نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ارسطو کا تعارف|ارسطو کے تنقیدی نطریات|پوئٹکس از ارسطو||بوطیقا کا تعارف|ارسطو کے نزدیک شاعری کیا ہےAristotle - Philosophy & Life - HISTORY|Arasto ki tanqeed|

  

 ارسطو

وہاب اشرفی

بحوالہ :نظریاتی تنقید: مسائل ومباحث

 

ارسطو کلسی ڈس کے ایک مقام اسٹاگیر میں ۳۸۴ برس قبل مسیح پیدا ہوا۔ اس کا باپ نیکو ماکس میکڈونیا کے شہنشاہ امنیٹس ثانی کا دوست اور محل کا خاص طبیب تھا۔ ارسطو کی ابتدائی زندگی پلا کی سرکار میں گزری۔ سترہ برس کی عمر ارسطو کا افلاطون کی اکیڈمی میں جوایتھنز  میں واقع تھی، داخل کر دیا گیا۔ اس ادارے میں وہ بیس  برسوں تک رہا۔ ۳۴۷ ق م میں جب افلاطون چل بسا تو ارسطو اس ادارہ سے الگ ہو گیا اور اپنے ایک دوست زینو کر یٹس کے ساتھ مائی سیا کے ایک مقام ایسوس میں منتقل ہو گیا ایسوس اور اٹاز ینوس کا حکمراں ارسطو کا دوست ہر میاز تھا وہ اپنے دوست کا مہمان بن کر رہنے لگا۔ یہاں ارسطو قریب قریب تین سال تک رہا۔

۳۴۵ ق م ہر میاز مرگیا اور ارسطو نے اس کی بھتیجی پائیتھیاز سے شادی کر لی شادی کے اول دو سال بسوس میں گزارے۔ ۳۴۳ ق م میں مقدونیہ کے فلپ نے ارسطو کو اپنے یہاں آنے کی دعوت دی اور وہ سکندراعظم کا اتالیق مقرر ہو گیا۔ اس نے سکندر کو چھ برسوں تک تعلیم دی۔ جب ۳۳۵ ق م میں فلپ کا انتقال ہو گیا تو ارسطوایتھنز واپس آ گیا اور اپنا مشہور اسکول لائی سیوم قائم کیا ۔ یہاں ارسطو نے اپنی تقریروں کے ذریعہ تعلیم کا سلسلہ شروع کیا۔ اس کی نگارشات کا بڑا حصہ ان ہی دنوں کی یادگار ہے۔

 

پوئٹکس (بوطیقا )

بوطیقا ادبی تنقید کی ایک نامکمل کتاب ہے۔ لیکن اس میں طربیہ اور المیہ ڈراموں اور رزمیہ (ایپک) شاعری سے بحث کی گئی ہے۔ اس میں ۱۲۶ ابواب ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ابواب ارسطو کے تفصیلی لیکچروں کا خلاصہ ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ارسطو نے تفصیلی بحث کے لئے محض اشارے ترتیب دیئے ہوں جو متن کی صورت میں پیش نظر ہیں۔ یہ بھی خیال ظاہر کیا گیا ہے کر ممکن ہے اس کتاب کا ایک اور حصہ بھی ہو جو تلف ہو گیا، بہر حال اس وقت بوطیقا جس طرح ہے وہ نا مکمل بھی ہے اور منتشر بھی ۔ اس میں چند ایسے سوالات بھی ارسطو نے اٹھائے ہیں جن پر بحث نہیں کی گئی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ دوسرے حصہ میں جواب نا پید ہے ان کا جواب لکھا گیا ہو۔ ایسی تمام کمی کے باوجود بوطیقا المیہ ڈراموں کے ضمن میں ایک مستند ادبی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے نہ صرف یہ کہ اس میں ادب سے متعلق فلسفیانہ مباحث درج ہیں بلکہ اس کی حیثیت ایک ایسی بنیاد کی ہے جس پر تمام دوسری ادبی بحثوں کی عمارت کھڑی کی گئی ہے۔ اس میں ادبی اور جمالیاتی تنقید کے بنیادی مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے اور ان کی جزئیات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ مثلا المیہ ڈرامے کے باب میں اس کا  ماجرا ( پلاٹ) کردار اور اسلوب وغیرہ پر علیحدہ علیحدہ بحث کی  گئی ہے۔

 بوطیقا کے سلسلہ میں یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ ارسطو کے پیش نظر اپنے استاد افلاطون کے نظریہ نقل کے رد یا اصلاح کا مقصد تھا۔ بوطیقا کے مولف کے ذہن میں افلاطون کی ری پبلک ضرور ہے لیکن کہیں بھی اس نے اس کتاب کا ذکر نہیں کیا ہے ۔

 اٹکنس لکھتا ہے۔

''بوطیقا میں شاعری کے بارے میں افلاطون کے منفی دلائل کی کاٹ

ارسطو کا مقصد ہے اور کتاب کے بڑے حصے میں یہی مقصد کار فرما ہے۔"

پروفیسر ابرو کرمبی کی بھی رائے ہے:۔

'' یہ یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ارسطو افلاطون کے اس یلغار

کا دفاع کرنا چاہتا ہے کہ شاعری انسان کی عظمت سے فروتر ہے اور اس کے

اثرات آدمی کے لئے ضرر رساں ہیں ۔"

 

 ارسطو نے ۳۰ ۳ق م میں بوطیقا لکھی ، ادب کے بارے میں اس کا محاکمہ یونانی شعراء کی تخلیقات کی روشنی میں مرتب ہوا ہے لیکن المیہ ڈراموں کے بارے میں اس کے نظریات پانچویں صدی کے یونانی ڈراموں پر منبطق نہیں ہوتے ۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ بوطیقا لکھنے کے وقت اور کلاسیکی ڈراموں کے اختتام کے زمانے میں کافی بعد ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ارسطو ادبی تنقید نیز اس ضمن میں کوئی نظریہ قائم کرنے کا اہل نہ تھا اس لئے کہ شعر وادب سے اس کا براہ راست واسطہ نہ تھا۔ ارسطو ایک فلسفی تھا چنانچہ شعر اور ڈرامے کی تنقید اس کے علاقہ سے باہر تھی، لیکن ایسی تمام باتیں محض ادبی موشگافیاں ہیں اس لئے کہ بوطیقا اپنی اہمیت کے لحاظ سےایک لافانی کتاب ہے۔

افلاطون کے باب میں اس امر کی وضاحت ہو چکی ہے کہ کس طرح وہ شعر و ادب اور دوسرے فنون لطیفہ کو سچائی سے دور محض نقلی کارگزاری تصور کرتا ہے۔ اس کے شاگرد رشید نے بھی نظریہ  عقل کی بنیاد پر اپنا نظریہ قائم کیا ہے۔

نقل کا لفظ تو ارسطو نے افلاطون ہی سے اخذ کیا۔ لیکن اس کے نئے معنی بتائے اور اس امر کا اظہار کیا کہ اس کا تعلق جمالیات سے ہے چنانچہ جمالیاتی پس منظر میں نقل کا مفہوم بیان یا نمود ہے۔ بیان یا نمود کی تشریح اس طرح کی جاسکتی ہے کہ ارسطو شعر و ادب کو کسی چیز کی نقل محض تصور نہیں کرتا۔ شاعر یا ادیب کا کام کسی شے کا چر بہ اتار نانہیں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایک فن کار فطرت کی نقل اس معنی میں کرتا ہے کہ وہ اپنی قوت تخیل سے ایک پیکر حیات میں ڈھال دیتا ہے یعنی وہ زندگی کی از سرنو تشکیل کرتا ہے کسی تصویر کا کسی ادیب پر اثر پڑتا ہے تو وہ تصویر کو جوں کا توں الفاظ کے قالب میں نہیں ڈھال دیتا، بلکہ اپنے تخیل سے اس تصویر میں نئے رنگ و ر وغن بھرتا ہے اس طرح کہ متعلقہ تصویر کی صورت بدل جاتی ہے۔ بوچر نے اس کی وضاحت اس طرح کی ہے:

'' فنون لطیفہ کا تعلق فطرت کی نقل محض سے نہیں ہے کھردری سچائی

کا ہے تعلق اظہار ہے۔ ان کا کام تو سچائی کو زیادہ نکھار کر سامنے لاتا ہے۔''

 افلاطون نے اپنے نظریہ نقل کی دلیل ایک میز کی تخلیق کی مثال سے واضح کی ہے وہ اس طرح کہتا ہے:۔

''دنیا میں کتنی ہی میزیں ہیں لیکن میز کے بارے میں کوئی ایک ہی ربانی

تصویر یا صورت حق پر مبنی ہے۔ جب کوئی بڑھئی ایک میز بنا تا ہے تو اس کی

کارگزاری کا پس منظر یا پرتو ایک حقیقی میز ہے جوان تمام سے بنائی گئی ہیں

یا بنائی جاسکتی ہیں مختلف ہے۔ پھر جب ایک مصور کسی میز کے سامنے

بیٹھ کر اس کی تصویر کشی کرتا ہے تو اس کا حاصل بڑھئی کی بنائی ہوئی میز کی

نقل ہے جو بذات خود ایک مثالی حقیقی میز کا پرتو ہے اس طرح مصور کی تصویر

سچائی سے دومنزل دور ہے ۔''

اس نظریہ کا  رد کرتے ہوئے ارسطو کی دلیل ہے کہ میز مادہ اور فارم کا مرکب ہے۔

مادہ تو کھر دری شکل میں میز بنانے کے سلسلے میں موجود ہوتا ہے لیکن صورت کا خالق انسان ہے جس کے تخیل کی یہ کارگزاری ہے ۔ ارسطو کا خیال ہے کہ آرٹسٹ کا کام فطرت کی نقالی تو ہے ہی لیکن اس نقل میں آرٹسٹ یہ بھی کرتا ہے کہ غیر مربوط سلسلہ کو مربوط بناتا جاتا ہے یا فطرت نے جہاں جہاں جگہ خالی چھوڑ دی ہے۔ نقل کے عمل میں وہ اسے بھرتا جاتا ہے۔ اس طرح اب جو سچائی سامنے آتی ہے وہ زیادہ دلکش، زیادہ مربوط اور زیادہ واضح ہوتی ہے۔ ارسطو کہتا ہے:

'' ایک فن کار جو ممکن ہے یہ بھی نہیں جانتا  کہ وہ کیا کر رہا ہے ، صورت گری

کے کام میں مشغول ہے اور اس کا یہ عمل اسے فلسفیوں سے اور معمولی انسان

سے الگ کر دیتا ہے ۔''

 اس نقطہ نظر سے جب ایک مصور کسی میز کی تصویر اتارتا ہے تو ایک مخصوص فارم یا صورت اس کے ذہن کے نہاں خانے میں مچلتی ہوتی ہے اور وہ محض نقل پر بس نہیں کرتا۔

 افلاطون ہی کی طرح ارسطو بھی کہتا ہے کہ ایک فن کار نقل اس لئے کرتا ہے کہ ایسا کرنے میں وہ حظ محسوس کرتا ہے اور نقل کرنا گویا اس کا ایک طبیعی رحجان ہے۔ نقل کا کام کتنا مسرت بخش ہے اسے محسوس کرنے کیلئے بچے کے عمل کو دیکھنا چاہیے کہ ابتدا میں وہ اپنے ماحول سے کیا کچھ سیکھ جاتا ہے۔ اور سیکھتا رہتا ہے، ایک شاعر یا ادیب بھی ایک بالغ بچہ ہے جو فطرت کے رموز سمجھتا جاتا ہے اور ایسا کرنے میں اسے غایت مسرت ہوتی ہے۔ ارسطو انبساط پر اتنا ز ور دیتا ہے کہ اس سے ادب برائے ادب کے نظریہ کی نیو پڑ جاتی ہے۔ یہاں وہ اپنے استاد افلاطون سے اور بھی دور ہو جاتا ہے جو اپنی تنقید کے پس منظر میں ہمیشہ یہ سوچتا رہتا ہے کہ ادب زندگی آموزی کا ساتھ نہیں دے سکتااس لئے اس پر سخت نکتہ چینی کرتا ہے۔ پروفیسر ابرو کر رمبی کا خیال ہے:۔

'' ارسطو نے جس طرح نقل شاعرانہ کی توجیہ اور تشریح کی ہے اس

سےنظریہ جمالیات کی بنیاد کافی مضبوط ہو جاتی ہے۔"

مضمون کا دوسرا حصہ ''ٹریجڈی کی ضرورت [کتھارسس ]اخراج جذبہ کی تعریف ملاحظہ فرمانے کے لیے یہاں کلک کریں۔۔۔۔۔



مزید اردو شاعری ملاحظہ فرمائیں

ارسطو کا تعارف|ارسطو کے تنقیدی نطریات|پوئٹکس از ارسطو||بوطیقا کا تعارف|ارسطو کے نزدیک شاعری کیا ہےAristotle - Philosophy & Life - HISTORY|Arasto ki tanqeed|
ارسطو کا تعارف|ارسطو کے تنقیدی نطریات|پوئٹکس از ارسطو||بوطیقا کا تعارف|ارسطو کے نزدیک شاعری کیا ہےAristotle - Philosophy & Life - HISTORY|Arasto ki tanqeed|

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...