نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ارسطو کا نظریا کتھارسس||وہاب اشرفی||ٹریجڈی کی ضرورت اور اخراج جذبہ|ارسطو کی تنقید کی اہمیت||Aristotle k tanqeedi nazriyat

  

ارسطو(دوسرا حصہ)

وہاب اشرفی

بحوالہ :نظریاتی تنقید: مسائل ومباحث

 پہلا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں

ٹریجڈی کی ضرورت - اخراج جذ بہ ( کتھارسس )

 کتھارسس کا نظریہ افلاطون کے اس خیال کا رد ہے کہ آرٹ کا کام آدمی کے جذبات کو برانگیختہ کر کے برائی کی جانب لے آنا ہے افلاطون کا یہ بھی تصور ہے کہ فن کا تعلق فکر سے زیادہ جذبہ سے ہے اس کے برخلاف ارسطو کہتا ہے کہ فن جذبات کو برانگیختہ کرنے کی بجائے اس کی اصلاح کرتا ہے۔ اس لئے کہ اس سے احساسات ایک کروٹ لگ جاتے ہیں، ارسطو کا خیال ہے کہ جب ہم کوئی المیہ ڈرامہ دیکھ کر تھیٹر سے لوٹتے ہوتے ہیں تو ہمارے تمام برے جذبات خارج ہو جاتے ہیں اور ان کی جگہ خوف اور ترس لے لیتا ہے، ہمارا ذہن بالکل صاف ہو جاتا ہے۔ اور جذبات سرد پڑ ے ہوتے ہیں ، ارسطو اس عمل کو کتھارسس کا نام دیتا ہے وہ لکھتا ہے:

''خوف اور ترس پر اکسانے والے المیہ مناظر جذبوں کی کتھارس کا باعث بنتے ہیں ۔''

کتھارس کی اصطلاح کا اصل مفہوم کیا ہے؟ اس سلسلہ میں ادیبوں اور نقادوں کے مابین بڑا اختلاف رہا ہے ، صدیوں سے اس کے حل کی کوشش کی جارہی ہے کہ اس لفظ سے ارسطو کی مراد کیا ہے؟ در اصل کتھارس کے لفظ سے ارسطو کے شاگرد اس طرح آشنا تھے کہ انہیں اس امر کا احساس نہیں تھا کہ یہ لفظ کبھی متنازعہ فیہ بن سکے گا یا کسی کو اس کے معنی متعین کرنے میں دشواری ہوگی ۔ ویسے بوطیقا میں اس اصطلاح کے ضمن میں ایک جگہ وہ لکھتا ہے:۔

''کتھارس سے ہماری مراد کیا ہے، یہاں اس کے متعلق عمومی باتیں درج ہیں ،
لیکن جہاں شاعری سے مفصل بحث ہوگی ۔ وہاں اسے زیادہ تفصیل سے زیر
بحث لایا جائے گا۔''

لیکن ارسطو اس کی تشریح کرنا بھول گیا، نتیجہ یہ ہے کہ مختلف نقادوں نے اسے مختلف طریقہ پر سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش  کی ہے۔ بہر حال اتنی بات پر اکثر نقاد متفق ہیں کہ کتھار سس سے ارسطو کی مراد مذہبی پس منظر کے احساسات کی طہارت نہیں ہے بلکہ اس کا مفہوم خوف اور ترس کے نا خوشگوار جذبہ کا اخراج ہے جس سے سکون کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اس لحاظ سے کتھارسس ایک طبی کنا یہ ہے جس طرح مسہل سے جسم کے فاسد مادہ کا اسہال ہو جاتا ہے اسی طرح ٹریجڈی کے مناظر سے فاسد جذبوں کا اخراج ہو جاتا ہے۔ کسی چیز کی زیادتی تو ازن کو ٹھیس پہنچاتی ہے ۔ چنانچہ کسی چیز کی معتدل صورت کا ظہور اس وقت ممکن ہے جب زیادتی کا عنصر خارج کر دیا جائے ۔ اس کا حصول موسیقی ، ترس یا ہنسی کے ذریعہ ممکن ہے ان کو دینی اور دماغی کدورتوں کو دور کرنے کے لئےبہ طریق علاج استعمال کیا جاتا ہے۔

 کتھارسس یا اخراج جذ بہ فاسد کے نظریہ کو ملٹن نے بھی اسی طرح سمجھا ہے وہ اپنے ڈرامہ کے دیباچہ میں لکھتا ہے:۔

''ارسطو نے کہا ہے کہ جذبوں کو معتدل اسی صورت بنایا جا سکتا ہے کہ
تمام  اضافی جذبے خوف اور ترس کی راہ سے بھڑ کا دیئے جائیں تا کہ
ان کااسہال ہو جائے ۔''

بہر حال ارسطو کہتا ہے المیہ ڈرامہ خوف اور ترس کے جذبوں کو مشتعل کرتا ہے اور ان کے اسہال سے خوشگوار سکون کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ لیکن یہاں چند سوالات اٹھتے ہیں۔

(1)         خوف اور ترس کے جذبات سے ارسطو کی کیا مراد ہے؟

(2)         ٹریجڈی ان جذبوں کو کس طرح مشتعل کرتی ہے؟

(3)         ایسا کس لئے کرتی ہے؟

(4)          کیا کتھارس کی ایک ہی قسم ہے؟ اور قسم حزینہ ہے؟

کتھارس کے مفہوم کو سمجھنے کیلئے ان سوالات کا جواب ضروری ہے۔ ارسطو نے خوف اور ترس" کے الفاظ سے بحث کی ہے:۔

''خوف تکلیف کی ایک صورت ہے یا اپنی طبع کے لحاظ سے تباہ کن یا تکلیف دہ
انتشار ہے جو کسی شر کے باعث پیدا ہوتا ہے۔ ''ترس ''اس احساسی  تکلیف
کا نام ہے جو اس کا سزاوار نہیں ہے یہ ایسا شہر ہے جو کبھی بھی ہمیں شکار کر
سکتا ہے۔ کبھی ہمارے احباب کو زد میں لے سکتا ہے اور جس کی قربت
محسوس کی جاسکتی ہے۔“
 

اس طرح خوف اور ترس تکلیف اور حزن کی صورتیں ہیں جن کا ساتھ ضروری ہے ورنہ صرف خوف کسی المیہ کونہایت سنگین اور ہیبت ناک بناڈالے گا۔ یا ترس اسے نرم جذباتیت کا شکاربناڈالے گا۔

اب سوال یہ ہوتا ہے کہ خوف اور ترس کے جذبے کے استعمال اور پھر اخراج سے انبساط کی صورت کس طرح نکلتی ہے اس سلسلہ میں یہ کہا جاتا ہے کہ تکلیف کے پردہ میں مسرت کا پر تو مخفی ہوتا ہے اور تکلیف جب ایک کروٹ لگ جاتی ہے تو انبساط کا پہلو خود بخودنمایاں ہو جاتاہے۔

ارسطو اپنی کتاب ریٹورک میں لکھتا ہے:۔

'' وہ تمام چیزیں جن سے ہم ہراساں ہیں اگر دوسرے پر گزر جاتی ہیں
تو ہم ترس کھاتے ہیں اس کے علاوہ وہ شخص بھی ترس کھا سکتا ہے جسے
 یاد آسکے کہ اس پر یا اس کے احباب پر یہ چیزیں گزر چکی ہیں ۔''

ڈبلیو ۔ ام ۔ ڈکسن ، ارسطو کے اس نظریہ سے اتفاق نہیں کرتا ، وہ کہتا ہے:۔

" خوف کا احساس ترس کے بغیر بھی ممکن ہے بالکل اس طرح جیسے ایک
شخص ایسا کہ جو لا ولدہے اور کسی کے اکلوتے بچے کے مرنے پر خوف کے
بغیر ترس کھاتا ہے، خوف اور ترس کو ذاتیات پر پابند نہیں کرنا چاہیے۔
جذبہ ترحم کے اشتعال کے لئے لازمی نہیں کہ خوف کے مرحلے سے گزرا
جائے ۔ ''

یہ سوال کہ کیا کتھارس کی ایک ہی قسم یعنی حزینہ قسم ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہر چند کہ خوف اور ترس المیہ جذبوں میں بہت اہم ہیں لیکن صرف یہی المیہ جذبے نہیں ہیں۔ المیہ جذبوں میں محبت اور تحسین بھی اپنی جگہ پر اہم ہیں۔ ارسطو ان امور کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ لیکن ان کی اہمیت جدید ڈراموں سے ثابت ہے۔

 بہر صورت ارسطو کے کتھارسس کے نظریہ کے عیوب جو بھی ہوں ان کی اہمیت مسلم ہے۔ اور اس اصطلاح اور اس کے لوازم نے ادبی موشگافیوں کی کتنی راہیں کھول دی ہیں ۔ یہاں ہم چند واضح نظریات نقل کرنے پر اکتفا کر رہے ہیں۔

 

۱۔طبی نظریا

 کہا جاتا ہے کہ کتھارس ایک طبی استعارہ ہے، ہمارے اذہان پر اس کا اثر اسی طرح ہوتا ہے جس طرح امراض کے باب میں دواؤں کا۔ جس طرح ہو میو پیتھک ذریعہ علاج ، علاج بالمثل ہے اسی طرح خوف و ہراس کے جذبوں کا اخراج ان ہی ذرائع سے ممکن ہے۔ ملٹن کتھارسس کی اصطلاح سے یہی مفہوم مراد لیتا ہے، ٹوئنیگ اور بار نے جیسے اہم نقاد بھی کتھارس کے عمل کو ہو میو پیتھک کے طریقہ کا علاج تصور کرتے ہیں۔ فرائڈ اور کئی دوسرے نفسیاتی ماہرین کتھارس کے اس مفہوم کو صحیح تصور کرتے ہیں۔

۲۔ نفسیاتی نظریا

 ایف ۔ ایل ۔ لوکس کہتا ہے کہ کتھارس کو طبی استعارہ تسلیم کرنا غلط محض ہے، وہ کہتا ہے کہ تھیٹر  کوئی ہسپتال نہیں جہاں مریضوں کا علاج ہوا کرے، لوکس اور ہر برٹ ریڈ کے تصور کے مطابق کتھا رس ایک تخلیقی عمل ہے، ڈرامے میں ہمدردی اور خوف کے جذبات کے اظہار میں ممانعات آڑے نہیں آتے جب کہ حقیقی زندگی میں ان جذبوں کا اظہار ممکن نہیں ہے ۔ جذبے کے ایسے اخراج سے سکون کی ایک کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، ہیرو کے مصائب ہمیں کسی نہ کسی طرح متاثر ضرور کرتے ہیں اور ایسا تاثر نفسیاتی پہلو رکھتا ہے نہ کہ اس میں علاج معالجے کی صورت ہوگی۔

''کتھارسس سے عمل کو آئی ۔ اے ۔رچر ڈس بھی نفسیاتی ہی بتاتا ہے، خوف
ہمارے جذبہ فرار کو مہمیز لگا تا ہے جب کہ ہمدردی وابستگی کے جذبے کو ابھارتی
ہے اور المیہ میں یہ جذ بے ایک دوسرے میں مدغم ہو کر زندگی کو نفسیاتی طور پر
پرسکون بناڈالتے ہیں ۔''

 ۳۔ مذہبی نظریہ

مذہبی نقطۂ نظر سے کتھارسس کا عمل روح کو صیقل کرنے کا عمل ہے، جو  مصائب اور آلام کو سہن کرنے کے وقت پیدا ہوتی ہے، جون گاسز رو برٹیلو اور کیسل ورٹو کتھارسس کو مذہبی پس منظر میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

۴۔نظریه تطہیر

 

یونانی زبان میں کتھارس کے تین مختلف معنی ہیں ۔ اس کا ایک مفہوم اسہال جو ایک طبی اصطلاح ہے، دوسرا تطہیر ہے اور تیسرا توضیح ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ ارسطو کا رحجان طب کے طرف تھا۔ اس کا باپ ایک طبیب تھا اور اسے خود بھی طب سے دلچسپی رہی تھی مذہب کی جانب وہ بھی راغب نہیں تھا۔ اس لئے خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے کتھارسس کا لفظ طبی معنی ہی میں استعمال کیا ہوگا، نظریہ اسہال کے ماننے والے ارسطو کی ''پوئیٹکس'' کے آخری اوراق کا ایک اقتباس نقل کرتے ہیں جس سے مذہب سے بیزاری کا پہلو نمایاں ہوتا ہے لیکن ہمفری ہاؤس کتھارسس کے طبعی مفہوم کو قطعی نہیں مانتا، اس کا خیال ہے کہ اصطلاح سے ارسطو کا مقصد تطہیرجذبہ ہے، اخلاقی سبق ہے، خوف اور ہمدردی کے عوامل جب اسٹیج کئے جاتے ہیں تو ان سے ہمارے فاسد جذبوں کی تطہیر ہو جاتی ہے اور ہمارا اخلاقی معیار بلند ہو جاتا ہے۔

تطہیر جذبہ کے نظریہ کو بوچر بھی تسلیم کرتا ہے، اس کا خیال کہ کتھارس محض جذباتی سکون کا نام نہیں بلکہ جذبے کی تعمیر کا پہلو بھی اس میں مضمر ہے۔

ارسطو کی تنقید کی اہمیت

ارسطو کو بابائے تنقید کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ افلاطون نے فنون لطیفہ کو جس نقطۂ نظر سے دیکھا تھا ارسطو سائنٹیفک نقطہ نگاہ سے ادب کا جائزہ لیتا ہے اور ان کے کچھ بنیادی اصول اور ضابطے کی نہ صرف تلاش و جستجو کرتا ہے بلکہ انہیں سمیٹ کر ایک ضابطہ یا  نظام قائم کردیتا ہے۔ شعر وادب کے ضمن آج کتنے ہی ایسے نکات ہیں جن پر ارسطو چو بیس برس پہلے روشنی ڈال چکا تھا ایسے نکات سب کے سب قابل اعتنا تو نہیں رہے ہیں لیکن ان نکات کو قطعی  طور پر رد کر دینا بھی آسان نہیں ثابت ہوا ہے۔

 ارسطو کا نظریہ نقل اس کا اپنا نظریہ ہے جس میں خالق کے جمالیاتی تصور کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ افلاطون اس نکتے کونہیں سمجھ سکاتھا کہ فن کار  نقل  کے مرحلے میں تخلیقی قوت سے کام لیتارہتا ہے، اس طرح اب جو چیز سامنے آتی ہے نقل محض نہیں رہ جاتی بلکہ ایک نئی اور زیادہ پرکشش شے بن جاتی ہے۔ ارسطو کو اس امر کا احساس تھا کہ مختلف شعری وادبی صنفیں الگ الگ حیثیت کی حامل ہیں اور ان سے الگ الگ انبساط کا پہلو وابستہ ہے۔ پھر اس نے سنجیدہ اور غیر سنجیدہ شعری ( ڈرامائی ) موضوعات اور اصناف سے بحث کی ہے، جن کا تفصیلی ذکر پچھلے صفحات  میں آچکا ہے۔

پھر بھی یہ بالکل سچ ہے کہ ارسطو کے یہاں کچھ عیوب بھی ہیں، بوطیقا کے سرسری مطالعہ سے بھی اس کتاب کے بعض نقائص سامنے آ جاتے ہیں، مثلا یہ کہ ارسطو کہ اصول اور ضابطے کی بنیاد یونانی ڈرامے اور رزمیہ ہیں۔ اس کی نگاہوں کے سامنے دنیا کا کوئی دوسرا ادب نہیں تھا۔ لہذا ضابطوں اور اصولوں کے تعین میں اسے اپنے محدود دائرے سے روشنی لینی پڑتی تھی ایسے میں اس کے بنائے ہوئے اصول ایک طرفہ ہیں، انہیں بعد  کے انگریزی ڈرامے، شاعری یا فکشن پر  منطبق کرنا مشکل ہے۔ اسکاٹ جیمز لکھتا ہے:

'' ارسطو نے کبھی بھی علمی ڈرامے مثلا مین اینڈ ئیر میں یا جسٹس نہیں دیکھے
تھے گو کہ پوری پیڈس ان سے بہت قریب ہے اسے ایسے پسندیدہ سماجی کوائف
کی خبر نہیں جن سے سمرسٹ مام کے کردار مستفید ہوتے ہیں۔۔۔۔وہ صرف
یونانی المیوںکو جانتا تھا، صرف یونانی طنز اورطربیوں سے واقف تھا۔''
 

مزید برآں آج کی اصطلاح میں کسی مکمل کتاب یا مصنف کا جائزہ جس طرح لیا جاتا ہے اس کے بارے میں ارسطو قطعی خاموش ہے پھر ارسطو نے ''لیرک'' یعنی غنائیہ شاعری اور اوڈیسی کی مثالیں سامنے نہیں تھیں ۔

 ان خامیوں کے باوجود بوطیقا ادبی تنقید کی پہلی تنقیدی کتاب تسلیم کی جاسکتی ہے اوراسے عہد آفریں کہہ سکتے ہیں ۔

ترتیب و اشاعت   :قیصر شہزاد ساقی

آپ مزید پڑھ سکتے ہیں :


ارسطو کا نظریا کتھارسس||وہاب اشرفی||ٹریجڈی کی ضرورت اور اخراج جذبہ|ارسطو کی تنقید کی اہمیت||Aristotle k tanqeedi nazriyat
ارسطو کا نظریا کتھارسس||وہاب اشرفی||ٹریجڈی کی ضرورت اور اخراج جذبہ|ارسطو کی تنقید کی اہمیت||Aristotle k tanqeedi nazriyat

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...