جان کرورینسم کے تنقیدی نظریات||جان کرورینسم امریکی شاعر اور نقاد|John Crowe Ransom American educator
جان کر ورینسم
![]() |
| جان کرورینسم کے تنقیدی نظریات||جان کرورینسم امریکی شاعر اور نقاد|John Crowe Ransom American educator||طبعی شاعری کیا ہوتی ہے||افلاطونی شاعری سے کیا مراد ہے |
امریکی نقاد جان کروریسم (John Crowe Ransome) نے شاعری کی امتیازی خصائص کی تشخیص اور اس کی قدر و قیمت کا تعین کے لئے شاعری کی چند قسمیں مقرر کی ہیں ۔ ان میں سے بعض دوسرے اسلیب تکلم سے چند مشترک خصائص رکھتی ہیں اور بعض آپ اپنی نظیر ہوتی ہیں ۔
'' شاعری کی ایک قسم کی دوسری قسم سے موضوع کے اعتبار سے علاحدہ کی
جاسکتی ہے، اور موضوع کی تفریق اس کی ماہیت یا حقیقت نفس الامری
کے مطابق کی جاسکتی ہے...... جد ید زمانے کے نقادوں کا خیال ہے کہ
شاعری کی ایک قسم اشیاء کو اور دوسری قسم افکار کو اپنا موضوع بناتی ہے ۔''
طبعی شاعری
وہ شاعری جو اشیاء کو اپنا موضوع بناتی ہے آج سے چند سال پہلے نقادوں کی بڑی منظور نظر تھی۔ نقادوں نے شاعروں کو بھی متاثر کر دیا۔ ''تمثالی'' (Imagists ) ہماری شاعری کی تاریخ میں کافی اہمیت رکھتے ہیں۔ وہ نظریوں کے موجد بھی تھے اور فن کار بھی ۔ان کا مقصد یہ تھا کہ اشیاء کو اپنی'' شئیت ''(یعنی اپنی اصلیت) میں پیش کر یں ۔لوگ اس حد تک شئیت کا احساس کھو چکے تھے کہ یہ کوشش بڑی مستحسن تھی ۔لوگ شاعری میں خیالات ڈھونڈتے تھے۔ لوگ شاعری میں خیالات ڈھونڈتے تھے، بڑے بڑے یا چھوٹے چھوٹے ، شاندار یا ادنی بہر حال خیالات ۔لیکن تمثالیوں نے دوٹوک فیصلہ کر دیا کہ شاعری کا مواد چیزیں ہیں محض چیزیں۔ میں اس شاعری کو جو تا حد امکان خالص طبعی چیزوں سے تعلق رکھتی ہے طبعی شاعری ، کے نام سے موسوم کروں گا ۔ اس کی مخالف وہ شاعری ہے جو تا حد امکان افکار سے تعلق رکھتی ہے ۔
غالبا چیز اور فکر میں کامل مخالفت نہیں ہوتی ۔ اس لئے چلیے ہم تمثال بالمقابل فکر کی ترکیب استعمال کر یں۔ عینی فلاسفہ کو اشیاء کے وجود کا یقین نہیں ۔ بہر حال جب وہ تمثالوں کا تذکرہ کرتے ہیں تو ان کا مطلب اشیاء ہی سے ہوتا ہے۔
میرے خیال میں یہ دعوی کوئی عقل مند آدمی نہیں کر سکتا کہ انسانی فنون آپ ہی آپ قدیم الاصل تمثالوں سے پیدا ہو گئے اور نوع انسانی کے کسی ابتدائی زمانہ معصومیت کی یادگار ہیں .... فن پہلی نظر کی محبت کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ اس کے لئے زیادہ پختہ کار محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔فن میں ہم ان چیزوں کی طرف عود کر تے ہیں جنہیں ہم نے پہلی نگاہ میں عموما رد کر دیا تھا۔ بچے کی تمام توجہ چیزوں پر مرکوز ہوتی ہے ۔ لیکن یہ اس لئے ہوتا ہے کہ ابھی اس کے یہاں منظم خیالات نہیں ہوتے ، اس لئے نہیں کہ وہ ایک جہاں دیدہ شہری بن کر پیدا ہوتا ہے اور (ورڈزورتھ کے قول کے مطابق) تجلی کی گھٹا ئیں اپنے جلو میں لے کر آتا ہے۔ تمثالیں تو صرف اس شخص کے لئے تجلی کی گھٹائیں ہوتی ہیں جس کو یہ پتا چل گیا ہو کہ خیالات ایک طرح کی تاریکی ہیں ۔ وہ جدید ادبی تحریک جسے ''تمثالیت'' (imagism) کے لقب سے ملقب کیا جا تا ہے ، ہوسکتا ہے کہ اس کی شاعری ایک الہڑقسم کی شاعری معلوم ہوتی ہو۔ لیکن اگر ہم اس کے بانیوں کی نظریاتی تحریروں کا مطالعہ کر یں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ یہ تحریک فکری شاعری کی ضابطہ بند مجردیت سے بے زاری کا نتیجہ ہے ۔اس کے لئے سائنس سے واقفیت مشروط ہے، یعنی اس مشہور دماغی کارروائی سے جو ہماری معاشی مصروفیتیوں کے حق میں ایک تعمیری حکم رکھتی ہے لیکن فطرت کے حق میں ایک تخریبی حکم۔ تمثالیوں کی کوشش میں ہے کہ تمثالوں میں پناہ گزیں ہوکر سائنس سے گر یز کریں ۔
تمثالیت کی سادہ لوحی سے ملتی جلتی اس خالص شاعری کی پر کارسادگی تھی جس کا داغ بیل مسٹر چارج مور نے ڈالی۔
یہ خالص شاعری طبعی شاعری کی ایک قسم ہے ۔ اس کے مضمون کے جومر ئی عناصر ہوتے میں وہ چیزوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں جہاں تک تکنیک اور صنعت گری کا تعلق ہے، یہ شاعری کامیاب ثابت ہوتی ہے بشرطیکہ وہ اپنے مواد کوایسے طریقے سے نمایاں کر سکے کہ پڑھنے والے کے ذہن میں کوئی خیال آنے کے بجاۓ اس کی نگاہوں کے سامنے کوئی تمثال یا تمثالوں کا کوئی مجموعہ آ جائے......
نقاد ہونے کی حیثیت سے ہمیں طبعی شاعری کا بھی بہی خواہ ہونا چاہیے، کیونکہ وہ ہرقسم کی شاعری کا بنیادی عنصر ہے۔ لیکن جس شاعری کی مصنوعات میں ایک آنچ کی کسر رہ جاتی ہے ۔ وہ کوئی ایسی چیز پیش نہیں کرتی جو قائم بالذات ہواور یہ بھی نہیں کہا جاسکتا ہے کہ اس کا موضوع تمام وکمال طبعی اشیاء پر مشتمل ہوتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر طبعی شاعری کا کوئی نمونہ ہمیں بے حد پسند آئے تو اس کی تشریح کرنے پر ہمیں غالبا یہ پتا چلے گا کہ وہ خالص طبعی شاعری ہی نہیں ، یعنی اس کی کوئی اور اداہمیں بھا گئی ہے۔
افلاطونی شاعری
فکری شاعری کو میں افلاطونی شاعری کے نام سے موسوم کروں گا۔ اس میں بھی مختلف درجوں کی ملاوٹ ہو تی ہے۔ اگر کسی تحریر میں محض مجر دافکار ہوں اور کوئی تمثالیں نہ ہوں تو وہ ایک علمی تحریر ہوگی ، شعر نہ ہوگی ، یہاں تک کہ افلاطونی شاعری کا نمونہ بھی نہ ہوگی ۔ افلاطونی شاعری بلا تکلیف طبعی رنگوں میں اپنے موقلم کوسمو لیتی ہے ۔ اگر طبعی شاعری یوں دیکھنے کوتو افکار کے معاملے میں کوری معلوم ہوتی ہے لیکن آنکھ بچا کر فکری مواد استعمال کر جاتی ہے ۔ تو افلاطونی شاعر کے پاس بھی اس کا جواب ہے وہ ایسا روپ دھار لیتی ہے کہ جیسے ہو بہو طبعی شاعری ہو اور افکار کی گولیاں ''شئیت کی شکر میں لپیٹ کر نگل جاتی ہے۔.....
افلاطونی شاعری دوطرح کی ہوتی ہے ۔اول وہ جو رمزی حکایتیوں کی صورت میں ہوتی ہے، یعنی چیزوں کو پیش کرتی ہے لیکن اس شرط پر کہ اول سے لے کر آخر تک ان کو افکار میں تبدیل کیا جا سکے ۔ (یہ افکار زیادہ تر مقبول عام موضوعوں سے متعلق ہوتے ہیں ، مثلا حب وطن ، مذ ہب،اخلاق اور اجتماعی مسائل )۔ اس کی دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ وہ ہوتی تو ہے محض خیالی نکتہ سنجی لیکن لگے ہاتھوں طبعی شاعری کی سنگار میز سے تھوڑا بہت سامان اڑا کر استعمال کر جاتی ہے ۔ یہ فن بلاغت کے ہتھ کنڈے ہیں ۔ جب اسے اپنے افکار کے موثر ہونے کا یقین ہوتو وہ ایجابی شاعری ہوتی ہے، جب اس بارے میں اسے شک یا نا امیدی ہوتو وہ سلبنی شاعری بن جاتی ہے۔۔۔۔
افلاطونی شاعری طبعی شاعری کی نقالی ہوتی ہے اور صحیح معنوں میں شاعری نہیں ہوتی ۔ یہ افکار فروش افلاطونی اپنی جعلی شاعری کی مشق ثابت کرنے کی خاطر کرتے ہیں کہ ایک تمثال ایک خیال پر مہر ثبوت لگا دیتی ہے ۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ وہ ادب جو اس نازک فرض سے عہدہ برآ ہوتا ہے اس میں اصلی تمثالیں کوئی بھی نہیں ہوتیں محض مثالیں ہوتی ہیں .....
شاعر کا تخلیقی تقاضا ایک آزاد عامل نہیں ہوتا لیکن اس کے باوجود وہ اپنی تمثالوں سےلطف اندوز ہونے کے معاملے میں ڈٹ کر سائنس کا مقابلہ کرتا ہے ۔ اس کا یہ مصمم ارادہ ہوتا ہے کہ ادراک کی دنیا کی از سرنو تشکیل کرے۔سائنس اور شاعری کے معرکے کے تصفیے کے لئے ذیل کا کلید تجویز کیا جا تا ہے:
''سائنس ایک عقلی یا عملی تقاضے کی تسکین کرتی ہے اور کم سے کم ادراک کی
نمائش کرتی ہے۔فن ایک ادرا کی تقاضے کی تسکین کرتا ہے اور کم سے کم
تعقل کی نمائش کر تا ہے ۔''
اس کے بعد رینسم چند صنعت گرانہ تدبیروں کا تذکرہ کرتا ہے جن سے شاعر مدرکات ومحسوسات کی دنیا میں اضافہ کرنے کی خاطر کام لیتے ہیں مثلا وزن، مجاز او تشبیہ و استعارہ ۔ اس کی رائے میں کوئی خالص علمی بحث جسے چند متعین مطالب کا بیان کرنا مقصود ہوتا ہے، تشبیہ واستعارہ سے کام نہیں لے سکتی کیونکہ وہ اپنی طرف عنان توجہ کو موڑ کر استدلال کی ہمواری میں مخل ہوتےہیں:
''ادبی تنقید کے اصولوں کی سختی سے پابندی کی جائے تو اس بات پر اصرار
کرنا ضروری ہے کہ وہ معجزیت جس پر کوئی ادنی سے ادنی خیال بندی مبنی
ہوتی ہے، حقیقت میں وہ وہی معجزیت ہے جس سے مذاہب اپنانفس
مضمون اخذ کرتے ہیں ۔ وہ شاعر ہی ہوتا ہے، کوئی دوسرانہیں ہوتا ، جو خدا
کے تخیل کو ایک سیرت ،ایک مشیت، ایک ہیئت اور ایک تاریخ سے مجلٰی
کر کے مجسم کرتا ہے۔ اگر شاعرانہ تخلیق کا تقاضا، جو اس کو لباس مجاز
پہنانے کا کفیل ہے، کار فرما نہ ہوتا تو یہ تخیل جو ذہن انسانی کا جامع ترین
تخیل ہے، افلاطونی ''عالم امثالی'' کی سب سے خشک اور بے جان مثال
ہوتا ۔ ’’
''دیوتاؤں کے متعلق جو قدیم اساطیر ہیں وہ سب استعاروں کی پیداوار
ہیں ۔ شاعر وقتا فوقتا مذہب ایجاد کرتے رہے اور علوم طبیعی کے ماہرانہیں
تباہ کرتے رہے ۔ مذہب اپنی ماہیاتی صداقت کے لئے ادبی فہم پر منحصر
وموقوف ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر غلط فہمی کا شکار بن جا تا ہے ۔
مابعد الطبیعیاتی شاعر اپنے آباۓ روحانی ، یعنی قرون وسطی کے متکلمین کی
طرح، اس بارے میں مغالطے میں مبتلا نہ تھے ۔ وہ اساطیر کو اسی طرح
زیب داستان کے لئے استعمال کرتے تھے جس طرح وہ مجاز اور صنائع
بدائع کوز ینت کلام بناتے تھے۔''
'' لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ موضوع چاہے دیوتا ہوں چاہے تجربات
محبت ، شاعر معجزیت سے کیوں کام لیتے ہیں ؟ یہ کہنا کافی نہیں انہیں طبعی
صداقتوں اور سائنس کے نظریوں سے چڑ ہوتی ہے۔ مذہب خدا کے
بارے میں صرف وہاں ارشادات کرتا ہے جہاں سائنس خاموش ہو اور
فلسفہ نفی پر مصر ۔ کیوں کہ اسے ایک اثباتی حقیقت کی ضرورت ہوتی ہے
یعنی ایک ایسے خدا کی جس کی ہستی طبعی دنیا میں بھی ہو اور کلیات و مجردات
کی دنیا میں بھی ۔ یہی حال شاعر کا ہے، اگر چہ آج کل شاعروں میں وہ پہلی سی
جرات کچھ کم دکھائی دیتی ہے جس کے بل بوتے پر وہ ''صداقت'' کے
معاملے میں اہل سائنس سے بھڑ جایا کرتے تھے۔۔۔۔۔
''مابعد الطبیعیاتی شاعری کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ سائنس کا تتمہ اور تکملہ
بنے اور انسان کے جو مختلف طریقہ ہاۓ تکلم ہیں ان میں اصلاح کرے ۔
مطابق فطرت طریقہ تکلم ناقص ہوتا ہے ۔ یا تو اس میں ضرورت سے کم طبعی
مضمون ہوتا ہے ، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حسیت تشنہ رہ جاتی ہے، یا دوسری
طرف اس میں ضرورت سے زیادہ طبعی مضمون ہوتا ہے۔ افلاطونی
شاعری مثالیت کے معاملے میں حد اعتدال سے تجاوز کر جاتی ہے اور طبعی
شاعری میں حد سے زیادہ اصلیت اور واقفیت ہوتی ہے ، جس کی وجہ سے
وہ کوفت پیدا کرتی ہے اور دلچسپی سے عاری ہوتی ہے ۔''
'' مابعد الطبیعیاتی شاعران نقائص کا تدارک یوں کرتے ہیں کہ وہ معجزیت
کی نفسیاتی تدبیر سے کام لیتے ہیں ۔ سائنس کے منطقی استدلال میں حکم
کا طریقہ ایسا ہوتا ہے کہ توجہ کا عمل فورا ختم ہو جا تا ہے ۔ اس کے برخلاف
معجز یت کا طریق حکم توجہ کو اکساتا ہے ۔ ہم شئیت کے اس ٹھوس مادے کو
جو ہمارے سامنے پیش کیا جاتا ہے، دیکھتے رہ جاتے ہیں ، اس پر تعجب
کرتے رہ جاتے ہیں اور اس سے لطف اٹھاتے رہ جاتے ہیں ۔''
” مابعد الطبیعاتی شاعری کے احکام صداقت پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ان کی
صداقت تاریخ کی صداقت نہیں ہوتی ۔ تاریخی صداقت تو کسی قسم کی
شاعری میں نہیں ہوتی ، بلکہ سائنس کے بھی محض چند شعبوں ہی میں ہے۔
مابعد الطبیا تی شاعری کےا حکام ان افادی معنوں میں صادق ہوتے ہیں
جن معنوں میں سائنس کے بعض کلیات ہوتے ہیں، یعنی جس قسم کا
استخصا ر انہیں مقصود ہوتا ہے اس میں وہ کامیاب ہوتے ہیں ۔ وہ ہمیں یہ
بتاتے ہیں کہ بیان کردہ چیز ادرا کی یا جسمانی طور پر توجہ کی مستحق ہے اور
ہمیں توجہ دینے کی دعوت دیتے ہیں ۔“

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں