نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کولرج کے تنقیدی خیالات||Coleridge||انگریزی ادب کی تنقید||coleridge ki tanqeed urdu

 

 کولرج


کولرج کے تنقیدی خیالات||Coleridge||انگریزی ادب کی تنقید
کولرج کے تنقیدی خیالات||Coleridge||انگریزی ادب کی تنقید||coleridge ki tanqeed urdu

ورڈزورتھ کے دلائل کی اس فروگزاشت کے پورا کرنے کے ضمن میں کولرج (Coleridge) نے شاعری کی اہمیت اور قدرو قیمت کے بارے میں ایک نئی قسم کی فلسفیانہ تحقیق کی داغ بیل ڈالی ۔ذیل میں اس کی خودنوشت سوانح عمر Biographia Literaria کے چودھو یں باب میں اس موضوع پر ایک عبارت کا ملخص ترجمہ دیا جا تا ہے:

’’ایک نظم میں وہی عناصر ہوتے ہیں جو نثر کی ایک عبارت میں ہوتے ہیں ۔

اس لئے ان میں جو فرق ہوتا ہے وہ یقینا  ان عناصر کی ترکیب پرمشتمل ہوتا

 ہے اور یہ ترکیبی فرق یقینا ان کے مختلف مقاصد کا نتیجہ ہے ۔۔۔۔ ممکن ہے

 کہ مقصد چند صداقتوں کا بیان ہو، یعنی ایسی صداقتوں کا جو مطلق اور بدیہی ہیں ،

 مثلا سائنس کی صداقتیں، یا ایسے امور واقعی کا بیان جو انسانی تجربے کا موضوع

 ہیں اور جوقلم بند کئے جاچکے ہیں مثلا تاریخی واقعات ۔ ممکن ہے کہ اس مقصد کی

تکمیل سے لذت حاصل ہواور وہ بھی بہترین اور مستقل ترین قسم کی لذت۔ تاہم

یہ لذت مقصود بالذات نہیں ہوتی۔ ”

''یہ بھی ممکن ہے کہ لذت بخشی ایک ایسی انشا کا مقصود ہو جو کلام موزوں نہیں ،

مثلا ناول یا رومان ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ایسی انشا اگر وہ موزوں ہو، عام اس

سے کہ وہ مقفیٰ ہو یا نہ ہو نظم کے نام کی مستحق ہے یا نہیں ؟ اس سوال کا جواب یہ

 ہے کہ کوئی ایسی چیز موجب لذت نہیں بن سکتی جو خود اپنے اند را پنی لذت بخشی

 کا سبب اور جواز نہ رکھتی ہو۔ اگر وزن کا ضمنی اضافہ کر دیا جاۓ تو باقی جتنے عناصر

 ہیں انہیں اس وزن کا ہم آہنگ ہونا چاہیے ۔ وہ عناصر ایسے ہونے چاہئیں کہ

 جس جدا گانہ اور مستقل توجہ کا انفرادی طور پر تقاضا کرتے ہیں وہ حق بجانب ہو۔

چنانچہ ایک نظم کی تعریف ذیل کے الفاظ میں کی جاسکتی ہے:

''نظم ایک ایسی صنف انشا ہے جو سائنس کی انشاؤں سے امر میں مختلف ہوتی ہے کہ

 اس کا مقصد براہ راست لذت مہیا کرنا ہوتا ہے ، نہ کہ صداقت کا بیان ،اوراسی قبیل

کی دوسری انشاؤں سے جن کا مقصد اسی طرح لذت بخشی ہوتا ہے وہ اس اعتبار سے

ممتاز ہوتی ہے کہ وہ بہ حیثیت مجموعی اس قسم کی لذت مہیا کرنے کی کوشش کرتی

ہے جو اس کے اجزائے ترکیبی سے فردافر دا حاصل ہوتی ہے ۔۔۔۔۔''

'' ہر زمانے کے فلسفیانہ نقاد اس امر پر متفق ہیں کہ نظم کا لقب ایک طرف نہ تو چند ایسے

دل کش ابیات یا مصرعوں کو دیا جاسکتا ہے جو انفرادی طور پر پڑھنے والے کی توجہ کو اس

 حد تک جذب کر لیں کہ اسے عبارت کا بہ حیثیت مجموعی خیال ہی نہ رہے، اور نہ دوسری

 طرف ایک ایسی عبارت کو کہ جس کے مفہوم کو پڑھنے والا اس کے اجزائے ترکیبی کی

 طرف مبذول کئے بغیر ایک سرسری نگاہ میں سمجھ لے ۔ضرورت اس بات کی ہوتی ہے

کہ پڑھنے والے کی محرک صرف ایک سطحی سی اطلاع جوئی نہ ہو اور نہ یہ بے تاب خواہش

کہ عبارت کا ماحصل فورا اس کے ذہن میں آجاۓ ، بلکہ پڑھنے کے عمل کی  لذت۔   یعنی

منزل کی کشش نہیں بلکہ راستے کی دلچسپیاں ۔ ''

اس بحث سے ظاہر ہے کہ کولرج کی راۓ میں کسی نظم کی امتیازی خصوصیت اس کی ہئیت ہوتی ہے ۔ ہیئت ہی میں اس کا مقصد اور اس کا جواز مضمر ہوتا ہے۔


کولرج صرف نظم کی توصیف پر اکتفا نہیں کرتا ، بلکہ وہ ایک قدم آگے بڑھ کر شاعری کی ماہیت بھی بیان کرتا ہے ۔ ملاحظہ ہو:

 '' نظم کے جواوصاف میں نے بیان کئے ہیں ، وہ قبول کر لئے جائیں تو اس کے بعد ضروری

 ہو جا تا ہے کہ ہم شاعری کی تعریف کر یں ۔ افلاطون اور بشپ ٹیلر کی تصنیفات اور برفیٹ

 کی کتاب ''نظریہ قدسیہ''( Theoria Sacrea اس امر کا نا قابل انکار ثبوت ہیں کہ

وزن کے بغیر بھی بہترین قسم کی شاعری کی جاسکتی ہے ۔ بلکہ وزن ہی کیا نظم کے مخصوص

اور امتیازی منشا کے بغیر بھی۔ قدیم انجیل میں اشیاء کا پہلا باب ( بلکہ ساری کتاب کا بیش تر حصہ )

یقینا شاعری کے لقب کا مستحق ہے۔ تاہم یہ کہنا کہ اس کے مقدس مصنف کا اولین مقصد انکشاف

 حقیقت نہ تھا بلکہ لذت رسانی ،ایک بعید از عقل اور تعجب انگیز دعوی ہوگا ۔ قصہ مختصر ، ہم لفظ شاعری

(شعر ) کو چاہے کوئی مخصوص معنی پہنائیں، یہ ظاہر ہے کہ طویل نظم ساری کی ساری شاعری کہلائے

جانے کی نہ مستحق ہوتی ہے نہ ہوسکتی ہے ۔ تاہم اگر ایک مربوط و منضبط مجموعه اشعار لکھنا مقصود ہو تو

ضروری ہے کہ اس کے تمام حصے شاعری کے معیار پر پورے اتریں۔ یہ  صرف اس طریقے سے

 ممکن ہے کہ الفاظ وتراکیب کا ایسا انتخاب کیا جاۓ کہ شاعری کا ایک وصف ( وہ اس کا امتیازی وصف نہ سہی )

پیدا ہو جائے ۔ وہ وصف اس کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا کہ ساری کی ساری عبارت مسلسل اور مساوی توجہ کی

 طالب ہو، ایسی توجہ جس کا تقاضانثر ، چاہے وہ روز مرہ کی نثر ہو چاہے علمی ،کبھی نہیں کرتی ... ’’

''شاعری کیا چیز ہے؟ یہ سوال ایک دوسرے سوال سے کہ شاعر کسے کہتے ہیں؟

اس قدر قریب کا تعلق رکھتا ہے کہ دونوں کا جواب ایک ساتھ دینا ضروری ہے۔۔۔

شاعر کامل ایک ایسا شخص ہوتا ہے جو انسان کی تمام و کمال روح کو بروئے کارلاتا ہے،

ایسے طور پر کہ اس کی قوتیں اپنے اپنے مرتبے اور اپنی اپنی اہمیت کے مطابق ایک

دوسرے کی شریک عمل ہو جاتی ہیں ۔ وہ اس ساحرانہ قوت امتزاج کی بدولت جسے

ہم اوپر تخیل کا نام دے چکے ہیں ، روح انسانی کی ساری قوتوں کو ایک دوسری سے آمیز

 کر کے، ایک دوسری کے ساتھ گوندھ کر ، ان کو ایک زبردست وحدت میں تبدیل کر

دیتا ہے۔ یہ قوت شیرازہ بندی ابتداء ارادہ فہم کے ذریعے بروۓ کار آتی ہے اور ان کی

 مسلسل اور مشفقانہ نگرانی کے ماتحت سرگرم عمل رہ کر اپنے آپ کو ایک جامع ضدین ،

 ایک ناقص نقیضین کی صورت میں بے نقاب کرتی ہے۔ وہ مشابہت کو اختلاف کے

ساتھ ، عمومی کو خصوصی کے ساتھ ، مرئی کو غیر مرئی کے ساتھ ،فردکو جماعت کے

ساتھ ، ندرت و تازگی کے احساس کو پرانی اور مانوس چیزوں کے ساتھ ایک غیر معمولی

 ہیجان جذباتی کو ایک غیر معمولی ربط فکری کے ساتھ، ہمیشہ بیدار رہنے والی صیابت راۓ

 اور سلامت طبع کو گرم جوشی اور عمیق یا شدید جذبات کے ساتھ ، اور اسی طرح کی اور

مخالف یا مختلف چیزوں کو ایک دوسری کے ساتھ ملا کر ایک کر دیتی ہے ۔ اگر چہ وہ فطری

 اور مصنوعی کو بھی ہم آہنگ کرتی ہے، تاہم فن کو فطرت کے تابع اور اسلوب بیان کومضمون

 کے تابع رکھتی ہے اور اس معاملے میں احتیاط برتتی ہے کہ شاعر کا رعب شعر کی صحیح پر کھ میں

 مخل نہ ہونے پاۓ ۔''

اس عبارت کا سلسلۂ دلائل کافی پیچیدہ ہے ۔ بہر حال جہاں تک اس کا سلجھا ناممکن سے ، کولرج کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ شاعری نظم سے زیادہ وسیع چیز ہے ۔ شاعری کے لئے کلام موزوں تو کیا کلام ہونا بھی ضروری نہیں ۔ وہ زبان کے استعمال کے بغیر بھی کی جاسکتی ہے ۔ چنانچہ نہ صرف فلسفہ و سائنس کی تحریروں بلکہ تصویروں اور مجسموں پر بھی لفظ شاعری کا اطلاق ہوسکتا ہے ۔ ان معنوں میں شاعری ''شعریت ''کی مترادف ہے ۔ وہ قوت جس کی مدد سے شاعر انسان کی تمام و کمال روح کو مصروف عمل کرتا ہے تخیل ہے ۔


''تخیل سے کولرج کی جومرادتھی اس کی تصریح اس نے ذیل کے الفاظ میں کی ہے :

''میرے نزد یک تخیل دو طرح کا ہوتا ہے، یعنی اولٰی اور ثانوی ۔ اولٰی تخیل میری رائے میں

تمام ادراک انسانی کا منبع ومخرج اور اہم ترین وسیلہ ہے۔ و ہ نفس محدود میں نفس لا محدود

کے ازلی وابدی عمل تکوین کی ، جو کہ'' میں ہوں'' کی صورت میں پہلے پہل نمودار ہوا،

ایک تکرار ہے ۔ ثانوی تخیل اولی تخیل کی صداۓ بازگشت ہے۔ وہ شعوری ارادے کے

 پہلو بہ پہلو موجود ہوتا ہے لیکن اس کے باوصف جہاں تک اس کی فعالی کی کیفیت کا تعلق ہے

 اسے اولی تخیل ہی کی ایک صورت کہنا چاہیے ۔ البتہ اپنی فعالی کی کمیت میں اور اپنے طریق کار

میں وہ اولی تخیل سے مختلف ہوتا ہے ۔ وہ چیزوں کی تخیل کرتا ہے، ان کو درہم برہم کرتا ہے

 تا کہ ان کے اجزاءکو نئے سرے سے ملا کر نئی چیزیں خلق کرے۔ اور جہاں یہ عمل اس کے لئے

 ناممکن ہو وہاں بھی وہ بہر کیف یہی کوشش کرتا ہے کہ چیزوں کو ان کی بہترین صورت بخشے اور

 ان میں ربط وحدت پیدا کرے ..۔۔ وہ ایک زندہ قوت ہے ۔ اس کے برعکس اشیاء

( من حیث الاشیا) مردہ اور جامد ہوتی ہیں ۔''

'' قوت واہمہ کے پتلے جامد اور متعین اشیاء کے سوال کچھ بھی نہیں ہوتا ۔قوت واہمہ

فی الحقیقت محض حافظے کی ایک صورت ہے جسے مکان وزمان کی پابندیوں سے آزادی حاصل

 ہوگئی ہے ۔''

 دوسرے الفاظ میں تخیل اپنی اولی صورت میں انسانی تجربے کا تنظیمی اصول ہے، یعنی وہ عامل ، وہ قوت ، جس کے طفیل ہم چیزوں کی ایک دوسری سے تعمیر بھی کرتے ہیں اور انہیں ایک دوسری سے متعلق بھی کرتے ہیں ، انہیں ایک دوسری سے جدا بھی کرتے ہیں اور انہیں یک جا بھی کرتے ہیں ۔ اس کے بغیر ہمارا تجر بہ حسی تاثرات کا محض ایک شیرازہ پریشاں ، ایک دفتر بے معنی ہوتا، ثانوی تخیل اس قوت کے شعوری استعمال کا نام ہے ۔ وہ ہمارے لئے معانی کے نت نئے رابطے پیدا کرتا ہے ۔ ثانوی تخیل کا استعمال ایک شاعرانہ عمل ہے۔ صحیح معنوں میں نظم کے لقب کا مستحق صرف ایک ایسا مجموعہ اشعار ہوتا ہے جس میں ثانوی تخیل کا استعمال شروع سے لیکر اخیر تک ایسے طریقے سے کیا جاۓ کہ اس کے سارے حصے ، یعنی اس کے منفر داشعار ، ایک دوسرے کے معاون ہوں ، ایک دوسرے کی تشریح کر یں ، ایک دوسرے کی معنویت میں اضافہ کر یں ، اور جس کا انداز بیان به حیثیت مجموعی ایسا ہو کہ وہ نثر کی ایک عبارت سے زیادہ مسلسل طور پر جاذب توجہ ہو ۔ ایک نظم کا مقصد براہ راست لذت انگیزی ہوتا ہے ۔ اس کے برخلاف ممکن ہے کہ وہ وسیع معنوں میں شاعری کا مقصد صداقت نگاری ہو یا لذت انگیزی ۔ ایک نظم کا معیار یہ ہے کہ اس کے حصے سے جولذت حاصل ہوسکتی ہے وہ وہی لذت مجموعی طور پر بھی بہم پہنچاۓ ۔

 تخیل اور قوت واہمہ کے عمل میں یہ فرق ہوتا ہے کہ قوت واہمہ حسی تجربوں اور ذہن میں محفوظ کئے ہوۓ مشاہدوں کے جوڑتوڑ سے محض سطحی آرائشیں پیدا کرتی ہے۔ اور اس کے خلاف تخیل اپنی ہی ایک ہیئت ، ایک صوری وحدت ،تخلیق کرتا ہے ۔ تخیل کا عمل حیاتیاتی نشوونما سے مشابہ ہے ۔ جو ہئیتیں وہ بنا تا ہے وہ نامیاتی  ہئیتیں ہوتی ہیں کیونکہ وہ اس کی تشکیلی اور ترمیمی قوت کے زیراثر بنتی ہیں ۔


مضمون کا بقیہ حصہ یہاں پڑھیں[میتھیو آرنلڈ]



آج کے مطالعے کے لیے ایک ورق مزید پڑھیں

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

دستور نظم حبیب جالب||dastoor habib jalib||habib jalib main nahi manta

فیلڈ مارشل ایوب خان نے 1962 میں ایک آئین نافذ کیا   جو فرد واحد کے اقتدار کو بچانے اور اس کی طاقت کے دوام کے لیے نافذ کیا گیا تھا ۔اس آئین کے جواب میں حبیب جالب ؔ جو شاعر عوام و جمہور تھے  اور محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے تھے  نظم ’’ دستور ‘‘ لکھی   یہ نظم اس دور میں اتنی مقبول ہوئی کہ کسی نے ایوب خان سے کہا ’’ تمھارا  آئین  نافذ نہیں  ہو سکا ایک کمرے میں رہنے والا  ایک غریب سا شاعر اس آئین سے جیت گیا ہے  ‘‘ یہ نظم آج بھی ظلم و جبر اور انسانی آوازوں کے دبانے پر یاد کی جاتی ہے یہ  جمہور کی آزادی اور مزاحمت کا استعارہ ہے ۔ نظم پڑھیں دستور حبیب جالب دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا Deep jis ka mehlaat hi mein jale Chand logon ki khushiyon ko le kar chale Woh jo saaye mein har maslihat ke pale Aise dastoor ko subah be-noor ko Main nahin m...

تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations

   لیکچر نمبر:۶ تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی  مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations ڈاکٹر محمد قمر اقبال کا حضرت اقبال کی تصنیفات پر مفصل اور تحقیقی لیکچر  علامہ اقبال کی مشہور تصانیف تصانیف اقبال کا تعارف ۲۴۔اکتوبر ۲۰۲۱ء بزم فکر  اقبال پاکستان کے صدر جناب  پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال نے ۲۴۔ اکتوبر کو اقبال کی تصنیفات کے بارے میں ایک مبسوط لیکچر فراہم کیا جس میں اقبال کی تصنیفات کو ان کے سال اشاعت کی ترتیب سے شرکاء  کے گوش گزار کیا گیا۔یہ لیکچر معلوماتی سطح کا تھا فکر اقبال کے طالب علموں کو اقبال کی  فکر کے سرچشموں سے کماحقہ  آگاہ ہونا چاہیے اوریہ لیکچر اس سلسلے میں بھر پور معاونت فراہم کرتا ہے اقبال کی شاعری کی کتب ،نثری کتب ،تراجم اوران کے بعد مرتبہ کتب جو ان کی وفات کے بعد اکٹھی کی گئیں سب اس لیکچر میں جمع کر دی گئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی حوالہ جاتی کتب بھی قارئین کو لکھوا دی گئی ہیں اپنے مشمولات کے لحاظ سے یہ لیکچر کافی اہم ہے جس میں اقبال کی کتابیات تیار ہو گئی ہے ۔ڈاک...

himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب

غزل ہمانشی بابرہ himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب  لوگ تو لوگ ہیں لوگوں کی طرح دیکھتے ہیں ایک ہم ہیں اسے بچوں کی طرح دیکھتے ہیں   ہم کو دنیا نے لکڑ ہارا سمجھ رکھا ہے ہم تو پیڑوں کو پرندوں کی طرح دیکھتے ہیں   تم تو پھر غیر ہو تم سے تو پھر شکایت کیسی میرے اپنے مجھے غیروں کی طرح دیکھتے ہیں تیرا دیدار قضا ہوتا نہیں ہے ہم سے ہم تجھے دیکھنے والوں کی طرح دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل   میری خوشبو کو ہواؤں میں اڑانے والا لوٹ  کے آیا نہیں چھوڑ  کے جانے والا   پیار کے ساتھ مجھے طعنے دیا کرتا ہے  تجھ میں بھی رنگ ہے کچھ کچھ زمانے والا   ایسے بچھڑا ہے کہ ملنے کی  دعا کرتا ہے ہر ملاقات پہ منہ پھیرکے  جانے والا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   غزل     ساتھ دینے کا دلایا تھا بھروسا تونے اور پھر چھوڑ دیا مجھ کو اکیلا تو نے   اپنی مرضی سے مجھے چھوڑ کے جانے والے میری مرضی کو کہاں چھوڑ دیا تھا تو نے    بات رخسار کی ہوتی تو کوئی بات نہ تھی آج تو روح پہ مارا ہے تمانچا    تو نے   ...

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...

2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری

  اٹھا عجب تضاد سے انسان کا خمیر عادی فنا کا تھا    تو پجاری بقا کا تھا احمد ندیم قاسمی Utha ajab tazad se insan    ka khameer Adi fana ka tha to pujari baqa ka tha Ahmad Nadeem  Qasmi اداسیوں کا سبب کیا    کہیں بجز اس کے یہ زندگی ہے پریشانیاں    تو ہوتی ہیں احمد فراز Udasion ka sabab kia kahin bajuz is ky Ye zindagi hai preshanian to hoti hain Ahmad Faraz خود کو ترتیب دیا از سرِ نو زندگی میں ترا انکار بہت کام آیا Khud ko tarteeb dia az sar-e-nau Zindagi main tira inkar bht kam aya مرنا تو اس جہاں میں کوئی حادثہ نہیں اس دور ِ ناگوار میں جینا کمال ہے حسنی Marna to is jahan main koi hadsa nhi Is dor-e-Nagawar main jeena  kamal hai 2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری