روایت اور انفرادی صلاحیت از ٹی ایس ایلیٹ||ترجمہ مختار صدیقی||ایلیٹ کے تنقیدی نظریات||ایلیٹ اور روایت ||Eliot aur rawait||eliote k tanqeedi nazriyat|Tradition and the individual Talent in urdu translation by T.S Eliot|T.S Eliot criticism in Urdu
روایت اور انفرادی صلاحیت
انگریزی ادب میں روایت کا ذکر کم کم ہی آتا ہے ، یوں اکثر اوقات ہم روایت کے فقدان پر افسوس کرتے ہیں ، تو روایت کا نام آ جایا کرتا ہے، ہم کسی ''خاص روایت'' یا کسی'' ایک روایت'' کا ذکر ہی نہیں کر سکتے زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے، کہ ہم کسی شاعر کی شاعری کو ''روایتی ''یا ''بے حد روایتی'' کہتے ہیں ، تو روایت کے لفظ کا استعمال کر لیا کرتے ہیں ، اور یہ کوئی تعریف کی بات نہیں سمجھی جاتی ، بلکہ ہمارے محاورے میں یہ لفظ ،عیب کے معنوں میں آتا ہے کبھی تعریف کے طور پر استعمال ہو بھی ، تو یہ تعریف مبہم سی ہوا کرتی ہے ، مثلا کسی آثارقدیمہ کی مرمت کی گئی ہو تو پرانی عمارت کی بحالی کو اس لفظ کے سہارے مناسب قرار دے دیا، ..... اصل یہ ہے کہ یہ لفظ انگریزوں کے کانوں کے لئے اگر خوشگوار ہے، تو بس ،آ ثارقدیمہ کی اطمینان دہ سائنس کے سلسلےمیں ہے۔
یہ طے ہے، کہ ''روایت'' کا لفظ زندہ یا ہر دو ادبیوں کی تحریروں کی پرکھ، ان کے حسن قبح کی جانچ کے سلسلے میں نظر نہیں آئے گا، ہر قوم اور ہر نسل کے لوگوں کے ذہن کی تخلیقی نہج ،اور تنقیدی ''نہج'' اپنی ہوتی ہے، ہر قوم اور ہر نسل کے لوگ اپنے تخلیقی جوہر کے نقائص اور کمزوریوں کی به نسبت اپنی تنقیدی صلاحیت کی حد بندیوں سے کہیں زیادہ بے خبر ہوتے ہیں ،فرانسیسی زبان میں، تنقیدی تحریروں کا جوا تنا ز بردست طو مارنکلا ہے اسے دیکھ کر ہم جانتے ہیں ۔ ( یا ہمارا خیال ہے، کہ ہم جانتے ہیں )کہ فرانسیسی قوم کا طریق تنقید، یا ان کا تنقیدی مزاج کیا ہے ۔۔۔۔۔ ہم اس سے انداز ہ لگاتے ہیں ، (اور ہماری بے خبری ملاحظہ ہو) کہ فرانسیسی ہماری بہ نسبت زیادہ نکتہ چیں واقع ہوئے ہیں، بعض دفعہ ہم اس بات پر فخر بھی کرتے ہیں ، جیسے فرانسیسی نکتہ چینی ( یا نقد ) کی اس عادت کی بدولت ہمارے مقابلے میں تازگی اور برجستگی کی دولت سے محروم ہیں ، شاید واقعہ بھی یہی ہو مگر ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ نقد ونظر ہمارے لئے اتنا ہی ناگزیر ہے، جتنا جینے کے لئے سانس لینالازمی ہے ہمیں یہ بھی بھولنا نہیں چاہیے، کہ ہم کوئی کتاب پڑھیں ، اور اس کتاب کے سلسلے میں ہمارے دل میں جو خیال گزرے ، تو اسے زبان پر لانا بھی چنداں بری بات نہیں ، اور اپنے ناقدوں کی تنقیدات پر نکتہ چینی بھی کوئی عیب نہیں ، اس سارے عمل میں ، ایک حقیقت ضرور سامنے آ جاۓ گی ، اور وہ یہ ہے، کہ جب ہم کسی شاعر کی تعریف کرتے ہیں ، تو ہمارا قاعدہ یہ ہے کہ اس کی شاعری کے صرف ان پہلوؤں پر زور دیتے ہیں ، جو کسی اور شاعر سے بہت ہی کم مماثل ہوں، گو یا ہم اپنے خیال میں اس کی شاعری کے ان پہلوؤں میں وہ بات ڈھونڈ لیتے ہیں ، جو صرف اسی شاعر کی انفرادی خوبی ، صرف اس کا خاص جو ہر ہے ، اس شاعر میں اور اس کے پیش روؤں ، اور خاص طور پر اس کے قریبی پیش روؤں میں جو فرق ہے ، ہم اس پر خاص دل جمعی سے بات کرتے ہیں ، ہماری کوشش یہ ہوتی ہے کہ اس شاعر میں ایسی بات ڈھونڈ لیں ، جو دوسروں سے الگ نظر آۓ تا کہ اس امتیاز ، اس فرق کا ہم مزا لیتے رہیں ۔ حالاں کہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے، اصل یہ ہے کہ اگر ہم کسی شاعر کی شاعری پر بے لاگت نظر ڈالیں تو ہمیں بارہا یہ معلوم ہوگا کہ اس کی شاعری کی بے حد منفرد باتیں یا اس کی بہترین خصوصیات وہی ہیں ، جو مرحوم شاعروں اور خصوصا اس کے متقدمین کے یہاں زیادہ زندہ جاوید حیثیت میں مل جاتی ہیں ..... میرا مطلب بلوغ کے زمانے کی باتوں سے نہیں ، کہ جب ہر بات کا دل و دماغ پر زیادہ اثر ہوا کرتا ہے، بلکہ پختہ سالی کے زمانے میں یہی حال ہوا کرتا ہے ۔
پھر بھی اگر'' روایت'' اور تر کہ اسی کا نام ہے ، کہ اپنے سے پہلی نسل کی کامیاب باتوں پر آنکھیں موند کر عمل کیا جائے ، یاڈرے ڈرے سہمے سہے ،انداز میں اس کے راستے پر چلا جاۓ تو پھر ایسی روایت کو یقینی طور پر مر دود قرار دینا پڑے گا ،خود ہم نے دیکھا ہے، کہ ایسے رحجانات کا کیا حشر ہوا ہے ، کیوں کہ جدت ، بہر حال ، ہیر پھیر کر وہی بات کہنے سے بہتر ہے ، روایت کا مسئلہ اس سے کہیں وسیع اہمیت کا حامل ہے، روایت اپنے آپ تر کے میں نہیں ملا کرتی ، اور اگر روایت آپ کو درکار ہو، تو اسے بڑی جان کا ہی سے حاصل کرنا پڑے گا ، ''روایت'' میں اولا ، جو چیز ، شامل ہے ، اسے تاریخی شعور کہا جا سکتا ہے ، اور یہ تاریخی شعور ، ہر اس شخص کے لئے قریب قریب لازمی قرار دیا جا تا ہے، جو پچیس سال کی عمر کے بعد بھی شعر کہتا ہے ،تاریخی شعور میں یہ بصیرت شامل ہے کہ ماضی وہ تھا جو گزر چکا لیکن ماضی اب بھی موجود ہے ، تاریخی شعور لکھنے والے کو مجبور کرتا ہے کہ لکھتے وقت اس کی اپنی نسل کا احساس بھی اس کے خون میں موجود ہو، اور یہ احساس بھی اس کے رگ و پے میں ساری ہو، کہ ہومر سے لے کر آج تک یورپ کا سارا ادب ، اور اس ادب میں ، اس کے اپنے ملک کا سارا ادب، ایک ساتھ زندہ ہے ،اور ایک ہی حسن ترکیب میں مربوط ہے۔
یہ تاریخی شعور ، زماں سے آزاد بھی ہے اور زماں کا پابند بھی ، اور زماں سے آزادی ، اور زماں کی پابندی بیک وقت اس میں شامل ہے، یہی وہ چیز ہے ، جو ایک ادیب کو روایت کا پابند بتاتی ہے، یہی وہ چیز ہے ، جواد یب کو شدت سے اس بات کا احساس دلاتی ہے ، کہ زماں میں اس کا اپنا مقام کیا ہے، اور وہ زماں کے ساتھ ہم عصر بھی ہے اور ہم چشم بھی ... کسی شاعر کسی فن کار کا وجودا پنی جگہ کوئی معنی ہی نہیں رکھتا، اس کی اہمیت ،اور اس کا مقام ، اسی صورت میں متعین ہو سکتے ہیں ، کہ گزرے ہوۓ شاعروں اور فن کاروں کے ساتھ اس کے ناتے کا تعین کیا جائے ، آپ ایک شاعر یا ایک فن کارکو انفرادی طور پر پر کھ ہی نہیں سکتے ، آپ کے لئے لازم ہے، کہ تقابل اور تفاوت کے لئے اس ادیب یافن کار کو گزرے ہوۓ ادیبوں اور فن کاروں کی صف میں کھڑا کر کے دیکھیں ، اور پھر اس کا جائزہ لیں ، میرا مراد یہ ہے کہ یہی وہ اصول ہے، جو تاریخی تنقید کا نہیں، بلکہ جمالیاتی اور فنکارانہ تنقید کا ہونا چاہیے ۔ اپنے پیش روؤں کے ساتھ لگا کھانے اور ان کے فن کے ساتھ ، یکسانیت اور ربط رکھنے کی یہ ضرور یک طرفہ نہیں کسی ایک نئے فن پارہ کی تخلیق کے وقت جو کچھ ہوتا ہے ، وہی ان تمام فن پاروں کے ساتھ بیک وقت واقع ہو جو اس فن پارے سے پہلے تخلیق کئے گئے ۔یعنی موجودفن پارے آپس میں پہلے سے ایک آدرشی نظام رکھتے ہیں ۔ اور یہ نظام ان فن پاروں کی صف میں ایک نئے فن پارے ( جو واقعی نیاہو ) کی آمد سے کچھ بدل سا جاتا ہے۔ اس نئے فن پارے کی آمد سے پہلے موجودفن پاروں کا نظام باہمی مکمل تھا، ایک جدید چیز کے اس نظام میں حائل ہوجانے کے بعد اگر نظام کو باقی رہنا ہے تو اس میں کچھ نہ کچھ تبد یلی ضرور کرنی ہوگی ، چاہے یہ تبد یلی بالکل خفیف ہو اس طورفن پاروں کے اس نظام کل سے ہرفن پارے کا تعلق ، اس کا تناسب اور اس کی قدر میں ساری کی ساری نئے سرے سے ترتیب پالیتی ہیں ، پرانے اور نئے میں تطابق اس کا نام ہے، اور جوشخص یورپی ادب اور انگریزی ادب میں اس نظام کا قائل ہے، اسے یہ بات بعید از عقل معلوم نہیں ہوگی ، کہ ماضی بھی حال سے اتنا ہی بدلتا ہے، جتنا حال ماضی سے رہنمائی حاصل کرتا ہے، جو شاعر اس نکتے کا شعور رکھتا ہے، اسے اپنے فن کے سلسلے میں زبر دست مشکلات اور زبردست ذمہ داریوں کا بھی پورا پورا احساس ہوگا ۔
خاص معنوں میں اس شاعر کو یہ بھی احساس ہو گا کہ اس پر ماضی کے معیار حکم ہوں گے، میں نے حکم کا لفظ جان بوجھ کر استعمال کیا ہے ، یہ نہیں کہا، کہ ماضی کے معیار ، اس کا جائزہ لینے کے سلسلے میں اس کا تیا پانچا کر کے رکھ دیں گے ، جائزہ یہ نہیں ہوگا ، کہ وہ شاعر ماضی کے شاعروں سے بہتر ہے، ان سے بدتر ہے ، یا ان کا ہم پلہ ہے ..... یہ فیصلہ اور یہ جائزہ ایک ایسے تقابل کی صورت میں ہوگا، جس میں ایک کا اندازہ، دوسرے کے ذریعے ، لگ جائے گا، کسی نئے فن پارے کے لئے یہ کافی نہیں کہ وہ پرانے فن پاروں کے ساتھ مطابقت رکھتا ہو کیوں کہ یہ مطابقت اصل میں مطابقت ہوگی ہی نہیں ، یہ فن پارہ نیانہیں ہوگا ،اور اس لئے فن پارہ کہلانے کا مستحق بھی نہیں ہوگا .... یہ مطلب بھی نہیں ، کہ نئی چیز زیادہ قیمتی ہوگی ، کیوں کہ یہ پرانی چیزوں کی صف میں ٹھیک بیٹھے گی ،مگر یہ یادر ہے، کہ پرانی چیزوں کے ساتھ یہ واقفیت ہی اس کی قدرو قیمت کا اصل امتحان ہے یہ مانا کہ اس امتحان کے سلسلے میں احتیاط سے کام لینا پڑے گا ،اور اس میں کافی وقت بھی صرف کر نا ہوگا ، کیوں کہ ہم میں سے کوئی شخص موزونیت کا حتمی طور پر صحیح تخمینہ نہیں لگا سکتا، ہم اتنا کہہ سکتے ہیں ، یہ چیز پرانی چیزوں کے ساتھ مطابقت رکھتی معلوم ہوتی ہے ۔شاید اس میں کچھ انفرادیت بھی ، یا انفرادیت کی چھاپ ضروری معلوم ہوتی ہے اور یہ پرانے فن پاروں کے ساتھ مطابقت رکھے گی ...... ان سب باتوں کے باوجود ہمیں حتمی طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکتا ہے ، کرفن پارہ تو ایسا ہے، اور دوسرافن پارہ ایسا نہیں ...
خیر شاعر کے ماضی کے ساتھ ناطے کی زیادہ واضح تشریح ہوگی ، کہ وہ نہ تو ماضی کو ایک ڈلے یا کسی انجانی گولی کی صورت میں نگل سکتا ہے ، نہ وہ اپنی شخصیت کی تعمیر کسی ایک یا دو پرانے اور اپنے خاص پسند یدہ اساتذہ کی بناء پر کر سکتا ہے، اور اس کے علاوہ وہ ماضی کی شاعری کے کسی محبوب دور پر بھی اپنی شخصیت کی عمارت نہیں کھڑی کر سکتا ، ماضی کے ادب کو جوں کا توں نگل لینا ،تو ویسے ہی ممنوع ہے، رہا دوسرا راستہ تو یہ نو جوانی کا اہم تجر بہ ہوا کرتا ہے، اور جہاں تک تیسری چیز کا تعلق ہے تو اسے ایسی ضمنی بات سمجھ لیجئے جو بڑی خوشگوار اور بے حد دل پسند بھی ہے، شاعر کوتو اس بڑی دھاراور اس عام رحجان کا زبردست احساس ہونا چاہیے، جو ماضی کی شاعری میں جا ری وساری ہے، مگر ضروری نہیں ، کہ یہ رحجان بڑی بڑی شہرتوں کے مالک اساتذہ میں بھی ملے ، شاعر کو اس معمولی حقیقت کا احساس ہونا چاہیے ، کہ فن کبھی کسی چیز کوترقی نہیں دیتا مگر یہ کہ فن کا مواد ہمیشہ ایک نہیں ہوتا ،مختلف ہوا کرتا ہے، ایسے یہ شعور ہونا چاہیے، کہ یورپ کا ذہن اور اس کے اپنے ملک کا ذہن ( یہ وہ ذہن ہے جسے وقت گزرنے کے ساتھ وہ اپنے ذاتی ذہن سے کہیں زیادہ اہم سمجھنا سیکھ لیا کرتا ہے) ایسا ذہن ہے ، جو بدلتا رہتا ہے ، اور یہ تبدیلی آگے بڑھنے کی ایسی صورت ہے جو راستے میں کچھ چھوڑ کر آگے نہیں بڑھتی ، جواپنی پیش قدمی کے جوش میں شکسپیر ، یا ہومر ، یا میگیڈالن کے نقشہ نویسوں کے چنانی نقشوں تک کو بھی فرسودہ اور بے کار قرار نہیں دے سکتی ، شاعر کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے، کہ یہ پیش قدمی نشو ونما ، یا شد ید نفاست ولطافت، مگر یقینی طور پر پیچیدگی ،فن کار کے نقطہ نظر سے ، ترقی نہیں ہوا کرتی ، شاید یہ ماہر نفسیات کے نقطہ نظر سے بھی ترقی اور اصلاح نہیں کہلا سکتی ، کم سے کم اس حد تک نہیں ، جس حد تک ہم سمجھتے ہیں ..... شاید آخر میں ، یہ اقتصادیات اور مشینری کے پیچیدہ مسائل پر مبنی ایک پیچیدگی ہی نکلے... لیکن حال اور ماضی میں فرق یہ ہے کہ شعوری حال ماضی کے شعور کا نام ہے، یہ شعور اس صورت میں اور اس حد تک ہوتا ہے، کہ ماضی کا اپنا شعور اس حد تک ظاہر نہیں ہو پاتا، کسی نے کہا ہے کہ گزرے ہوۓ ادیب ہم سے دور ہوتے ہیں ، کیونکہ ہم ان کے مقابلے میں کہیں زیادہ جانتے ہیں، بالکل ٹھیک ہے ، اور وہ وہی کچھ ہیں ، جو ہم جانتے ہیں۔
میں اس مرحلے پر اس عام اعتراض کو فراموش نہیں کر رہا، جو شاعری کے پیشے کے بارے میں میرے پروگرام کے ایک حصے پر ہے ۔ اعتراض یہ ہے ، اس اصول پر چلنے کے لئے مہمل حد تک تبحر علمی ( فضیلت مآبی ) کی ضرورت ہے ، یہ ایک ایسا دعوی ہے ، جسے گزرے ہوۓ شاعروں کی زندگی پر ایک نظر ڈالنے ہی سے رد کیا جاسکتا ہے، بلکہ ان شعراء کی زندگی سے یہ بھی معلوم ہو گا ، کہ بہت زیا دہ علمیت شاعرانہ احساس کو کند کردیتی ہے، اور اسے گم راہ تو ضرور کرتی ہے ، ہم اس بات پر ضرور زور دیں گے ، کہ ایک شاعر کو اتناعلم حاصل کرنا چا ہیے جو اس کے ذہن کی لا بدی تاثر پذیری اور اس کی فطرت کی کاہلی پر چھا پہ نہ مار بیٹھے ، تا ہم ان کو ان حد بندیوں میں جکڑ نا بھی مناسب نہیں ، جنہیں امتحانات ، اور دیوان خانوں کی علمی بحثوں ،یا پبلسٹی کے زیادہ لمبے چوڑے طریقوں کی مفید صورتوں میں ڈھالا جاسکے ۔اصل میں بعض ذہ ن ایسے ہوتے ہیں، جو علم کو بہت جلد جذب کر لیتے ہیں۔ دوسروں کو اس کے لئے خون پسینہ ایک کرنا پڑتا ہے، شیکسپیئر نے پلو ٹارک کو پڑھ کر ضروری تاریخی معلومات حاصل کر لی تھیں کہ بہت سے لوگ برٹش میوزیم کی ساری لائبریری کو پڑھ کر اتنی معلوم بہم نہیں پہنچا سکیں گے ..... چناں چہ ہمیں اس بات پر زور دینا ہوگا، کہ شاعر کو ماضی کا شعور یا تو خود پروان چڑھانا چاہیے یا یہ شعور کسی عنوان حاصل کر لینا چاہیے ، اور اسے زندگی بھر اسی شعور کی نشو ونما پر توجہ دینی چاہیے ۔ یہ اس صورت میں ہوگا، کہ وہ اپنے آپ کو ( جس طرح وہ ہے ) برابر اس چیز کے سامنے جھکا تا رہے گا ، جو اس چیز سے کہیں زیادہ گراں مایہ ہے، یعنی فن کار کی ترقی ، ایک مسلسل قربانی اور ایثار ہے، اپنی شخصیت (انا) کی ایک مسلسل نفی ہے ۔
تواب گویا شخصیت کو مٹاتے رہنے کے اس مسلسل عمل کی تعریف باقی رہ گئی ، اور یہ بیان کرنا باقی رہ گیا کہ روایت کے شعور سے اس کا تعلق کیا ہے، شخصیت کے مٹانے کی اس عمل کی زد میں آ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ آرٹ ، سائنس کی حدود کو چھورہا ہے، اس موقعے پر میں یہ تمثیل پیش کرتا ہوں، آپ اس پر غور کر یں گے تو آپ کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گے اور وہ یہ ہے کہ اگر کسی بند جگہ میں جو آکسیجن اور سلفر ڈائی آکسائیڈ سے بھری ہوئی ہو، پلاٹینیم کا ایک نازک ساٹکڑا، ڈال دیا جائے
تو کیا ہوگا۔۔۔۔۔؟؟؟
حصہ دوئم پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں
حوالہ:نظریاتی تنقید[مسائل و مباحث] مرتب ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی،ناشر بیکن بکس

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں