ڈاکٹر جانسن
ڈاکٹر جانسن شیکسپیئر کی تعریف جن الفاظ میں کرتا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شیکسپئیر کی حقیقت نگاری کا مداح ہے ۔ ڈاکٹر جانسن کہتا ہے ۔
" شاعر کا فرض یہ ہے کہ ایک فرد بشر کا نہیں بلکہ ساری نوع انسانی کا جائزہ
لے اور فطرت انسانی کے عام مظاہر میں جو خواص قدرمشترک ہیں ان کو
اجا گر کرے۔اس کا کام یہ نہیں کہ کسی پھول کی رگوں کی گنتی کرے یا کسی
جنگل کے درختوں میں جو مختلف رنگ نمودار ہیں ان کو بیان کرے۔
فطرت کے جو خا کے وہ کھینچے ان میں اسے ایسے نمایاں اور موٹے موٹے
نقوش دکھانے چاہئیں کہ دیکھنے والے کا ذہن اصل کی طرف منتقل ہو
جاۓ ۔ر ہے بار یک فرق ،جن پر کسی شخص کی نگاہ پڑی ہو گی اور کسی کی نہ
پڑی ہوگی ، ان کو اسے نظر انداز کر دینا چاہیے اور ان کے مقابلے میں ایسی
خصوصیات کو بیان کرنا چاہیے جو سرسری نگاہ اور غائر نگاہ دونوں پر واضح
ہوں ۔۔۔۔لیکن فطرت کا علم شاعر کے فرض کا محض ایک حصہ ہے۔
اسے زندگی کی تمام صورتوں اور کیفیتوں سے بھی واقف ہونا چاہیے ۔
اس کا فرض منصبی ہے کہ وہ ہر قبیل کے انسانوں کے دکھ سکھ کا
اندازہ لگا سکے ، تمام انسانی جذبات اور جذبات کے ہرقسم کے مجموعے
کا نبض شناس ہو اور اس کا کھوج لگاۓ کہ نفس انسانی اجتماعی اداروں
اور آب و ہوا اور رسم و رواج کے اتفاقی اثرات کے ماتحت بچپن کی شوخی و شنگی
سے لے کر بڑھاپے کی حسرت و مایوی تک کس طرح تغیر پذیر ہوتا ہے۔
اسے چاہیے کہ اپنے ملک اور زمانے کے تعصبات سے اپنے آپ کو پاک کرے،
نیکی و بدی کی لازوال قدروں کو پہچانے ، رائج قوانین اور متداول آرا سے صرف
نظر کرے، اور صرف ان کھلی اور ماورائی قوانین کے سامنے سر تسلیم خم کرے جو
کبھی نہیں بدلتے ۔ اگر اس کے نام کا سکہ بہت آہستہ آہستہ جم رہا ہوتو اسے اس پر
قانع رہنا چاہیے، اپنے معاصرین کی ستائش کی پروا نہ کرنی چاہیے اور آنے والی پشتوں
کے انصاف پر اپنے دعووں کا فیصلہ چھوڑ دینا چاہیے۔ اسے چاہیے کہ وہ جو کچھ لکھے
فطرت کے ترجمان اور نوع انسانی کے قانون ساز کی حیثیت سے لکھے ور اس بات کو
ذہن نشیں رکھے کہ وہ آنے والی پشتوں کے خیالات کا معلم اور ان کی رسوم و عادات
کا صورت گر ہے، کیونکہ اس کی بستی مکان و زمان سے مافوق ہے ۔“
شاعر کے لیے یہ کس قدر سخت گیر منشور ہدایت ہے! سڈنی کا مطالبہ یہ تھا کہ شاعری کو اخلاقی طور پر منفعت بخش ہونا چاہیے، لیکن چوں کہ وہ اس بات سے آشنا تھا کہ زندگی اپنی اصلی صورت میں اخلاق آموز نہیں ہوتی اس لیے اس کا اصرار تھا کہ شاعر کر ایک نئی اور بہتر دنیا خلق کرنی چاہیے ۔ جانسن کا تقاضا یہ ہے کہ شاعر اصلی زندگی کی آئینہ داری بھی کرے اور اس کے ذریعے تہذیب اخلاق بھی کرے ۔ اگر اصلی زندگی مصلح اخلاق نہ ہو تو پھر کیا کیا جاۓ ؟ اس کا جواب جانسن کے یہاں کوئی نہیں، کم از کم جہاں تک شاعری کا تعلق ہے۔
کیا شاعر کے پاس کوئی خاص قسم کا علم ہوتا ہے جو حقیقت پر مبنی ہوتا ہے اور درس آموز بھی ہوتا ہے؟ اس استفسار کی ابتدائی کسمساہٹ ہمیں سڈنی ، ڈرائیڈن اور جانسن کے خیالات میں محسوس ہوتی ہے ۔لیکن اس کے جواب کے لیے ہمیں بعد میں آنے والے ایک دور یعنی رومانی دور کا انتظار کرنا پڑے گا۔
شاعری کی ماہیت دریافت کر نے اور اس کی قدر و قیمت متعین کرنے کے دوطر یقے ہیں ۔ ایک تو یہ کامل شعر گوئی کا کام کیا جائے اور دوسرا یہ کہ یہ پتہ چلایا جائے کہ شاعر کیا کرتا ہے اور اس کا طریق کار کیا ہوتا ہے ۔ یعنی ایک سوال تو یہ ہے کہ شاعری کسے کہتے ہیں اور دوسرا یہ کہ شاعر کسے کہتے ہیں ؟
مضمون کی اگلی قسط [ورڈزورتھ] یہاں ملاحظہ فرمائیں

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں