افلاطون کی تنقید کی اہمیت| افلاطون اور شاعری|شاعری پر افلاطون کے اعتراضات|افلاطون کے تنقیدی نظریات|plato republic
افلاطون : شاعری
افلاطون نے شاعری کو ایک شغل عبث قراردیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک مثالی مملکت کا خواہاں تھا۔ جہاں کے باشی تخیل پسندی کے شکار نہ ہوں اور حقیقی عناصر سے ہم کنار رہ کر محنت و مشقت سے جی نہ چرائیں۔ اس کا خیال تھا کہ عوام اپنی تخیلی دنیا کے فریب میں حقیقت سے دور ہو جاتے ہیں۔ افلاطون کے خیال میں فن اور ادب روح کے باطل عضو کی نشو ونما کرتے ہیں ، چونکہ وہ اصلاح پسند فلسفی تھا اس لئے ملک کے عوام کی بہتری کا علمبردار تھا، اس کی نظر میں شعرا کاہل لوگ تھے جو کھو کھلے دنوں کو نغمے میں ڈھالتے تھے، انسان کی فلاح و بہبود سے ان کا کوئی تعلق نہ تھا، اسی لئے اس نے اد باو شعر ا پر سخت نکتہ چینی کی اور اپنی مثالی مملکت سے جلا وطن کرنا چاہا۔ وہ شاعری جس کا موضوع خدا کے اوصاف اور یونانی سورماؤں کی توصیف تھا، افلاطون کی مثالی مملکت سے مطابقت رکھتی تھی ۔
حصہ اول پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں
بہر حال شاعری پر افلاطون کے جو اعتراضات تھے ان کا اختصار یہاں درج کیا جاتا ہے:
۱۔شعرا کے خلاف افلاطون کے اعتراضات کی بنیاد شاعری کی فطرت اور اس کے عمل کا پس منظر تھی۔ اس ضمن میں بنیادی اعتراض یہ ہے کہ شاعری نقل کی نقل ہے اور سچائی کا پر تو محض ہے اور اس دو منزلوں کا بعد رکھتی ہے یہ ایک مرکزی الہیاتی تصور کا سراب ہے۔
۲۔شاعری کا تعلق انسانی فطرت کے کم تر حصہ سے ہے۔ نقال شاعر مقبول بننے کے لئے انسان کے سطحی جذبے سے کھیلتا ہے وہ خیر وشر کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتا ہے افلاطون کو اس کا غم تھا کہ شعرا یہ دکھاتے ہیں کہ خیر پرشر کی بالا دستی مسلم ہے۔ اس لئے کہ ان دنوں یونانی ادب میں پوئٹیک جسٹس یا عدل شاعرانہ کا زیادہ خیال نہیں کیا جاتا تھا۔
چناں چہ افلاطون بڑے غم وغصہ سے ری پبلک میں لکھتا ہے:
'' شعرا یہ احساس دلاتے ہیں کہ کتنے ہی شر پسند نہ صرف زندہ ہیں بلکہ
خوش ہیں اور یہ کہ برا کام اس وقت تک جب تک کہ پکڑا نہ جائے
سودمند ہے، پھر یہ کہ ایمانداری کا عمل اپنے پڑوسی کے لئے فائدہ بخش تو
ہو سکتا ہے لیکن اپنی ذات کے لئے نہیں ۔''
۳۔افلاطون فکر کو جذ بہ پر ترجیح دیتا ہے چونکہ شاعری کا تعلق افکار سے زیادہ جذبات سے ہے۔ اس لئے اس پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ عقلمندوں کا کام ہے کہ غور وفکر کے تابع ہوں نہ کہ جذبے کے۔ افلاطون کا خیال ہے کہ شاعری فکر کو اسیر کر لیتی ہے۔ اس کے الفاظ ہیں:
''شاعری جذبات کی نشو و نما کرتی ہے حالانکہ اس کا کام ان پر روک لگانا
تھا ، جذبے حکمراں بن جاتے ہیں جب کہ انہیں محکوم ہونا چاہیے تھا۔''
۴۔عظیم شاعر وجدان کے سہارے اشعار کہتا ہے لیکن وجدان اس کے قبضہ کی چیز نہیں۔ اس لئے اسے معقول رہبر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے برخلاف فلسفہ کی رہبری بہتر ہے اس لئے کہ اس کا تعلق سچائی سے ہے۔ لیکن شاعری کا واسطہ سچائی کی نقل سے ہے۔
۵۔ شاعر، کبھی پیغمبر بن جاتا ہے، کبھی پاگل اور اس کی شخصیت ان کے درمیان معلق ہے۔ فائڈرس میں افلاطون نے اس کی وضاحت کی ہے کہ شاعری کی دیوی کس طرح شعرا کو پاگل بنائے رکھتی ہے۔ آئیون میں مزید اس نے اپنے خیال کی تشریح کی ہے وہ آئیون سے مخاطب ہو کر کہتا ہے:۔
"جو شعور تمہیں حاصل ہے وہ فن نہیں ہے ۔ بلکہ اسے وجدان کہنا چاہیے
کوئی قدسی قوت تمہیں متحرک رکھتی ہے اس کو مقناطیسی لوہے سے مشابہت
دی جاسکتی ہے جس طرح مقناطیس لوہا بہت سے چھوٹے چھوٹے آہنی
ٹکڑوں کو اپنی طرف کھینچ کر ان کی اپنی قوت کو معطل کر دیتا ہے بالکل اسی
طرح اپنے وجد ان کے تاثر سے شعرا اپنے سامعین (کے ذہن ) کو معطل
کر ڈالتے ہیں ۔''
چنانچہ افلاطون کے نکتہ نظر سے شاعری سچائی سے بہت دور ہے اور اس کی نمو معقول علم اور ادراک کے فقدان کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ روح کے معمولی حصہ سے تعلق رکھتی ہے اور چونکہ یہ جذبات کو برانگیختہ کرتی ہے اس لئے اس کی کارگزاری ضرر رساں ہے۔
افلاطون کی تنقید کی اہمیت
افلاطون ادبی تنقید کا پہلا معروف نقاد ہے۔ اٹکنسن کا خیال ہے کہ وہ دنیا کے عظیم ترین نقادوں میں ایک ہے۔ ادب کا کوئی روحانی پہلو بھی ہے، اس باب میں سب سے پہلے اس نے روشنی ڈالی ہے۔ اپنے اصول اور عمل سے اس نے اپنے پیرؤں اور مخالفوں کو یکساں متاثر کیا ہے۔ اس کے بعد کی نسلوں نے فن اور ادب کے اعلیٰ مقام کو اس کی تنقید کی روشنی میں سمجھنے اور برتنے کی کوشش کی ہے۔ شاعری کے باب میں اس کا نظریہ فلسفیانہ ہے لیکن اس سلسلہ میں اسے چھوٹ دینی پڑے گی اس لئے وہ ریاست کے عوام وخواص کے لئے ایک ارفع نظریہ حیات رکھتا ہے۔ افلاطون کی غرض ادب سے زیادہ نہ تھی بلکہ ایک مثالی ریاست کا قیام تھی ۔
ادبی تنقید کی تاریخ میں اس کا نظریہ وجدان خاصے کا نظریہ ہے اس نے شاعروں کا جو مقام پیغمبری اور جنون کے درمیان متعین کیا ہے اسے غلط ثابت کرنا آسان نہیں ہے، افلاطون فارم سے زیادہ فکر کے حق میں ہے۔ اس کا خیال ہے کہ ادب کو زندگی آموز ہونا چاہیے۔ افلاطون پہلا شخص ہے جس نے ادب کو نقل کہا ہے اس لئے یہ بات صادق آتی ہے کہ ادب زندگی اور فطرت کی عکاسی یا پرتو کا دوسرا نام ہے۔ افلاطون نے پہلی بار ایپک یعنی رزمیہ کو تمثیل پر فوقیت دی۔ آج ڈراموں اور فلموں کا سنسر افلاطونی خیال کی بنیاد پر ہوتا ہے کہ ان میں اخلاقی قدروں کو ضرب لگانے والے مناظر تو موجود نہیں ، وہ ایسی شاعری کو انسان کے لئے سخت نقصان دہ سمجھتا ہے جو اخلاق کی پستی کا سامان بن جاتی ہے۔ لاز یعنی قوانین میں وہ لکھتا ہے:۔
'' کوئی شاعر ایسی چیز نہیں لکھ سکتا جو انسانی تہذیب کی تسلیم شدہ ارفع
قدروں سے ٹکرا جائے۔ نیز وہ اپنی شاعری کو کسی فرد کے سامنے اس وقت
تک پیش نہیں کر سکتا جب تک قانون کے مانے ہوئے نگہبان کی نظروں
سے گزار کر پیش کش کی سند نہ حاصل کر چکا ہو ۔''
![]() |
| افلاطون کی تنقید کی اہمیت| افلاطون اور شاعری|شاعری پر افلاطون کے اعتراضات|افلاطون کے تنقیدی نظریات| |

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں