دیا گیا تھا ۔'' ری دلھین !بی بی پھاطمہ توایکئی تھیں ۔ نبی جی سرکار کی سہجادی تھیں،دنیا آکھرت کی باچھا تھیں ۔ ہم دوجخ کے کندے بھلا ان کی برو بری کریں گے ۔ تو بہ تو بہ استگپھار ۔''
محرم میں نویں اور دسویں کی درمیانی شب وہ خشوع و خضوع سے تعزیے، سواریاں اور اکھاڑے دیکھتیں ، خوب خوب پاپڑ ، پکوڑے کھاتیں کھلاتیں اور دسویں کو صبح ہی سے''و جو بنا کے'' بیٹھ جاتیں ، ہم لڑکوں کو پکڑ پکڑ کر دن بھر شہادت نامہ سنتیں یا کلمہ طیبہ کا ورد کرتیں ، اور خدا مغفرت کرے، کلمہ شریف بھی جس طرح چاہتیں پڑھتیں :''لا الا ہا ال للانبی جی رسول الا ۔حجو رجی رسول الا ۔ ''
امام حسین کا نام لے لے کر بین کرتیں ، روروکر آنکھیں سجالیتیں اور بین کرتے کرتے گالیوں پر اتر آتیں ۔'’رے حرامیوں نے میرے سہجادے کو مار دیا۔رے ناس مٹوں نے میرے باچھا کو ماردیا۔''
محرم میں وہ ہم لڑکوں کو حسن حسین کے فقیر بناتی تھیں ۔ ہمارے کرتے ہرے رنگ دیتیں۔ گردنوں میں کلاوے ڈال دیتیں اور چھوٹی چھوٹی بٹونیاں سی کر ان میں دو دو آنے کے پیسے ڈال ،سیفٹی پنوں سے ہمارے گریبانوں میں ٹانک دیتی تھیں ۔
حق مغفرت کرے، ہمارے دادا میاں مرحوم تھوڑے سے وہابی تھے۔ ابا بھی ان سے کچھ متاثر ہیں پر محرم کے دنوں میں مریم کے آگے کسی کی وہابیت نہ چلتی ۔ دس روز کے لیے تو بس مریم ہی ڈکٹیٹر ہوتیں ۔ مگر یہ ڈکٹیٹری بھی ، جیو اور جینے دو، کے اصول پر چلاتی تھیں ، ہمیں فقیر بنا کر چپکے سے سمجھا دیتی تھیں،'' دیکھ رے بیٹا !بڑے میاں جی کے سامنے متی جانا ۔''
اور بڑے میاں جی بھی ، خدا ان پر اپنی رحمتوں کا سایہ رکھے، کمال بزرگ تھے۔ ظاہرتو یہ کرتے تھے جیسے مریم کی ان باتوں سے خوش نہیں ہیں ۔ پر ایک سال محرم کے دنوں میں مریم باسودے چلی گئیں، ہمارے گھر میں نہ شہادت نامہ پڑھا گیا ، نہ ہاۓ حسین ہوئی ، نہ ہم فقیر بنے ۔ عاشورے پرہم لڑ کے دن بھر ہا کی کھیلتے رہے ۔ عصر کی نماز پڑھ کر دادا میاں گھر لوٹ رہے تھے۔ ہمیں باڑے میں ادھم مچاتے دیکھا تو لاٹھی ٹیک کر کھڑے ہو گئے ۔ ''ابے کرشٹانو! تم حسن حسین کے فقیر ہو؟بڑھیا نہیں ہے تو جانگئیے پہن کر ادھم مچانے لگے ۔ یہ نہیں ہوتا کہ آدمیوں کی طرح بیٹھ کر یسین شریف پڑھو۔''
یسین شریف پڑھوحسن حسین کے نام پر، یسین شریف پڑھو بڑے میاں جی کے نام پر ،یسین شریف مریم کے نام پر اور ان کے ممدد کے نام پر کہ ان سب خوبصورت ناموں سے تمھاری یادوں میں چراغاں ہے۔
مگر میں ممدو کو نہیں جانتا۔ مجھے صرف اس قدر علم ہے کہ ممد و باسودے میں رہتا تھا اور ڈانگدروں نے اس کے گال میں ایک کھڈ کی بنادی تھی اور اس کھڑکی کے پٹ مریم کی جنت میں کھلتے تھے؛اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ جب مریم بڑے سوز کے ساتھ کھواجہ پیا جرا کھولو کوڑیاں گاتی تھیں تو اماں کی کوئلوں جیسی آواز ان کی آواز میں شامل ہوکر مجھ پر ہزار جنتوں کے دروازے کھول دیتی تھی ۔
میں اماں کے زانو پر سر رکھ کر لیٹ جا تا اور خواجہ پیا کوسروں کے معصوم جھروکے سے درشن بانٹتے دیکھا کرتا۔ سنا ہے، میری اماں موج میں ہوتی ہیں تو اب بھی گاتی ہیں ۔ خدا انھیں ہنستا گاتار کھے ۔ پر مریم کی آواز تھک کر سو چکی ہے یا شاید ایک لمبے سفر پر روانہ ہو چکی ہے اور مکے مدینے سریپ کی گلیوں میں پھول بکھراتی پھر رہی ہے یا با سودے کے قبرستان میں ممد وکولوریاں سنارہی ہے ۔
سفر مریم کی سب سے بڑی آ رزو تھی؛ وہ حج کرنا چاہتی تھیں ۔ ویسے تو مریم ہمارے گھر کی مالک ہی تھیں مگر پتانہیں کب سے تنخواہ لے رہی تھیں ۔ ابا بتاتے ہیں کہ وہ جب اسکول میں ملازم ہوے تو انھوں نے اپنی تنخو اہ مریم کے قدموں میں لاکر رکھ دی ۔ مریم پھول کی طرح کھل اٹھیں ۔ اپنی گاڑھے کی چادر سے انھوں نے ایک چونی کھول کر ملازمہ کو دی کہ جا بھاگ کے بجار سے ز لے بیاں لی آ ۔ مریم نے خودان جلیبیوں پر کلمہ شریف پڑھا اور تنخواہ اور جلیبیاں اٹھا کر بڑے غرور کے ساتھ دادا میاں کے سامنے رکھ آئیں ۔ ''بڑے میاں جی ! مبار کی ہو۔ دولھے میاں کی تنکھاملی ہے ۔''
پھر اس تنخواہ میں سے وہ بھی اپنی تنخواہ لینے لگیں ، جو پتانہیں انھوں نے ایک رو پیہ مقر رکی تھی کہ دوروپے ۔ مریم کا خرچ کچھ بھی نہیں تھا۔ باسودے میں ان کے مرحوم شوہر کی تھوڑی سی زمین تھی ، جو ممد و کے گزارے کے لیے بہت تھی ، اور بکریاں تھیں جن کی دیکھ بھال ممد وکرتا تھا۔ بڑالڑ کا شتاب خاں ریلوائی میں چوکیدار تھا اور مزے کرتا تھا۔ برسوں کسی کو پتا نہ چلا کہ مریم اپنی تنخواہوں کا کرتی کیا ہے ۔ پر ایک دن وہ ڈھیر سارے کل دار روپے، میلے کچیلے نوٹ اور ریز گاری اٹھاۓ ہوے ابا کے پاس پہنچیں اور انکشاف کیا کہ وہ حج کرنے جارہی ہیں ۔ کرائے کی یہ رقم ان کی برسوں کی کمائی تھی۔ یہ مکہ مدینہ فنڈ تھا جومریم خبر نہیں کب سے جمع کر رہی تھیں ۔ ابا نے گن کر بتایا کہ نوسیکڑے تین بیسی سات روپے کچھ آنے ہیں ۔ مریم کو اس سے غرض نہیں تھی کہ یہ کتنے ہیں ، وہ تو سیدھی سی بات پو چھ رہی تھیں کہ ان سے مکے مدینے کا ٹکس مل جاۓ گا یا نہیں ۔ابا نے بتایا کہ بے شک مل جاۓ گا ۔
مریم نے تیاریاں شروع کر دیں۔ وہ اٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے گنگناتی رہتیں کہ کھواجہ پیا جرا کھولوکوڑیاں ۔ ان پر مکے مدینے کی کھڑکیاں کھلی ہوئی تھیں اور ان کھڑکیوں سے نبی جی کے مقدس پیراہن کی خوشبو چلی آ رہی تھی ۔ کسی نے چھیٹر نے کو کہ دیا کہ تم کوڈھنگ سے نماز پڑھنی تو آتی نہیں ، قرآن شریف تو یاد نہیں ہے ، پھر حج کیسے کرو گی؟
مریم بپھر گئیں ۔'' رے مسلمان کی بٹیا، مسلمان کی جورو ہوں ۔ نماج پڑھنا کا ہے نئیں آتی ۔ رے کلمہ سریپ سن لے، چاروں کل سن لے ۔ اور کیا چیے تیرے کو؟ ہاں اور کیا چیے ؟'' پھر ان کے دل میں تو نبی جی کے پیار کا چمن بھی کھلا ہوا تھاکہ یہی بہت تھا۔
مگر ایک دن شتاب خاں کا خط آیا کہ ممدد کی حالیت کھراب ہے ، بکریاں بیچ بانچ کے علاج مالجہ کرایا ، جمعین گروی رکھ دی۔ اب بالکل پیسے نہیں ہیں ۔ صورت دیکھنا چاہتی ہے تو خط کو تا رسمجھنا ۔ مریم کی آنکھوں میں مکہ مدینہ دھندلا گیا۔ انھوں نے نوسیکڑے تین بیسی سات روپے چادر میں باندھے اور روتی پیٹتی با سودے کی بس میں جا بیٹھیں ۔ابا ساتھ جانا چاہتے تھے انھیں سختی سے منع کر دیا۔
ممد و تو ان کی ذمے داری تھا، وہ کسی اور کو اس میں کیوں شریک کرتیں ۔ مریم کا یہ اصول بڑا سفاک تھا۔ انھوں نے باسودے خیریت سے پہنچنے کا خط تو لکھواد یا پر ممدد کے بارے میں ایک لفظ نہیں لکھوایا ۔ مہینے گزر گئے، کسی نے بتایا کہ وہ ممد وکو علاج کے لیے اندور لے گئی ہیں ، پھر پتا چلا کہ بمبئی میں صابو صدیق کی سراۓ میں نظر آئی تھیں ، پھر پتا چلا کہ ممد ومر گیا ہے ۔ پھر ایک لٹی لٹائی مریم گھر لوٹ آئیں ۔
میں اسکول سے گھر پہنچا تو دیکھا کہ مریم صحن میں بیٹھی اپنے مرے ہوے بیٹے کوکوس رہی ہیں ، ''رے حرامی تیراستیا ناس جاۓ رے ممدو!تیری ٹھٹھری نکلے ۔اورے بدجناور تیری کبر میں کیڑے پڑیں۔ میرے سبرے پیسے کھرچ کرا دیے۔ اے ری دلھین !میں مکے مدینے کیسے جاؤں گی ۔ بتا ری دلھین! اب کیسے جاؤں گی ؟“
ابا نے کہا '' میں تمھیں حج کراؤں گا ۔‘'
اماں نے کہا، '''انا بوا، ہم اپنے جہیز والے کڑے بیچ دیں گے تمھیں حج کرائیں گے ۔''
مگر مریم چپ نہ ہوئیں ،دو دن تک روتی رہیں اور ممد دکوکوستی پیٹتی رہیں ۔ لوگوں نے سمجھایا کہ آخر دولھے میاں بھی تو تمھارا ہی بیٹا ہے ، وہ اگر تمھیں حج کرواتا ہے تو ٹھیک ہے، مان کیوں نہیں جاتیں؟ مگر مریم تو بس احسان کرنا جانتی تھیں ، کسی بیٹے کا بھی احسان اپنے سر کیوں لیتیں ۔انھوں نے تو اپنی کمائی کے پیسوں سے حج کرنے کی ٹھانی تھی۔
ممدد کے مرنے کے بعد مریم شاید ایک دفعہ اور با سودے گئیں اپنی زمین کا تیا پانچا کر نے پھر اس کے بعد باسودے کا زوال شروع ہو گیا۔ مریم کے چوڑے چکلے میواتی سینے میں بس ایک ہی شہر بسارہ گیا۔ ان کے حجو رکا سہر۔ وہ اٹھتے بیٹھتے'' نبی ہیں اور حجور جی کرتی رہتیں ۔ کبھی تو یوں لگتا کہ انھیں قرار سا آگیا ہے۔ شاید اس لیے کہ ان کے بھولے بھالے منصوبہ کار ذہن نے ایک نیا مکہ مدینہ فنڈ کھول لیا تھا ۔
ابا نے بڑے شوق سے لحاف سلوا کر دیا ، مریم چپکے سے جا کر بیچ آئیں ۔ عید آئی ، مریم کے بھی کپڑے بنے ، خدا معلوم کب ، کتنے پیسوں میں وہ کپڑے بیچ دیے ۔ ابا اماں سمیت ، ہم سب کو جو ایک ایک آنہ عیدی دیتی تھیں فوری طور پر بند کر دی ۔ پیسا پیسا کر کے پھر مکہ مدینہ فنڈ جمع ہورہا تھا۔ سب ملا کر ابھی پانچ سو ساٹھ روپے ہی جمع ہوے تھے کہ مریم کا بلاوا آ گیا۔ مجھے معلوم نہیں کہ کب اور کس طرح چل بسیں ۔ میں گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنی خالہ کے گاؤں گیا ہوا تھا، واپس آیا تو مجھے دیکھ کر اماں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں : '' منجھلے ! تیری انا بواگزرگئیں لڑ کے !تجھے بگاڑ نے والی گزرگئیں ۔''
ابا نے مجھے حکم دیا کہ میں مریم کی قبر پر ہو آؤں ، میں نہیں گیا۔ میں کیوں جاتا ، ٹھنڈی مٹی کے ڈھیر کا نام تو مریم نہیں تھا۔ میں نہیں گیا۔ ابا ناراض بھی ہوے مگر میں نہیں گیا۔
لوگوں نے بتایا کہ مریم نے مرتے وقت دو وصیتیں کی تھیں ۔ ایک وصیت تو یہ تھی کہ تجہیزو تکفین انھی کے پیسوں سے کی جائے اور باقی کے پیسے شتاب خاں کو بھیج دیے جائیں ۔ دوسری وصیت کا صرف اماں کو علم تھا ۔ اماں کے کان میں انھوں نے مرتے وقت کچھ کہا تھا جوا ماں کسی کو بتانانہیں چاہتی تھیں ۔


لازوال اور معصوم محبت کی کہانی
جواب دیںحذف کریں