روایت اور انفرادی صلاحیت از ٹی ایس ایلیٹ||مغربی تنقید کے نامور نقاد اردو||ترجمہ مختار صدیقی||Tradition and the individual Talent in urdu translation by T.S Eliot
روایت اور انفرادی صلاحیت
حصہ دوئم۔۔۔۔
بے لاگ تنقید اور حساس پر کھ کا تعلق شاعر کی ذات سے نہیں ،شاعری سے ہوا کرتا ہے، اگر ہم عام اخباری ناقدوں کی الجھی ہوئی باتوں پر دھیان دیں اور ان ناقدین کی بے سرو پا تنقید کی بعد چبائی ہوئی باتوں کا جو شور مچتا ہے اسے سن لیں تو بہت سے شاعروں کے نام ہمارے کان میں پڑیں گے ۔
مضمون کا پہلا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں
لیکن اگر ہم یکجہتی باتوں کے پھیر سے نکل کر شاعری سے صحیح طور پر لطف اٹھا نا چا ہیں ، اور یہ مطالبہ کر یں ، کہ ہمیں ایک بھی ( حقیقی معنوں میں) نظم مل جاۓ تو وہ مشکل ہی سے دستیاب ہوگی ..... میں یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ اس نظم اور دوسرے شاعروں کی اور نظموں میں جو باہمی رشتہ ہے وہ کتنا اہم ہے ، میں یہ بھی اشارہ کر چکا ہوں ، کہ شاعری ایک وجود زندہ ہے ، شعر کے اس وجود کل کا ایک حصہ ہے، جو آج تک تحریر میں آچکا ہے، شاعری کے اس غیر ذاتی نظریے کا دوسرا پہلو اس تعلق کے بارے میں ہے، جو ایک نظم اور اس کے لکھنے والے کے درمیان قائم ہے، میں نے ایک مثال دے کر اشارہ کیا تھا، کہ پختہ کار شاعر کا ذہن نا پختہ شاعر کے ذہن سے اس لحاظ سے مختلف نہیں کہ دونوں کی شخصیت کی قدرو قیمت میں بڑا فرق ہے ، یا یہ کہ پختہ کار شاعر کا ذہن زیادہ دلچسپی کا حامل ہوتا ہے، یا یہ اس کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے .... اصل یہ ہے، کہ پختہ کار شاعر کا دہن زیادہ لطیف زیادہ مکمل واسطہ اور وسیلہ ہے ، جس کے ذریعہ خاص الخاص احساسات یا مختلف نوع کے احساسات پوری آزادی سے گھل مل کر نت نئی شکلیں اختیار کر سکتے ہیں ، مثال وہی ہے، جو اوپر عرض کی گئی ۔ آکسیجن اور سلفر ڈائی آکسائیڈ جب پلاٹینیم کے ایک ٹکڑے کی موجودگی میں ملائی جائیں تو وہ مل کر گندھک کا تیزاب بناتی ہیں ، یہ آمیزش صرف پلاٹینیم کی موجودگی ہی میں ممکن ہے لیکن اس آمیزش سے جو تیزاب بنتا ہے، اس میں پلاٹینیم کا شائبہ تک موجود نہیں ہوتا ، ظاہری طور پر، اس کا پلاٹینیم کے ٹکرے پر کوئی اثر نہیں ہوتا ، وہ بالکل غیر متاثر ، بے جان ، اور جوں کا توں رہتا ہے ۔ شاعر کا ذہن پلاٹینیم کا ہی ٹکڑا ہے ، ہوسکتا ہے یہ خاص طور پر یا جزوی طور پر اس انسان کے تجربات پر اثر انداز ہو، لیکن آرٹسٹ جتنا اعلی پایہ کا ہوگا ، اتنا ہی اس کی ذات میں وہ انسان جو دکھ اٹھا تا ہے ، اور وہ ذہن جو تخلیق کرتا ہے ، ایک دوسرے سے الگ الگ ہوں گے اور اسی قدر عمدگی سے اس کا ذہن ان جذباتی طوفانوں کو اپناۓ گا ، اور پھر ان کی ماہیت ان کی شکل ان کے جو ہر، کو بدل کر رکھ دے گا ، جو اس کے لئے تخلیقی مواد مہیا کرتے ہیں ۔ آپ دیکھیں گے، کہ اس قلب ماہیت کے عناصر دوقسم کے ہیں، جذبات اور احساسات ۔ ایک شخص جو کسی فن پارے سے حظ اٹھا سکتا ہے ۔اس پرفن پارے کا اثر ایسا تجربہ ہے ، جو غیرفن کے تجربے سے مختلف قسم کا ہوگا... تجربہ ممکن ہے ایک جذبے پر مشتمل ہو، یا کئی جذبات کا آمیز ہو ممکن ہے کئی احساسات اس تجربے کو مکمل صورت دینے میں شامل ہوں ، جو مصنف کے لئے خاص الفاظ ، یا اس کے مخصوص تصورات کا تار پود ہو، یا یہ بھی ہوسکتا ہے، کہ عظیم شاعری کی خلقت میں کسی جذبے کا دخل ہی نہ ہو، اور محض احساس پرمبنی ہو، دانتے کی نظم جہنم کا پندرھواں بندان جذبات کو جوش دے کر بروے کار لاتا ہے، جو پہلے سے پلاٹ کے اس خاص نکتے پر موجود ہیں لیکن اس بند کا تاثر تفصیلات کے ایک پیچید و انبار کی بدولت حاصل ہوتا ہے ۔ الگ بات ہے کہ یہ تاثر اتنا ہی منفرد ہے، جتنا کسی سچے فن پارے کا ہوسکتا ہے ، آخری چار مصرعےایک تمثیلی صورت پیش کرتے ہیں، اس تمثیلی صورت کے ساتھ ایک احساس وابستہ کرتے ہیں ، جو خود بخودآ تا ہے، یا احساس ان چار مصرعوں سے پہلے کے مصرعوں کی بدولت وجود میں نہیں آتا بلکہ ان باتوں کی بدولت پیدا ہوتا ہے ، جو شاعر کے ذہن میں موجود تھے ، جو اس کے ذہن اس نے اس وقت تک محفوظ رکھے ، جب تک ان کے لئے جذبات اور احساسات کا مناسب آمیزہ مل نہیں گیا حقیقت میں شاعر کا ذہن ایک ایسی چیز ہے، جو ان گنت احساسات ، تراکیب، تصورات کو حاصل کرتا ہے اور انہیں محفوظ کرتا رہتا ہے، یہ چیزیں اس کٹھالی میں رہتی ہیں ، اور اس وقت تک رہتی ہیں ، جب تک وہ تمام اجزاء موجود نہیں ہو جاتے جومل کر ایک نیا آمیزہ بنا سکتے ہوں ۔
اگر آپ عظیم شاعری کے کئی ایک نمائندہ ٹکڑوں کا مقابلہ کر یں تو آپ کو معلوم ہوگا ، کہ ان میں جذبات ،احساسات کی آمیزش کا کتناز بردست تنوع موجود ہے ، آپ بھی دیکھیں گے ، کہ عظیم شاعری کے لئے پاکیزہ بلندی کا جو نیم اخلاقی معیار قرار دیا گیا ہے، وہ کس قدران ٹکڑوں سے دور ہے، کیونکہ شاعری کے لئے جذبات یعنی اس کے اجزاء کی عظمت اور شدت اہم نہیں ، بلکہ فنی عمل کی وہ گھمبیر تا اہم ہے، وہ زبردست دباؤ اہم ہے ، جس کے زیراثر جذبات کا یہ آمیزہ بنتا ہے ، پاؤلواورخرا نکا کا واقعہ ایک خاص جذ بے کا حامل ہے ،لیکن یہ واقعہ جس شعر میں اظہار پایا ہے، اس کی شدت اور گھمبیر تا اس مفروضی تجربے سے کہیں زیادہ مختلف ہے ، جس کا یہ اظہار کر رہا ہے ، اس کے علاوہ یہ حصہ پولیس کے سمندری سفر یعنی بند ۲۶ سے زیادہ شدت اظہار کا حامل نہیں ، اور یہ وہ بند ہے ، جو کسی ایک جذبے پر بلا واسطہ طور پرمبنی نہیں، .... اصل یہ ہے، کہ جذبے کی قلب ، ہیئت اور اس کا اظہارلفظوں میں کرنے کے سلسلے میں بہت زیادہ تنوع ممکن ہے۔
ایگا میمنان کاقتل یا اوتھیلو کا کرب ایسافنی تاثر پیدا کرتا ہے، جوظاہر میں اصلی واقعے سے دانتے کے مندرجہ بالا مناظر کی بہ نسبت کہیں زیادہ قریب تر ہے ، ایگا میمنان میں آرٹسٹ کا جذبہ اس جذبے کے قریب قریب پہنچتا ہے ، جو ایگا میمنان کے واقعہ قتل کے ایک حقیقی تماشائی کا ہوسکتا ہے ادھر اوتھیلو میں فن کار کا جذ بہ اس جذبے کا ہم رتبہ ہے جو اس کے حریف کا ہو سکتا ہے، لیکن آرٹ اور واقعہ کا باہمی فرق بالکل قطعی اور حتمی ہوتا ہے ، ایگا میمنان کے قتل کی لفظی تصویر کے پیچھے جذبات و احساسات کا جو آمیزہ کارفرما ہے ، وہ غالبا اتنا ہی پیچیدہ ہے ، جتنا یولی سس کے سمندری سفر کے سلسلے میں ہے، دونوں صورتوں میں بنیادی عناصر کو ملا کر ایک کر دیا گیا ہے، کیٹس کی غنائیہ نظم ''بلبل سے خطاب'' کچھ ایسے احساسات کا اظہار بھی کرتی ہے ، جن کا بلبل سے کوئی تعلق نہیں ، لیکن یہی وہ احساسات ہیں، جنھیں بلبل نے شاید کچھ تو اپنے خوب صورت نام کی وجہ سے اور کچھ اپنی شاعرانہ شہرت برقرار رکھنے کی غرض سے یکجا کر دیئے ہیں ۔ میں جس نقطہ نظر کے خلاف آواز اٹھانے کی کوشش کر رہا ہوں ، اس کا تعلق شاید روح کی حقیقی اورمستحکم وحدت کے متصوفانہ نظریے سے ہے، میرا مطلب اس بحث سے پہلے کہ شاعر کے پاس اظہار کے لئے کوئی شخصیت نہیں ہوتی، بلکہ اس کے پاس شخصیت کے بجاۓ صرف ایک ذریعہ یا واسطہ ہوتا ہے، جو ہرگز کسی عنوان شخصیت نہیں کہلا سکتا ، واسطہ یا ذریعہ اس کی تاثرات اور اس کے تجربات کو مخصوص اور غیر متوقع طریقوں پر ملاسکتا ہے، وہ تاثرات اور تجر بات جو اس انسان کے لئے اہم ہیں۔ اس کی شاعری میں کوئی جگہ نہیں پائیں گے اور جو تاثرات اور تجربات اس کی شاعری میں اہم بن جاتے ہیں ، وہ اس کی ذات ،اس کی شخصیت پر نہایت ہی براۓ نام طور پر اثر انداز ہوں گے ۔
شاعر اپنے ذاتی جذبات کے سلسلے میں ان جذ بات کے ضمن میں جنہیں اس کی زندگی کے کسی خاص واقعے نے تحریک دی ، ممتاز یا دلچسپ نہیں ہوا کرتا ممکن ہے اس کے اپنے جذبات ، بالکل سادہ ، یا بے ڈھنگے، یا بالکل غیر دلچسپ ہوں ۔ مگر اس کی شاعری میں جذبات پیچیدہ ہوں گے، ہاں ان میں وہ پیچیدگی نہیں ہوگی ، جوان لوگوں کے جذبات میں ہوتی ہے ۔ جنہیں زندگی میں بے حد پیچیدہ، یا غیر معمولی جذبات سے سابقہ پڑا ہو،حقیقت یہ ہے کہ شاعری میں نئے پن کی سنگ کی بھول یہ ہے کہ وہ اظہار کے لئے نئے انسانی جذ بات ڈھونڈتی ہے ، یہ غلط جگہ پر جدت کی تلاش ہے اور اس تلاش کی بدولت جدت تو ہاتھ آتی نہیں البتہ گمراہی ضرور ہاتھ آتی ہے ...... شاعر کا کام یہ نہیں کہ نئے جد بات ڈھونڈتا پھرے، اس کا کام یہ ہے کہ عام جذبات سے کام لے، اور انہیں برقی رو دے کر شاعری کے مرتبہ تک لاۓ ۔اس کا کام یہ ہے کہ ان احساسات کی ترجمانی کرے، جو عام جذبات میں ملتے ہی نہیں ، چنانچہ وہ جذبات بھی اس کے کام آسکیں گے ، جو اس نے محسوس نہیں کئے ، اور وہ جذبات اس کے کام آئیں گے، جو اس نے محسوس نہیں کئے ، اور وہ جذبات اس کے کام آئیں گے ، جن سے وہ اچھی طرح شناسا ہے
نتیجہ یہ نکلا، کہ شاعری کے بارے میں یہ فارمولا کہ شاعری ایسا جذ بہ ہے، ''جسے سکون کے وقت پھر سے یاد کیا جائے ''۔ اتنا صحیح نہیں بیٹھتا، کیونکہ شاعری نہ جذبہ ہے، نہ حافظے کی مدد سے یادوں کو دہرانا ہے، نہ معنوں کے بالکل الٹنے کے بغیر'' سکون'' ہی کا نام ہے ،شاعری تو دھیان اور ہمہ تن توجہ کا نام ہے، اور اس توجہ کے ایک نکتے پر مرکوز ہونے سے جو چیز پیدا ہوتی ہے اس کا نام ہے ،شاعری ان ان گنت تجربات کا جو ہر ہے ، جو ایک عملی اور کارکن شخص کے نزدیک تجربات کی حیثیت نہیں رکھتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گویا یہ دھیان ، یہ توجہ کا ایک نقطے پر جم کر رہ جانا شعوری طور پر یا کوشش سے نہیں ہو سکتا، یہ وہ تجربات ہیں ، جنہیں حافظے میں کوشش کے بعد پھر سے نہیں لایا جاتا اور سیاسی قسم کی پرسکون‘ فضا میں مجتمع ہوتے ہیں ،مگر یہ سکون اس واقعے پر عملی طور پراثر انداز نہیں ہوتا، یہ عرض کر دوں ، کہ شاعری کی تخلیق کی مکمل کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی ، شعر کہنے کے سلسلے میں میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں ، جو بڑی شعوری اور بڑی سوچی سمجھی ہونی چاہئیں ، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ برا شاعر اس موقعے پر بے خبر ہوتا ہے ، جہاں سے باشعور ہونا چاہیے اور جس موقعے پر شعور اور احساس سے بے خبری لازم ہے، وہیں وہ باخبر ہوتا ہے ، اور یہ دونوں غلطیاں ایسی ہیں ، جو اس شاعر کی شاعری کو'' ذاتی '' بنادیتی ہے، شاعری جذبات کو کھلی چھٹی دینے کا نام نہیں ، بلکہ شاعری تو جذبات سے فرار کا نام ہے ، شاعری شخصیت کا اظہارنہیں ، بلکہ شخصیت سے فرار ہے ،مگر جو لوگ شخصیت اور جذبات دونوں سے متصف ہیں ، وہی جانتے ہیں ، کہ ان دونوں سے فرار کیا معنی رکھتا ہے۔
۳
یہ مضمون مابعد الطبیعات ، یا تصوف کی حدوں پر رک جاۓ گا، اور صرف ایسے نتائج پیش کرے گا جنہیں شاعری میں دلچسپی رکھنے والے ذمے دار حضرات عملی طور پر منطبق بھی کر سکیں ، شاعری کی ذات سے توجہ ہٹا کر ، شاعری پر ساری توجہ مرکوز کردینا اور شاعری ہی کو دلچسپی کا مرکز قرار دینا قابل تعریف بات ہے کیونکہ یہ اچھی یا بری شاعری کی زیادہ منصفانہ پر کھ میں ممد و معاون ثابت ہوگی ، بہت سے لوگ ایسے ہیں ، جو شعر میں پر خلوص جذبات کے اظہار کی قدر کر سکتے ہیں ، اور کم لوگ ایسے ہیں جو شعر کی فنی خوبیوں کو پرکھ سکتے ہیں مگر بہت ہی کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ شعر میں کوئی اہم جذ بہ اظہار پایا ہے یا نہیں، یا یہ وہ اہم جذ بہ ہے جس نے اس نظم میں زندگی پائی ہے، شاعری کی زندگی یا اس کے ماضی وحال کی تاریخ سے جنم نہیں لیا، آرٹ کا جذ بہ غیر ذاتی ہوتا ہے، اور شاعر جب تک اپنے آپ کو اپنے کام کے پوری طرح حوالے نہ کر دے، وہ اپنی ذات سے بالا نہیں ہوسکتا، اور جب تک وہ حال کے علاوہ ماضی کے حالیہ لمحوں میں زندگی نہیں کرتا، جب تک اسے یہ شعور حاصل نہیں ہوتا ، کہ یہ وہ ہے ، جو مردہ ہو چکا ہے، اور یہ وہ ہے جو پہلے سے زندہ ہے، شاعر کو اپنے کام کے بارے میں بھی کچھ پہ نہیں چل سکتا، کہ اسے کیا کرنا ہے ۔
- اردو کے مشہور شعرا کی غزلیات یہاں پڑھیں
- اردو کی مزاحیہ شاعری کا یہاں مطالعہ کریں
- علامہ محمد اقبال کی شاعری اور تفہیم کے لیے یہاں وزٹ کریں
- ناصر کاظمی کی حیات اور شاعری یہاں پڑھیں
- اردو ادب کی تاریخ کا مطالعہ کرنے کے لیے یہاں دبائیں

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں