ناظم جوکھیو کی بیوہ!
تم سڑک پر احتجاج کے لیے مت بیٹھنا
یہاں سے جمہوریت کی ڈولی گزرنے والی ھے
ناظم جوکھیو کی بیوہ!
تم عدالت سے اپنے بچوں کا حق مت مانگنا
وہ ابھی قبروں کی زیارت سے واپس نہیں آئی
ناظم جوکھیو کی بیوہ!
تم فیمنسٹ شاعرہ سے ایک نظم کی توقع مت کرنا
اسے آج حاکم کا قصیدہ لکھنا ھے
ناظم جوکھیو کی بیوہ!
تم اپنے پوتر آنسو
اور گندے کپڑے
اس سمندر میں ضرور بہا دینا
جس کے کنارے لگژری ہوٹل میں
دانشور انسانی حقوق پر اپنے مقالے پڑھیں گے
ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی
پروفیسر اردو ،گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز،لاہور


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں