نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

میتھیو آرنلڈ کے تنقید نظریات||مغرب میں تنقید کی روایت||The Study of Poetry by Matthew Arnold

 

میتھیو آرنلڈ


میتھیو آرنلڈ تنقید اردو||مغرب میں تنقید کی روایت||The Study of Poetry by Matthew Arnold


مضمون کا گزشتہ حصہ یہاں پڑھیں[کولرج کی تنقید]

 

سائنس کی رو بہ ترقی مادہ پرستی سے تہذیب انسانی کے روحانی پہلوؤں کو جو خطرہ لاحق ہو گیا تھا، اس کا سد باب آرنلڈ کو مذہب کے بس کا روگ معلوم نہ ہوتا تھا، کیونکہ مذہب اس غلط فہی کا شکار تھا کہ وہ سائنس سے سائنس ہی کے ہتھیاروں کے ساتھ لڑ کر کامیاب ہو سکے گا۔ عقائد کی عقلی تصدیق اور خارق عادت امور کو مادی صداقتوں کی طرح ثابت کرنے کی کوشش کا نتیجہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتا تھا کہ مذہب سائنس کی ایک ادنی بلکہ مستر دومتروک شاخ بن کر رہ جاۓ ۔اگر کچھ امید تھی تو شاعری سے تھی ، کیونکہ شاعری واقعاتی صداقت سے بے نیاز ہوتی ہے اور اپناہی ایک ضابطہ اقدار رکھتی ہے ۔ آرنلڈ اس نکتے کو یوں بیان کرتا ہے :۔

''ہمارا مذہب امور واقعی ،فرضی امور و قائی، کا مدعی بن کر گویا مادہ پرست

 بن گیا ہے ۔اس نے اپنے جذبات کو امور واقعی کے ساتھ وابستہ کر لیا ہے ،

 اور امور واقعی نے اس کے ساتھ بے وفائی کی ہے ۔ لیکن شاعری کے لئے

امور واقعی کچھ حیثیت نہیں رکھتے ۔اس کے لئے خیال ہی سب کچھ ہوتا

ہے، باقی سب مایا ہے، وہم ہے، فریب ہے شاعری اپنے جذبات کو

 خیالات کے ساتھ وابستہ کرتی ہے، خیالات ہی کے اس کیلیے واقعات

 ہوتے ہیں ''۔

اس کی تائید وہ ذیل کے الفاظ میں کرتا ہے:


 '’مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ نوع انسانی اس حقیقت سے پیش از پیش آگاه

ہوتی چلی جائے گی کہ زندگی کی تفسیر کے لئے ،اپنی تسکین قلب کے لئے ،

 اپنی ہمت برقرار رکھنے کیلئے ، اسے شاعری سے رجوع کرنا پڑے گا۔

شاعری کے بغیر ہماری سائنس نامکمل دکھائی دے گی اور شاعری بہت سی

 ایسی چیزوں کی جگہ لے لے گی جنھیں ہم اب مذہب اور فلسفے کے نام سے

 پکارتے ہیں۔۔۔ ورڈزورتھ نے کس صداقت اور خوش اسلوبی کے ساتھ کہا

ہے کہ شاعری علم کی روح رواں ہے ۔ ہمارا مذہب ابلہ قریبی کی خاطر اپنی

 صداقت کی شہادتیں پیش کرتا ہوا، ہمارا فلسفہ  علت و معلول اور حادث

وقدیم کے متعلق ایک احساس فضیلت کے ساتھ استدلال کرتا ہوا، یہ

دونوں علم کی نقلوں اور جھوٹی نمائشوں کے سوا کیا ہیں؟ ایک دن ایسا آۓ

 گا جب ہمیں اپنی سادگی پر تعجب ہوگا کہ ہم نے ان پر اعتماد کیا اور اس کو ثقہ

ومتین سمجھا ۔ ان کا پول جتنا کھاتا جائے گا اتنی ہی ہم علم کی اس روح رواں

کی جسے شاعری کہتے ہیں ، زیادہ قدر کر یں گے ۔''

 آرنلڈ کی راۓ میں’’ شاعری زندگی کی ایک تنقید ہے''۔ اس کی تشریح و ہ یوں کرتا ہے ۔

’’ شاعری کی زبردست قوت اس کی قوت تفسیر میں مضمر ہے۔ اس سے

میری مرادر از کائنات کے معنی کا ایک لفظی مرقع پیش کرنے کی قوت نہیں

 بلکہ چیزوں سے ایسے طور پر تعرض کرنے کی قوت کہ ہمارے اندران کا اور

 ان کے ساتھ ہمارے تعلق کا ایک مکمل ، نیا اور گہرا احساس پیدا

ہو جاۓ ۔ جب اپنے اردگرد کی چیزوں کے متعلق ہمارے دل میں ایسا احساس پیدا

ہو جا تا ہے تو ہمیں یوں لگتا ہے کہ جیسے ہم ان چیزوں کی ماہیت سے مس

 رکھتے ہیں اور وہ ہمارے لئے بار خاطر اور سوہان روح نہیں بلکہ ہمارے

ساتھ ہم رازی اور ہم بازی کے رشتے میں مربوط ہیں ۔ اس سے بڑھ کر

 تسکین اور تسلی بخشنے والا احساس کوئی نہیں ہو سکتا ۔'' 


بقیہ حصہ [آئی اے رچرڈز کے تنقیدی خیالات]پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں



آپ مزید پڑھ سکتے  ہیں 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

دستور نظم حبیب جالب||dastoor habib jalib||habib jalib main nahi manta

فیلڈ مارشل ایوب خان نے 1962 میں ایک آئین نافذ کیا   جو فرد واحد کے اقتدار کو بچانے اور اس کی طاقت کے دوام کے لیے نافذ کیا گیا تھا ۔اس آئین کے جواب میں حبیب جالب ؔ جو شاعر عوام و جمہور تھے  اور محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے تھے  نظم ’’ دستور ‘‘ لکھی   یہ نظم اس دور میں اتنی مقبول ہوئی کہ کسی نے ایوب خان سے کہا ’’ تمھارا  آئین  نافذ نہیں  ہو سکا ایک کمرے میں رہنے والا  ایک غریب سا شاعر اس آئین سے جیت گیا ہے  ‘‘ یہ نظم آج بھی ظلم و جبر اور انسانی آوازوں کے دبانے پر یاد کی جاتی ہے یہ  جمہور کی آزادی اور مزاحمت کا استعارہ ہے ۔ نظم پڑھیں دستور حبیب جالب دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا Deep jis ka mehlaat hi mein jale Chand logon ki khushiyon ko le kar chale Woh jo saaye mein har maslihat ke pale Aise dastoor ko subah be-noor ko Main nahin m...

تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations

   لیکچر نمبر:۶ تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی  مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations ڈاکٹر محمد قمر اقبال کا حضرت اقبال کی تصنیفات پر مفصل اور تحقیقی لیکچر  علامہ اقبال کی مشہور تصانیف تصانیف اقبال کا تعارف ۲۴۔اکتوبر ۲۰۲۱ء بزم فکر  اقبال پاکستان کے صدر جناب  پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال نے ۲۴۔ اکتوبر کو اقبال کی تصنیفات کے بارے میں ایک مبسوط لیکچر فراہم کیا جس میں اقبال کی تصنیفات کو ان کے سال اشاعت کی ترتیب سے شرکاء  کے گوش گزار کیا گیا۔یہ لیکچر معلوماتی سطح کا تھا فکر اقبال کے طالب علموں کو اقبال کی  فکر کے سرچشموں سے کماحقہ  آگاہ ہونا چاہیے اوریہ لیکچر اس سلسلے میں بھر پور معاونت فراہم کرتا ہے اقبال کی شاعری کی کتب ،نثری کتب ،تراجم اوران کے بعد مرتبہ کتب جو ان کی وفات کے بعد اکٹھی کی گئیں سب اس لیکچر میں جمع کر دی گئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی حوالہ جاتی کتب بھی قارئین کو لکھوا دی گئی ہیں اپنے مشمولات کے لحاظ سے یہ لیکچر کافی اہم ہے جس میں اقبال کی کتابیات تیار ہو گئی ہے ۔ڈاک...

himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب

غزل ہمانشی بابرہ himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب  لوگ تو لوگ ہیں لوگوں کی طرح دیکھتے ہیں ایک ہم ہیں اسے بچوں کی طرح دیکھتے ہیں   ہم کو دنیا نے لکڑ ہارا سمجھ رکھا ہے ہم تو پیڑوں کو پرندوں کی طرح دیکھتے ہیں   تم تو پھر غیر ہو تم سے تو پھر شکایت کیسی میرے اپنے مجھے غیروں کی طرح دیکھتے ہیں تیرا دیدار قضا ہوتا نہیں ہے ہم سے ہم تجھے دیکھنے والوں کی طرح دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل   میری خوشبو کو ہواؤں میں اڑانے والا لوٹ  کے آیا نہیں چھوڑ  کے جانے والا   پیار کے ساتھ مجھے طعنے دیا کرتا ہے  تجھ میں بھی رنگ ہے کچھ کچھ زمانے والا   ایسے بچھڑا ہے کہ ملنے کی  دعا کرتا ہے ہر ملاقات پہ منہ پھیرکے  جانے والا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   غزل     ساتھ دینے کا دلایا تھا بھروسا تونے اور پھر چھوڑ دیا مجھ کو اکیلا تو نے   اپنی مرضی سے مجھے چھوڑ کے جانے والے میری مرضی کو کہاں چھوڑ دیا تھا تو نے    بات رخسار کی ہوتی تو کوئی بات نہ تھی آج تو روح پہ مارا ہے تمانچا    تو نے   ...

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...

2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری

  اٹھا عجب تضاد سے انسان کا خمیر عادی فنا کا تھا    تو پجاری بقا کا تھا احمد ندیم قاسمی Utha ajab tazad se insan    ka khameer Adi fana ka tha to pujari baqa ka tha Ahmad Nadeem  Qasmi اداسیوں کا سبب کیا    کہیں بجز اس کے یہ زندگی ہے پریشانیاں    تو ہوتی ہیں احمد فراز Udasion ka sabab kia kahin bajuz is ky Ye zindagi hai preshanian to hoti hain Ahmad Faraz خود کو ترتیب دیا از سرِ نو زندگی میں ترا انکار بہت کام آیا Khud ko tarteeb dia az sar-e-nau Zindagi main tira inkar bht kam aya مرنا تو اس جہاں میں کوئی حادثہ نہیں اس دور ِ ناگوار میں جینا کمال ہے حسنی Marna to is jahan main koi hadsa nhi Is dor-e-Nagawar main jeena  kamal hai 2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری