نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

باسودے کی مریم از اسد محمد خان||اردو کے بہترین افسانے|Basoday ki marriam az Asad Muhammad Khan

 

 باسودے کی مریم

 

باسودے کی مریم از اسد محمد خان||اردو کے بہترین افسانے||اسد محمد خان کے افسانے||Basoday ki marriam az Asad Muhammad Khan||Urdu afsana

مریم کے خیال میں ساری دنیا میں بس تین ہی شہر تھے۔ مکہ، مدینہ اور گنج باسود ہ۔ مگر یہ تین تو ہمارا آپ کا حساب ہے، مریم کے حساب سے مکہ، مد ینہ ایک ہی شہر تھا۔'' اپنےحجو رکا سہر''مکے  مدینے سریپ میں ان کے حجو رتھے اور گنج با سودے میں ان کا ممدو۔

ممدوان کا چھوٹا بیٹا تھا۔ اس کے رخسار پر ''اتا بڑا'' ناسور تھا۔ بعد میں ڈاکٹروں نے ناسور کاٹ پیٹ کر رخسار میں ایک کھڑ کی بنادی تھی جس میں سے ممدو کی زبان پانی سے نکلی ہوئی مچھلی کی طرح تڑپتی  رہتی تھی۔ مجھے یاد ہے پہلی بار مریم نے اماں کوسرجری کا لطیفہ سنایا تھا تو میں کھی کھی کرکے ہنسنے لگا تھا  ۔ اگر مریم اپنے کھردرے ہاتھوں سے کھینچ کھانچ کے مجھے اپنی گود میں نہ  بھر لیتیں تو میری وہ پٹائی ہوتی کہ رہے نام اللہ کا۔'' اے دلھین ! بچہ ہے۔ بچہ ہے ری دلھین بچہ ہے ۔'' مگرا ماں نے غصے میں دوچار ہاتھ جڑہی دیے جومریم نے اپنے ہاتھوں پر روکے اور  مجھے اٹھا  کر اپنی کوٹھری میں قلعہ بند ہوگئیں۔ مریم کے اندھیرے قلعے میں بڑی دیر تک ٹھس ٹھس کر کے روتا رہا۔ وہ اپنے اور میرے آنسو پونچھتی جاتی تھیں اور چیخ چیخ  کر خفا ہورہی تھیں ،'' اے ری دلھین ، یہ اللہ  کی دین ہیں ۔۔۔نبی کے امتی ہیں ۔ انھیں مارے گی، کوٹے  گی تو اللہ نبی کھش ہوں گے تجھ سے؟ تو بہ کر دلھین!توبہ کر۔''

پھر وہ طرح طرح سے کھڑ کی اور مچھلی والا لطیفہ سنا سنا کر مجھے بہلانے لگیں،'' تو بیٹا ڈانگدروں نے کیا کیا کہ حرامیوں نے ممدو  کے گال میں کھڈ کی بنا دی اور کھڈ کی میں سے تھرک تھرک، تھرک تھرک ...'' مریم کا دل بہت بڑا تھا اور کیوں نہ ہوتا ، اس میں ان کے حجو رکا مکہ مد ینہ  آبادتھا اورسینکڑوں باسودے آباد تھے ۔ جن میں ہزاروں لاکھوں گل گتھنے ممدو اپنی گول مٹول مٹھیوں سے مریم کی دودھوں بھری ممتا پر دستک دیتے رہتے تھے ۔'' انا بوا! دروازہ کھولو۔ اللہ کی دین آۓ ہیں ۔ نبی کے امتی آۓ ہیں ۔''

مریم نے میرے ابا کو دودھ پلایا، وہ میری کھلائی اور میری پناہ تھیں، وہ میرے بھانجے بھانجیوں کی انا تھیں اور ابھی زندہ ہوتیں تو انھی بھانجے بھانجیوں کے بچے اپنے چارج میں لیے بیٹھی ہوتیں ۔ میری تین پشتوں پر مریم کا احسان ہے۔

میں نے ایک بار مریم کے قلعے میں گھس کر ان کی پٹلیا سے گڑ کی بھیلی چرا لی ۔ مریم بچوں کو بگاڑنے والی مشہور تھیں ۔ مگر مجال ہے جو بڑے جرائم میں کسی کی حمایت کر جائیں ۔ انھوں نے فوری طور پر اماں سے میری رپورٹ کر دی اور اماں ، خدا انھیں خوش رکھے، جاگیردار کی بیٹی ، کھری پٹھانی ،اپنی اولاد سے کوئی گھٹیا فعل منسوب ہوتے دیکھ ہی نہیں سکتیں ۔انھوں نے جلال میں آ کر الٹا مریم سےان بولا کر لیا۔

ابا کو پتا ہی نہ تھا کہ گھر میں سرد جنگ جاری ہے ۔ وہ اسی طرح عشا کی نماز کے بعد پندرہ بیس  منٹ کے لیے مریم کے پاس بیٹھ کر ان کا حال احوال پو چھتے مریم کے پاؤں دابنے کی کوشش کرتے اوران کی پیار بھری جھڑ کیوں کی دولت سمیٹ کر اپنے کمرے میں سونے چلے جاتے ۔

تین چار دن میری یہ دو جنتیں ایک دوسرے سے برگشتہ ر ہیں اور میں گنہ گار عذاب جھیلتا رہا۔

اماں نے مریم کی دیکھ بھال میں کوئی کوتاہی تو نہ کی مگر مریم کا سامنا ہو جا تا تو اماں کے نازک خدوخال آپی آپ سنگ و آہن بن جاتے ۔ مریم زیادہ تر اپنی کوٹھری میں محصور رہیں اور شاید روتی رہیں ۔ آخر چوتھے پانچویں دن میں پھوٹ بہا اور پٹائی کے خوف سے بے نیاز ہوکر اماں کی گود میں سر رکھ کر میں نے اقبال جرم کر لیا۔ اماں کے پاؤں تلے کی زمین نکل گئی۔ بس ایک غضب کی نگاہ کی ، مجھے ایک طرف دھکیل کر اٹھ کھڑی ہوئیں اور بجلی کی سی تیزی سے مریم کے قلعے میں داخل ہوگئیں ۔ ''ا نا بوا تمھا رامنجھلا تو چور نکلا''۔ بوا! ہمیں معاف کر دو ۔ ''میں نے کواڑ کی آڑ سے دیکھا کہ مریم لرزتے ہاتھوں سے اماں کےدونوں ہاتھ تھامے انھیں چوم رہی ہیں۔ کبھی ہنستی ہیں ،کبھی روتی ہیں اور کبھی اماں کو چپت لگانے کا ڈراما کرتی ہیں ۔'' بس ری دلھین ، بس کر ، چپ ری دلھین! چپ کر ۔ دیکھ، میں مار بیٹھوں گی ۔''

مریم سیدھی سادی میواتن  تھیں ۔ میری خالہ سے مرتے دم تک صرف اس لیے خفار ہیں کہ عقیقےپر ان کا نام فاطمہ رکھ دیا گیا تھا ۔'' ری دلھین !بی بی پھاطمہ توایکئی تھیں ۔ نبی جی سرکار کی سہجادی تھیں،دنیا آکھرت کی باچھا تھیں ۔ ہم دوجخ کے کندے بھلا ان کی برو بری کریں گے ۔ تو بہ تو بہ استگپھار ۔''

محرم میں نویں اور دسویں کی درمیانی شب وہ خشوع و خضوع سے تعزیے، سواریاں اور اکھاڑے دیکھتیں ، خوب خوب پاپڑ ، پکوڑے کھاتیں کھلاتیں اور دسویں کو صبح ہی سے''و جو بنا کے'' بیٹھ  جاتیں ، ہم لڑکوں کو پکڑ پکڑ کر دن بھر شہادت نامہ سنتیں یا کلمہ طیبہ کا ورد کرتیں ، اور خدا مغفرت کرے، کلمہ شریف بھی جس طرح چاہتیں پڑھتیں :''لا الا ہا ال للانبی جی رسول الا ۔حجو رجی رسول الا ۔ ''

امام حسین کا نام لے لے کر بین کرتیں ، روروکر آنکھیں سجالیتیں اور بین کرتے کرتے گالیوں پر اتر آتیں ۔'’رے حرامیوں نے میرے سہجادے کو مار دیا۔رے ناس مٹوں نے میرے باچھا کو ماردیا۔''

محرم میں وہ ہم لڑکوں کو حسن حسین کے فقیر بناتی تھیں ۔ ہمارے کرتے ہرے رنگ دیتیں۔ گردنوں میں کلاوے ڈال دیتیں اور چھوٹی چھوٹی بٹونیاں سی کر ان میں دو دو آنے کے پیسے ڈال ،سیفٹی پنوں سے ہمارے گریبانوں میں ٹانک دیتی تھیں ۔

حق مغفرت کرے، ہمارے دادا میاں مرحوم تھوڑے سے وہابی تھے۔ ابا بھی ان سے کچھ متاثر ہیں پر محرم کے دنوں میں مریم کے آگے کسی کی وہابیت نہ چلتی ۔ دس روز کے لیے تو بس مریم ہی ڈکٹیٹر ہوتیں ۔ مگر یہ ڈکٹیٹری بھی ، جیو اور جینے دو، کے اصول پر چلاتی تھیں ، ہمیں فقیر بنا کر چپکے سے سمجھا  دیتی تھیں،'' دیکھ رے بیٹا !بڑے میاں جی کے سامنے متی جانا ۔''

اور بڑے میاں جی بھی ، خدا ان پر اپنی رحمتوں کا سایہ رکھے، کمال بزرگ تھے۔ ظاہرتو یہ کرتے تھے جیسے مریم کی ان باتوں سے خوش نہیں ہیں ۔ پر ایک سال محرم کے دنوں میں مریم باسودے  چلی  گئیں، ہمارے گھر میں نہ شہادت نامہ پڑھا گیا ، نہ ہاۓ حسین ہوئی ، نہ ہم فقیر بنے ۔ عاشورے پرہم لڑ کے دن بھر ہا کی کھیلتے رہے ۔ عصر کی نماز پڑھ کر دادا میاں گھر لوٹ رہے تھے۔ ہمیں باڑے میں ادھم مچاتے دیکھا تو لاٹھی ٹیک کر کھڑے ہو گئے ۔ ''ابے کرشٹانو! تم حسن حسین کے فقیر ہو؟بڑھیا نہیں ہے تو جانگئیے پہن کر ادھم مچانے  لگے ۔ یہ نہیں ہوتا کہ آدمیوں کی طرح بیٹھ کر یسین  شریف پڑھو۔''

یسین شریف پڑھوحسن حسین کے نام پر، یسین شریف پڑھو بڑے میاں جی کے نام پر ،یسین شریف مریم کے نام پر اور ان کے ممدد کے نام پر کہ ان سب خوبصورت ناموں سے تمھاری یادوں میں چراغاں ہے۔

مگر میں ممدو کو نہیں جانتا۔ مجھے صرف اس قدر علم ہے کہ ممد و باسودے میں رہتا تھا اور ڈانگدروں نے اس کے گال میں ایک کھڈ کی بنادی تھی اور اس کھڑکی کے پٹ مریم کی جنت میں کھلتے تھے؛اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ جب مریم بڑے سوز کے ساتھ کھواجہ پیا جرا کھولو کوڑیاں گاتی تھیں تو اماں کی کوئلوں جیسی آواز ان کی آواز میں شامل ہوکر مجھ پر ہزار جنتوں کے دروازے کھول دیتی تھی ۔

میں اماں کے زانو پر سر رکھ کر لیٹ جا تا اور خواجہ پیا کوسروں کے معصوم جھروکے سے درشن بانٹتے دیکھا کرتا۔ سنا ہے، میری اماں موج میں ہوتی ہیں تو اب بھی گاتی ہیں ۔ خدا انھیں ہنستا گاتار کھے ۔ پر مریم کی آواز تھک کر سو چکی ہے یا شاید ایک لمبے سفر پر روانہ ہو چکی ہے اور مکے مدینے سریپ کی گلیوں میں پھول بکھراتی پھر رہی ہے یا با سودے کے قبرستان میں ممد وکولوریاں سنارہی ہے ۔

سفر مریم کی سب سے بڑی آ رزو تھی؛ وہ حج کرنا چاہتی تھیں ۔ ویسے تو مریم ہمارے گھر کی مالک ہی تھیں مگر پتانہیں کب سے تنخواہ لے رہی تھیں ۔ ابا بتاتے ہیں کہ وہ جب اسکول میں ملازم ہوے تو انھوں نے اپنی تنخو اہ مریم کے قدموں میں لاکر رکھ دی ۔ مریم پھول کی طرح کھل اٹھیں ۔ اپنی گاڑھے کی چادر سے انھوں نے ایک چونی کھول کر ملازمہ کو دی کہ جا بھاگ کے بجار سے ز لے بیاں لی آ ۔ مریم نے خودان جلیبیوں پر کلمہ شریف پڑھا اور تنخواہ اور جلیبیاں اٹھا کر بڑے غرور کے ساتھ دادا میاں کے سامنے رکھ آئیں ۔ ''بڑے میاں جی ! مبار کی ہو۔ دولھے میاں کی تنکھاملی ہے ۔''

پھر اس تنخواہ میں سے وہ بھی اپنی تنخواہ لینے لگیں ، جو پتانہیں انھوں نے ایک رو پیہ مقر رکی تھی کہ دوروپے ۔ مریم کا خرچ کچھ بھی نہیں تھا۔ باسودے میں ان کے مرحوم شوہر کی تھوڑی سی زمین تھی ، جو ممد و کے گزارے کے لیے بہت تھی ، اور بکریاں تھیں جن کی دیکھ بھال ممد وکرتا تھا۔ بڑالڑ کا شتاب خاں ریلوائی میں چوکیدار تھا اور مزے کرتا تھا۔ برسوں کسی کو پتا نہ چلا کہ مریم اپنی تنخواہوں کا کرتی کیا ہے ۔ پر ایک دن وہ ڈھیر سارے کل دار روپے، میلے کچیلے نوٹ اور ریز گاری اٹھاۓ ہوے ابا کے پاس پہنچیں اور انکشاف کیا کہ وہ حج کرنے جارہی ہیں ۔ کرائے کی یہ رقم ان کی برسوں کی کمائی تھی۔ یہ مکہ مدینہ فنڈ  تھا جومریم خبر نہیں کب سے جمع کر رہی تھیں ۔ ابا نے گن کر بتایا کہ نوسیکڑے تین بیسی سات روپے کچھ آنے ہیں ۔ مریم کو اس سے غرض نہیں تھی کہ یہ کتنے ہیں ، وہ تو سیدھی سی بات پو چھ رہی تھیں کہ ان سے مکے مدینے کا ٹکس مل جاۓ گا یا نہیں ۔ابا نے بتایا کہ بے شک مل جاۓ گا ۔

مریم نے تیاریاں شروع کر دیں۔ وہ اٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے گنگناتی رہتیں کہ کھواجہ پیا جرا کھولوکوڑیاں ۔ ان پر مکے مدینے کی کھڑکیاں کھلی ہوئی تھیں اور ان کھڑکیوں سے نبی جی کے مقدس پیراہن کی خوشبو چلی آ رہی تھی ۔ کسی نے چھیٹر نے کو کہ دیا کہ تم کوڈھنگ سے نماز پڑھنی تو آتی نہیں ، قرآن شریف تو یاد نہیں ہے ، پھر حج کیسے کرو گی؟

مریم بپھر گئیں ۔'' رے مسلمان کی بٹیا، مسلمان کی جورو ہوں ۔ نماج پڑھنا کا ہے نئیں آتی ۔ رے کلمہ سریپ سن لے، چاروں کل سن لے ۔ اور کیا چیے تیرے کو؟ ہاں اور کیا چیے ؟'' پھر ان کے دل میں تو نبی جی کے پیار کا چمن بھی کھلا ہوا تھاکہ یہی بہت تھا۔

مگر ایک دن شتاب خاں کا خط آیا کہ ممدد کی حالیت کھراب ہے ، بکریاں بیچ بانچ کے علاج مالجہ کرایا ، جمعین گروی رکھ دی۔ اب بالکل پیسے نہیں ہیں ۔ صورت دیکھنا چاہتی ہے تو خط کو تا رسمجھنا ۔ مریم کی آنکھوں میں مکہ مدینہ دھندلا گیا۔ انھوں نے نوسیکڑے تین بیسی سات روپے چادر میں باندھے اور روتی پیٹتی با سودے کی بس میں جا بیٹھیں ۔ابا ساتھ جانا چاہتے تھے انھیں سختی سے منع کر دیا۔

ممد و تو ان کی ذمے داری تھا، وہ کسی اور کو اس میں کیوں شریک کرتیں ۔ مریم کا یہ اصول بڑا سفاک تھا۔ انھوں نے باسودے خیریت سے پہنچنے کا خط تو لکھواد یا پر ممدد کے بارے میں ایک لفظ نہیں لکھوایا ۔ مہینے گزر گئے، کسی نے بتایا کہ وہ ممد وکو علاج کے لیے اندور لے گئی ہیں ، پھر پتا چلا کہ بمبئی میں صابو صدیق کی سراۓ میں نظر آئی تھیں ، پھر پتا چلا کہ ممد ومر گیا ہے ۔ پھر ایک لٹی لٹائی مریم  گھر لوٹ آئیں ۔

میں اسکول سے گھر پہنچا تو دیکھا کہ مریم صحن میں بیٹھی اپنے مرے ہوے بیٹے کوکوس رہی ہیں ، ''رے حرامی تیراستیا ناس جاۓ رے ممدو!تیری ٹھٹھری نکلے ۔اورے بدجناور تیری کبر میں کیڑے پڑیں۔ میرے سبرے پیسے کھرچ کرا دیے۔ اے ری دلھین !میں مکے مدینے کیسے جاؤں گی ۔ بتا ری دلھین! اب کیسے جاؤں گی ؟“

ابا نے کہا '' میں تمھیں حج کراؤں گا ۔‘'

اماں نے کہا، '''انا بوا، ہم اپنے جہیز والے کڑے بیچ دیں گے تمھیں حج کرائیں گے ۔''

مگر مریم چپ نہ ہوئیں ،دو دن تک روتی رہیں اور ممد دکوکوستی پیٹتی رہیں ۔ لوگوں نے سمجھایا کہ آخر دولھے میاں بھی تو تمھارا ہی بیٹا ہے ، وہ اگر تمھیں حج کرواتا ہے تو ٹھیک ہے، مان کیوں نہیں جاتیں؟ مگر مریم تو بس احسان کرنا جانتی تھیں ، کسی بیٹے کا بھی احسان اپنے سر کیوں لیتیں ۔انھوں نے تو اپنی کمائی کے پیسوں سے حج کرنے کی ٹھانی تھی۔

ممدد کے مرنے کے بعد مریم شاید ایک دفعہ اور با سودے گئیں اپنی زمین کا تیا پانچا کر نے پھر اس کے بعد باسودے کا زوال شروع ہو گیا۔ مریم کے چوڑے چکلے میواتی سینے میں بس ایک ہی شہر بسارہ گیا۔ ان کے حجو رکا سہر۔ وہ اٹھتے بیٹھتے'' نبی ہیں اور  حجور جی کرتی رہتیں ۔ کبھی تو یوں لگتا کہ انھیں قرار سا آگیا ہے۔ شاید اس لیے کہ ان کے بھولے بھالے منصوبہ کار ذہن نے ایک نیا مکہ مدینہ فنڈ کھول لیا تھا ۔

ابا نے بڑے شوق سے لحاف سلوا کر دیا ، مریم چپکے سے جا کر بیچ آئیں ۔ عید آئی ، مریم کے بھی کپڑے بنے ، خدا معلوم کب ، کتنے پیسوں میں وہ کپڑے بیچ دیے ۔ ابا اماں سمیت ، ہم سب کو جو ایک ایک آنہ عیدی دیتی تھیں فوری طور پر بند کر دی ۔ پیسا پیسا کر کے پھر مکہ مدینہ فنڈ جمع ہورہا تھا۔ سب ملا کر ابھی پانچ سو ساٹھ روپے ہی جمع ہوے تھے کہ مریم کا بلاوا آ گیا۔ مجھے معلوم نہیں کہ کب اور کس طرح چل بسیں ۔ میں گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنی خالہ کے گاؤں گیا ہوا تھا، واپس آیا تو مجھے دیکھ کر اماں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں : '' منجھلے ! تیری انا بواگزرگئیں لڑ کے !تجھے بگاڑ نے والی گزرگئیں ۔''

ابا نے مجھے حکم دیا کہ میں مریم کی قبر پر ہو آؤں ، میں نہیں گیا۔ میں کیوں جاتا ، ٹھنڈی مٹی کے ڈھیر کا نام تو مریم نہیں تھا۔ میں نہیں گیا۔ ابا ناراض بھی ہوے مگر میں نہیں گیا۔

لوگوں نے بتایا کہ مریم نے مرتے وقت دو وصیتیں کی تھیں ۔ ایک وصیت تو یہ تھی کہ تجہیزو تکفین  انھی کے پیسوں سے کی جائے اور باقی کے پیسے شتاب خاں کو بھیج دیے جائیں ۔ دوسری وصیت کا صرف اماں کو علم تھا ۔ اماں کے کان میں انھوں نے مرتے وقت کچھ کہا تھا جوا ماں کسی کو بتانانہیں چاہتی تھیں ۔

میں یہاں آ گیا۔ پندرہ برس گزر گئے ۔ 65ء میں ابا اور اماں نے فریضہ حج ادا کیا۔ اماں حج  کر کے لوٹیں تو بہت خوش تھیں ۔ کہنے لگیں : '' منجھلے میاں! اللہ نے اپنے حبیب کے صدقے میں حج  کرا دیا۔ مدینے طیبہ کی زیارت کرادی اور تمھاری انا بوا کی دوسری وصیت بھی پوری کرائی ۔ عذاب ثواب جاۓ بڑی بی کے سر، میاں ، ہم نے تو ہرے بھرے گنبد کی طرف منہ کر کے کئی دیا کہ یا رسول اللہ !با سودے والی مریم فوت ہوگئیں ۔ مرتے وقت کہہ رہی تھیں کہ نبی جی سرکا ر! میں آتی ضرورمگر میراممد بڑاحرامی نکلا۔ میرے سب پیسے خرچ کرادیے۔''

باسودے کی مریم از اسد محمد خان||اردو کے بہترین افسانے||اسد محمد خان کے افسانے||Basoday ki marriam az Asad Muhammad Khan||Urdu afsana



اسد محمد خان 
مجموعہ:کھڑکی بھر آسمان
القا پبلیکیشنز؛لاہور

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

دستور نظم حبیب جالب||dastoor habib jalib||habib jalib main nahi manta

فیلڈ مارشل ایوب خان نے 1962 میں ایک آئین نافذ کیا   جو فرد واحد کے اقتدار کو بچانے اور اس کی طاقت کے دوام کے لیے نافذ کیا گیا تھا ۔اس آئین کے جواب میں حبیب جالب ؔ جو شاعر عوام و جمہور تھے  اور محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے تھے  نظم ’’ دستور ‘‘ لکھی   یہ نظم اس دور میں اتنی مقبول ہوئی کہ کسی نے ایوب خان سے کہا ’’ تمھارا  آئین  نافذ نہیں  ہو سکا ایک کمرے میں رہنے والا  ایک غریب سا شاعر اس آئین سے جیت گیا ہے  ‘‘ یہ نظم آج بھی ظلم و جبر اور انسانی آوازوں کے دبانے پر یاد کی جاتی ہے یہ  جمہور کی آزادی اور مزاحمت کا استعارہ ہے ۔ نظم پڑھیں دستور حبیب جالب دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا Deep jis ka mehlaat hi mein jale Chand logon ki khushiyon ko le kar chale Woh jo saaye mein har maslihat ke pale Aise dastoor ko subah be-noor ko Main nahin m...

تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations

   لیکچر نمبر:۶ تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی  مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations ڈاکٹر محمد قمر اقبال کا حضرت اقبال کی تصنیفات پر مفصل اور تحقیقی لیکچر  علامہ اقبال کی مشہور تصانیف تصانیف اقبال کا تعارف ۲۴۔اکتوبر ۲۰۲۱ء بزم فکر  اقبال پاکستان کے صدر جناب  پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال نے ۲۴۔ اکتوبر کو اقبال کی تصنیفات کے بارے میں ایک مبسوط لیکچر فراہم کیا جس میں اقبال کی تصنیفات کو ان کے سال اشاعت کی ترتیب سے شرکاء  کے گوش گزار کیا گیا۔یہ لیکچر معلوماتی سطح کا تھا فکر اقبال کے طالب علموں کو اقبال کی  فکر کے سرچشموں سے کماحقہ  آگاہ ہونا چاہیے اوریہ لیکچر اس سلسلے میں بھر پور معاونت فراہم کرتا ہے اقبال کی شاعری کی کتب ،نثری کتب ،تراجم اوران کے بعد مرتبہ کتب جو ان کی وفات کے بعد اکٹھی کی گئیں سب اس لیکچر میں جمع کر دی گئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی حوالہ جاتی کتب بھی قارئین کو لکھوا دی گئی ہیں اپنے مشمولات کے لحاظ سے یہ لیکچر کافی اہم ہے جس میں اقبال کی کتابیات تیار ہو گئی ہے ۔ڈاک...

himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب

غزل ہمانشی بابرہ himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب  لوگ تو لوگ ہیں لوگوں کی طرح دیکھتے ہیں ایک ہم ہیں اسے بچوں کی طرح دیکھتے ہیں   ہم کو دنیا نے لکڑ ہارا سمجھ رکھا ہے ہم تو پیڑوں کو پرندوں کی طرح دیکھتے ہیں   تم تو پھر غیر ہو تم سے تو پھر شکایت کیسی میرے اپنے مجھے غیروں کی طرح دیکھتے ہیں تیرا دیدار قضا ہوتا نہیں ہے ہم سے ہم تجھے دیکھنے والوں کی طرح دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل   میری خوشبو کو ہواؤں میں اڑانے والا لوٹ  کے آیا نہیں چھوڑ  کے جانے والا   پیار کے ساتھ مجھے طعنے دیا کرتا ہے  تجھ میں بھی رنگ ہے کچھ کچھ زمانے والا   ایسے بچھڑا ہے کہ ملنے کی  دعا کرتا ہے ہر ملاقات پہ منہ پھیرکے  جانے والا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   غزل     ساتھ دینے کا دلایا تھا بھروسا تونے اور پھر چھوڑ دیا مجھ کو اکیلا تو نے   اپنی مرضی سے مجھے چھوڑ کے جانے والے میری مرضی کو کہاں چھوڑ دیا تھا تو نے    بات رخسار کی ہوتی تو کوئی بات نہ تھی آج تو روح پہ مارا ہے تمانچا    تو نے   ...

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...

2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری

  اٹھا عجب تضاد سے انسان کا خمیر عادی فنا کا تھا    تو پجاری بقا کا تھا احمد ندیم قاسمی Utha ajab tazad se insan    ka khameer Adi fana ka tha to pujari baqa ka tha Ahmad Nadeem  Qasmi اداسیوں کا سبب کیا    کہیں بجز اس کے یہ زندگی ہے پریشانیاں    تو ہوتی ہیں احمد فراز Udasion ka sabab kia kahin bajuz is ky Ye zindagi hai preshanian to hoti hain Ahmad Faraz خود کو ترتیب دیا از سرِ نو زندگی میں ترا انکار بہت کام آیا Khud ko tarteeb dia az sar-e-nau Zindagi main tira inkar bht kam aya مرنا تو اس جہاں میں کوئی حادثہ نہیں اس دور ِ ناگوار میں جینا کمال ہے حسنی Marna to is jahan main koi hadsa nhi Is dor-e-Nagawar main jeena  kamal hai 2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری