ورڈزورتھ
ورڈ زتھ (Wordsworth) اپنے مجموعہ کلام (Lyrical Baallads) کے دوسرے ایڈیشن کے مقدے میں ، جو تنقید شعری کے غیر فانی شاہکاروں میں شمار ہوتا ہے ، سب سے پہلے یہ سوال کرتا ہے کہ شاعر کسے کہتے ہیں؟ اس کا روۓ سخن کن لوگوں کی طرف ہوتا ہے؟ اور اس سے کسی قسم کی زبان کی توقع رکھنی چاہیے؟ لفظ شاعری کے دومعنی ہیں ۔ اول ایک عمل یعنی شعر گوئی ،دوم اس عمل کی پیداوار یعنی شعر ۔ شاعر کے متعلق بنیادی سوالات کا جواب ان دونوں پہلوؤں پر نگاہ ڈال کر یہی دیا جاسکتا ہے ۔
اس عصر انگیز مقد مے میں جس نے مغربی تنقید شعر کا رخ بدل کر رکھ دیا ، ورڈز ورتھ اپنے پیش رو نقادوں کے خیالات کے متفرق رشتوں کو منسلک کرتا ہے، یعنی ارسطو کا یہ مقولہ کہ شاعری جزئیات کو کلیات میں تبدیل کرتی ہے ، سڈنی نے اس میں جو تصرف کیا، ڈرائیڈن کا یہ اصرار کہ شاعری فطرت انسانی کی عکاسی ہے اور ڈاکٹر جانسن نے عکاسی میں جس تعمیم کا اضافہ کیا۔ علاوہ بر یں وہ ڈرائیڈن اور جانسن کے مقابلے میں اس مسئلے کی زیادہ گہری تدقیق کرتا ہے کہ انسانی فطرت کی عمومی عکاسی ہمارے لیے سامان لطف کیوں بہم پہنچاتی ہے۔ اس تدقیق کے ذریعے وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ ایک طرف انسان کا نفسیاتی ڈھانچہ اور دوسری طرف نظام کائنات یہ دونوں ایک دوسرے کے متوازی ہیں ، اور شاعر عمومی اور ہمہ گیر حقیقتوں کا اظہار اس وجہ سے کرتا ہے کہ وہ ایک ایسا انسان ہوتا ہے جو اپنے جذبات و واردات سے حظ حاصل کرتا ہے اور جو دوسرے لوگوں کے مقابلے میں اس روح زندگی کی جو اس کے اندر سرایت کیے ہوۓ ہوتی ہے ۔ زیادہ لذت اندوز ہوتا ہے، کیوں کہ کائنات کے حادثات و واقعات میں اس قسم کے جذبات و واردات کے جو مظاہر ہوتے ہیں وہ لطف لے لے کر ان کا مشاہدہ کرتا ہے اور جہاں وہ مظاہر خارجی دنیا میں دکھائی نہیں دیتے وہاں وہ انہیں اپنی طرف سے ایجاد کر لیتا ہے ۔ شاعری کا کام اسی ن قس م کا حظ مہیا کرنا ہے۔ اس کا جواز ورڈزورتھ اپنے مقدمے کی ذیل کی عبارتوں میں پیش کرتا ہے:
''براہ راست لذت مہیا کرنے کا یہ التزام کوئی ایسی چیز نہیں کہ اسے شاعر کے فن کی تو ہین سمجھا جائے ۔
تو ہین تو کیا یہ اس کے لئے طرہ امتیاز ہے۔ شاعر ایک ایسا گیت گا تا ہوا جس میں ساری نوع انسانی اس کی
ہم آواز ہوتی ہے ، حقیقت انجمن کی زینت بنا تا ہے اور اسے ہماری شبانہ روز کی مونس غم گسار سمجھ کر اس
کے حضور میں اظہار مسرت کرتا ہے ۔ ’’
''شاعری علم کی روح رواں ہے، دو سائنس کے چہرے پر جذبات کی رونق ہے۔''
" اگر کبھی ایسا وقت آیا کہ جب وہ چیز جسے ہم آج کل سائنس کہتے ہیں عام لوگوں کے لئے
آۓ دن کی ایک آشنا ہستی بن کر گویا گوشت و پوست کا جامہ پہن لے گی ،تو اس قلب ماہیت
کی تکمیل کی خاطر شاعراپنی ملکوتی روح اس کے اندر حلول کر دے گا اور پھر اس نئی ہستی کا
خانمان انسانی کے ایک عزیز رکن کے طور پر خیر مقدم کرے گا ۔''
ورڈز ورتھ افلاطونی معمے کا ایک نیا حل پیش کرتا ہے ۔ شاعری نقل کی نقل نہیں، بلکہ انسانی فطرت اور خارجی مظاہر کے درمیان جو علاقہ ہے اس کی ایک زندہ اور حسی تمثال ہے جو بیک وقت لذت بخش بھی ہے اور لذت کے اصول کی ہمہ گیر اہمیت پر بھی دلالت کرتی ہے۔ وہ جذبات کو برانگیختہ کر کے انسان کو اسفل نہیں بناتی ، کیونکہ جذبات ایسی چیز بھی نہیں جو انسان کو اسفل بنائے ۔ اس کے برعکس دو انسان کے لئے تعلیم وتزکیہ کا وسیلہ ہوتے ہیں ۔
ورڈز ورتھ نے اس کی تصریح تو کر دی کہ شاعر کیا کرتا ہے اور اس کے کام کی نوع انسانی کے نقطہ نگاہ سے کیا اہمیت ہے۔ لیکن اس امر کو تشنہ توضیح چھوڑ دیا کہ شاعر کے بلند مقاصد کا اثر اس کے انداز بیان پر کیا ہوتا ہے اور ایک شعری تخلیقی دوسری اصناف کلام سے کن باتوں میں ممتاز ہوتی ہے ۔ جہاں تک وزن وبحر کا تعلق ہے انہیں وہ شعر کے لوازم میں شمار نہیں کرتا تھا بلکہ محض ایک آرائش سمجھتا تھا۔ رہی شاعرانہ زبان ،سواس موضوع پر اس کا یہ خیال تھا کہ چوں کہ شاعر کا تعلق انسان اور فطرت کے عظیم اور بنیادی مظاہر سے ہوتا ہے اس لئے اسے چاہیے کہ عارضی اور اتفاقی زینتوں کو بالائے طاق رکھ کر وہی سیدھی سادی زبان استعمال کرے جسے عام انسان اپنےآئے دن کے تجربوں میں استعمال کرتے ہیں دوسرے الفاظ میں اس کے نز و یک انداز بیان ایک ثانوی حیثیت رکھتا تھا۔ اگر جذ بات صحیح اورفوری ہوں گے تو پیرایۂ اظہارخود بخو دمتاثر ہو جائے گا ۔ شاعر کو سخن آرائی کی خاص کوشش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی ۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں