افلاطون کے تنقیدی نظریات|افلاطون کا تعارف|افلاطون ادب کے بارے میں کیا کہتے ہیں|افلاطون کیوں شاعروں کو اپنی ریاست سے نکالنے کا کہتاہے
افلاطونوہاب اشرفی
حوالہ:
نظریاتی تنقید: مسائل ومباحث مرتب ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی
سقراط کے مشہور شاگردوں میں افلاطون کا نام بہت اہم ہے۔اس کے سال ولادت کے بارے میں اختلاف ہے ۔لیکن اکثر محققین کا خیال ہے کہ اس کی پیدائش کا سال ۴۴۹ ق م یا ۴۲۷ ق م ہے افلاطون کے والدین ایتھنز کے رہنے والے تھے ، جن کا سلسلہ نسب بڑا ارفع تھا۔ افلاطون کے متعد درشتہ دار سقراط کے حلقہ بگوشوں میں تھے ان ہی کے ذریعہ ایام طفلی میں افلاطون ، سقراط سے متعارف ہوا۔ کہا جا تا ہے کہ ابتداء میں افلاطون کا رحجان شعر گوئی اور تمثیل نگاری کی طرف تھا۔لیکن سقراط سے ملاقات کے بعد اس نے اپنے اشعار اور ڈرامے تلف کر ڈالے اور فلسفہ اور سیاست سے دلچسپی لینے لگا۔ میدان سیاست میں اسے نام ونمود کے حصول کی خواہش تو تھی لیکن ۳۹۹ ق م میں جب سقراط کوسزائے موت دی گئی تو اس نے سیاست سے کنارہ کشی کر لی اور کچھ عرصہ کے لئے سقراط کے دوسرے شاگردوں کے ساتھ میگارہ ہجرت کر گیا اس کے بعد بارہ برسوں تک ایتھنز کی متعدد جنگوں میں شریک رہا اور دور دراز کے ممالک مثلا مصر، شمالی افریقہ، سسلی اور اٹلی کا سفر کیا۔ افلاطون نے ۸۰ برس سے کچھ زیادہ ہی کی طویل زندگی پائی ۔ اس کا انتقال ۳۴۷ قبل از مسیح ہوا۔
افلاطون نے ۳۸۷ ق م میں ایک علمی اکاڈمی قائم کی ، اور بحیثیت صدر اس ادارہ سے قریبا چالیس برس تک وابستہ رہا۔ اس ادارے نے ارسطو کی نگرانی میں فلسفہ علم الحساب ، نیچرل سائنس اور قانون وغیرہ کے موضوعات پر گراں قدر خدمات انجام دیں ۔ اس اکاڈمی میں افلاطون نے بڑی محنت لگن اور جانفشانی سے کام کیا۔ اپنے مشہور مکالموں میں سے قریب قریب پچیس مکالمے یہیں ترتیب دیئے اور اپولو جی لکھی ۔
افلاطون کی علمی کارگزاریوں کو اس کی زندگی کے تین ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں ۔ پہلے دور کی نگارشات میں اپولو جیڈ ، لیچیز کار مائڈس ، یوتھائیفر وہ،کر یٹو اور ہیپار مائز ہیں۔ درمیانی عہد کی کتابوں میں فائیڈ و،سمپوزیم اور ری پبلک بہت مشہور ہیں۔ سوفسٹ اسٹینین پیلی بس ، ٹائموس اورلاز آخری دور کے کارنامے ہیں ۔
افلاطون کا نظریہ تصور یا نقل
افلاطون مثال پسند تھا۔ اس کا خیال تھا کہ صرف وہی تصورات جو الہیاتی ہیں اور جن کا تعلق عالم مثال سے ہے حقیقی اور سچے ہیں۔ اور اس مادی دنیا کی ساری چیزیں ان ہی الٰہیاتی تصورات کی نقل ہیں یا دنیا بذات خود ایک حقیقی عالم مثال کی نقل ہے۔ اس لئے انسان کی ساری کاوش سچائی کی تلاش میں صرف ہونی چاہیے۔ اس کے برعکس شاعر یا مصور یافن کا اس نقلی دنیا کی عبوری چیزوں کی نقل میں دلچسپی لیتا ہے اس لئے اس کا سرمایہ حقیقی تصورات کا محض عکس یا نقالی ہے۔ اس طرح فن یا آرٹ سچائی سے گریز کرتا ہے اور حقیقت کے دائرے سے خارج ہے۔ ایک شاعر یا مصور یا کوئی اور فن کار احساس ( کے اعداد و شمار ) کی پیش کش میں مگن ہے۔ جن کی شکل بذات خود مسخ اور حقیقت سے دور ہے۔ ڈیویڈ ویچز نے اس کی صراحت اس طرح کی ہے:۔
''افلاطون کے خیال میں اشیاء کے الہیاتی تصورات ہی حقیقت ہیں۔
اور دنیا کی چیزیں ان کا پر تو یا نقل ہیں۔ چنانچہ کوئی ان کی نقل کرتا ہے تو گویا
وہ نقل کی نقل کرتا ہے اور اس طرح وہ ایک ایسی چیز بناتا ہے جو
حقیقت سے بہت دور ہے۔"
اپنی مشہور کتاب ری پبلک کے دسویں باب میں افلاطون نے ایک نقاش اور ایک بڑھئی کے کام کی نوعیت سے بحث کرتے ہوئے اپنے نظریہ نقل کی وضاحت کی ہے۔ پھر اپنے محاکمہ کو شعراء کی تخلیقات پر منطبق کیا ہے اور اس کا اظہار کیا ہے کہ شعراء، حقیقت کی نقل کرتے ہیں حالانکہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ سچائی کیا ہے۔ ری پبلک میں اس باب کی بحث کچھ اس طرح ہے:۔
''دنیا میں کتنی ہی میزیں ہیں، لیکن میز کے بارے میں کوئی ایک ہی
الہیاتی تصور یا صورت حق پر مبنی ہے۔ جب کوئی بڑھتی ایک میز بنا تا ہے تو
اس کی کارگزاری کا پس منظر یا پر تو وہی ایک حقیقی میز ہے جس سے تمام
میزیں بنائی گئی ہیں یا بنائی جاسکتی ہیں۔ پھر جب ایک مصور کسی میز کے
سامنے بیٹھ کر اس کی تصویر کشی کرتا ہے تو اس کا حاصل بڑھئی کی بنائی ہوئی
میز کی نقل ہے جو بذات خود ایک مثالی حقیقی میز کا پر تو ہے۔ اس طرح مصور
کی تصویر سچائی سے دو منزل دور ہے۔"
دوسرا حصہ افلاطون اور شاعری یہاں ملاحظہ فرمائیں۔۔۔۔۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں