نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

آئی اے رچرڈز|| آئی اے رچرڈکے تنقیدی نظریات||پرچہ تنقید||I. A. Richards English literary critic

   

 آئی اے رچرڈز

 گذشتہ حصہ  میتھیو آرنلڈ  کی تنقید یہاں پڑھیں

آئی اے رچرڈز|| آئی اے رچرڈز کے تنقیدی خیالات اردو میں||پرچہ تنقید||I. A. Richards English literary critic


آئی اے رچرڈز  نے سائنس اور شاعری کی جنگ میں سائنس کے ہتھیار شاعری کے حق میں استعمال کئے اور سائنس کی ایک شاخ یعنی نفسیات کی مدد سے صرف شاعری کا تجزیہ نہ کیا  بلکہ اسی سے شاعری کو سند فضیلت بھی دلوائی ۔ رچر ڈز  نے پہلے تو اس بات کی چھان بین کی کہ کوئی  نظم شاعر اور پڑھنے والے کے اندر کیا کیا نفسی کیفیات پیدا کرتی ہے ۔۔ اس کے بعد اس نے یہ ثا بت کرنے کی کوشش کی کہ یہ کیفیات مفید ہوتی ہیں ، بشرطیکہ نظم صحیح قسم  ہو ۔ اس معاملے میں اس کابنیادی مفروضہ یہ ہے کہ ہر وہ چیز جوکسی اشتہا کی تسکین کرے مفید ہوتی ہے۔ چناں  چہ مفید ترین نفسیاتی کیفیت وہ ہوتی ہے جس میں زیادہ سے زیادہ اشتہاؤں کی تسکین ہواور کم سے کم اشتہائیں تشنہ رہ جائیں دوسری اصناف تحریر کے مقابلے میں شاعری کا درجہ اس معیار کے مطابق بہت اونچا ہے، اور کوئی نظم اتنی ہی اونچی ہوتی ہے جتنی وہ اس معیار پر پوری اترے۔ اس نظریے کے مطابق شاعری کی اخلاقی قدرو قیمت اس میں مضمر ہے کہ وہ نفس انسانی کی زیادہ سے زیادہ اشتہاؤں کی تسکین کر کے اس میں توازن اور ہم آہنگی پیدا کرتی ہے ۔

غالبا ر چرڈز کے نفسیاتی نظریہ قدر کا بہترین خلاصہ اس کی کتاب'' سائنس اور شاعری ''میں ملتا ہے ۔ اس میں سے چند ملخص    عبارتوں کا ترجمہ پیش کیا جا تا ہے :

 ''الفاظ کے استعمال میں شاعری سائنس کی عین ضد ہے۔ جب ہم کوئی

شعری تخلیق پڑھتے ہیں تو ہمارے ذہن میں متعین خیالات ضرور پیدا

ہوتے ہیں لیکن اس لئے نہیں کہ الفاظ کا انتخاب اور درو بست ایسا ہوتا

ہے کہ منطقی طور پر ان سے صرف ایک ہی مطلب اخذ کیا جاسکتا ہے ۔ بلکہ

اس کے لئے عبارت کا تیورلب ولہجہ ،غنائی تاثیر اور آہنگ ، یہ سب ہماری

دلچسپیوں کو اکسا کر ہم کو اس پر پر آمادہ کرتے ہیں کہ کئی ممکن مطالب میں

 سے وہ مطلب جو ہم کو سب سے زیادہ بھا تا ہے، خود بخو دانتخاب کر لیں ۔

 یہی وجہ ہے کہ شعری بیان نثری بیان سے زیادہ صحیح اور مکمل ہوتا ہے ۔

 زبان کے منطقی یا سائنسی استعمال کے کسی منظر یا کسی چہرے کے نقش و نگار کا

منہ سے بولتا ہوا مرقع پیش نہیں کیا جا سکتا ۔''

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 " شاعری کے متعلق غلط فہمی  نہیں اور اس کی ناقدری عموماً اس کے فکری عنصر کو

ضرورت سے زیادہ اہمیت دینے کا نتیجہ ہوتی ہے۔اگر ہم ایک لمحے کے

لئے پڑھنے والے کے نفسی تجربے سے صرف نظر کر کے شاعر کے نفسی

 تجربے پر غور کر یں تو ہم پر اور بھی واضح ہو جائے گا کہ فکر کوئی اتنا اہم عنصر

 نہیں ہوتا۔شاعر جو الفاظ استعمال کرتا ہے وہی الفاظ کیوں استعمال کرتا

ہے، کوئی دوسرے الفاظ کیوں استعمال نہیں کرتا ؟ اس لئے نہیں کہ وہ کسی

 ایسے سلسلہ افکار کی نمائندگی کرتے ہیں جن کا بیان اس کا اصلی مقصد ہوتا

ہے ۔افکار تو شاعر کے لیے ایک ضمنی چیز ہوتے ہیں ۔۔۔ شاعر کا طرز بیان

سائنس دان کے طرز بیان سے مختلف ہوتا ہے ۔ وہ جو الفاظ استعمال کرتا

ہے، ان کو اس لئے استعمال کرتا ہے کہ وہ دلچسپیاں جن کی سلسلہ جنباتی

اس کے لئے شعر گوئی کی محرک ہوئی، ان الفاظ کو اس ہیئت میں اس کے

 شعور میں لاتی ہیں تا کہ وہ اس کے تجربے کو ایک منظم ، مر بوط اور سالم شکل

بخش دیں۔ یہ الفاظ اس کے تجربے، اس کے خارجی محرکات کی رو میں

 بہتے ہوۓ اس کے ذہن میں آتے ہیں ، اور وہ تجربے کی بہ حیثیت مجموعی

 نمائندگی کرتے ہیں ، نہ کہ ادراکات یا افکار کے کسی گروہ کی ۔ یہ بجا ہے کہ

 اگر پڑھنے والا کلام کا مطالعہ صحیح طریقے سے نہ کرے تو اسے یوں معلوم

ہوگا کہ شاعر کے الفاظ مختلف چیزوں کے متعلق چند دعوے ہیں ۔ لیکن جو

شخص شعر فہم ہواس کے ذہن میں الفاظ ( بشرطیکہ وہ تجربے کی براہ راست پیداوار

 ہوں اور محض بولنے کی عادتوں ، خطیبانہ اثر انگیزی کی خواہش ، مصنوعی خیال آرائی ،

کوروانہ تقلید ،خواہ خواہ کی ہنر فروشی یا ایسے ہی کسی اور غیر شاعرانہ نقص کا نتیجہ نہ

 ہوں )بالکل اسی طرح کے سلسلہ میں دلچسپی پیدا کرتے ہیں جیسا شاعر کے ذہن میں تھا۔

 دوسرے الفاظ میں شاعر کی کیفیت نفسی پڑھنے والے تک منتقل ہو جاتی ہے ۔''

 شاعروں کی جماعت رچرڈز کے نزدیک انسانوں کی وہ اقلیت ہے جو اپنے نفسی تجربوں میں انسانی دلچسپیوں کی سب سے بڑی تعداد کو ایک متوازن اور منظم طریقے سے یک جا کرتی ہے ۔ اس لئے ان کے نفسی تجربوں کا دوسرے لوگوں کے ذہنوں میں منتقل ہونا اس روز افزوں خطرے کا ایک تدارک ہے جو ہماری تہذیب کو انسانی دلچسپیوں کی باہمی کش مکش کے ہاتھوں در پیش ہے۔ شاعری انسانی تہذیب کے شرارے کو درہم برہم ہونے سے بچانے کا ایک

 

ذریعہ، اور بہترین ذریعہ ہے اس کور چرڈز یوں بیان کرتا ہے :

 " یہ بالکل قرین قیاس ہے کہ ہماری ثقافتی روایات نے پچھلی صدی کے

حملوں کے برخلاف جس سے سد سکندری کے پیچھے پناہ لے رکھی ہے وہ

 مستقل قریب میں اڑا دی جاۓ گی ۔ اگر ایسا ہوا تو ایک ایسا ذہنی انتشار،

 جس کا تجر بہ انسان کو آج تک نہیں ہوا، پیدا ہو جاۓ گا۔ اس وقت جیسے کہ

 میتھیو آرلڈ نے پیش گوئی کی تھی ، ہمارے پاس شاعری کے سوا کچھ نہ

رہے گا ۔ شاعری میں یہ صلاحیت ہے کہ ہمیں تباہی سے بچا سکے وہ ذہنی

افراتفری پر غلبہ پانے کا ایک ممکن ذریعہ ہے ۔''

 

شاعرانہ اور سائنٹیفک صداقت میں رچرڈز یوں تمیز کرتا ہے کہ شاعری سائنس کی طرح دعوے نہیں کرتی ، بلکہ نیم دعوے کرتی ہے ۔ایک نیم دعوی الفاظ کا ایک ایسا مجموعہ ہوتا ہے جس کا جواز تمام و کمال اس میں ہوتا ہے کہ وہ ہمارے باطنی تقاضوں اور فکری زاویوں کو بروئے کار لاۓ یا ان کی تنظیم کرے۔ایک دعوے کا جواز اس کے برخلاف اس میں ہوتا ہے کہ اس میں صداقت ہو، یعنی جس امر کو بیان کرنا اسے مقصود ہو، اس کو من وعن بیان کرے ۔ اس سلسلے میں وہ کہتا ہے کہ زبان کے استعمال کے دوطریقے ہیں: ایک'' تحویلی'' ، اور دوسرا'' جذ باتی'' تحویلی طریقہ افکار اور اشیاء کا حوالہ دینے کے لئے استعمال کیا جا تا ہے اور جذباتی طریقہ اس غرض سے اختیار کیا جا تا ہے کہ ان افکار اور اشیاء سے جو جذبات اعمال پیدا ہوتے ہیں ان کو بروے کا رلا یا جا سکے ۔ سائنس اور نشر کی زبان تحویلی ہوتی ہے اور شاعری کی زبان جذباتی ۔ اس نکتے کو وہ'' معنی کے معنی'' میں جو اس نے اوگڈن کی شرکت میں لکھی ، بہ الفاظ دیگر بیان کرتا ہے :

 ''ایک نظم کسی محد و داور بلا واسطہ حوالے سے کوئی تعلق نہیں رکھتی ۔ وہ ہمیں

 کچھ نہیں بتاتی ،اور نہ ا سے کچھ بتانا چاہیے ۔ اس کو ایک اس سے کہیں زیادہ

 اہم کام در پیش ہوتا ہے، یعنی کسی جذ بہ انگیز معاملے کے متعلق جذ بہ انگیز

الفاظ کا استعمال ۔ وہ تجربے کے بارے میں ایک مناسب زاویہ دہنی پیدا

کرتی ہے، اور یہی اسے کرنا چاہیے ۔''

 Referential                                             Emotive


٘بقیہ حصہ[ٹی ایس ایلیٹ ] یہاں پڑھیں


آج کے مطالعے کے لیے ایک ورق مزید پڑھیں

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

دستور نظم حبیب جالب||dastoor habib jalib||habib jalib main nahi manta

فیلڈ مارشل ایوب خان نے 1962 میں ایک آئین نافذ کیا   جو فرد واحد کے اقتدار کو بچانے اور اس کی طاقت کے دوام کے لیے نافذ کیا گیا تھا ۔اس آئین کے جواب میں حبیب جالب ؔ جو شاعر عوام و جمہور تھے  اور محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے تھے  نظم ’’ دستور ‘‘ لکھی   یہ نظم اس دور میں اتنی مقبول ہوئی کہ کسی نے ایوب خان سے کہا ’’ تمھارا  آئین  نافذ نہیں  ہو سکا ایک کمرے میں رہنے والا  ایک غریب سا شاعر اس آئین سے جیت گیا ہے  ‘‘ یہ نظم آج بھی ظلم و جبر اور انسانی آوازوں کے دبانے پر یاد کی جاتی ہے یہ  جمہور کی آزادی اور مزاحمت کا استعارہ ہے ۔ نظم پڑھیں دستور حبیب جالب دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا Deep jis ka mehlaat hi mein jale Chand logon ki khushiyon ko le kar chale Woh jo saaye mein har maslihat ke pale Aise dastoor ko subah be-noor ko Main nahin m...

تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations

   لیکچر نمبر:۶ تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی  مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations ڈاکٹر محمد قمر اقبال کا حضرت اقبال کی تصنیفات پر مفصل اور تحقیقی لیکچر  علامہ اقبال کی مشہور تصانیف تصانیف اقبال کا تعارف ۲۴۔اکتوبر ۲۰۲۱ء بزم فکر  اقبال پاکستان کے صدر جناب  پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال نے ۲۴۔ اکتوبر کو اقبال کی تصنیفات کے بارے میں ایک مبسوط لیکچر فراہم کیا جس میں اقبال کی تصنیفات کو ان کے سال اشاعت کی ترتیب سے شرکاء  کے گوش گزار کیا گیا۔یہ لیکچر معلوماتی سطح کا تھا فکر اقبال کے طالب علموں کو اقبال کی  فکر کے سرچشموں سے کماحقہ  آگاہ ہونا چاہیے اوریہ لیکچر اس سلسلے میں بھر پور معاونت فراہم کرتا ہے اقبال کی شاعری کی کتب ،نثری کتب ،تراجم اوران کے بعد مرتبہ کتب جو ان کی وفات کے بعد اکٹھی کی گئیں سب اس لیکچر میں جمع کر دی گئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی حوالہ جاتی کتب بھی قارئین کو لکھوا دی گئی ہیں اپنے مشمولات کے لحاظ سے یہ لیکچر کافی اہم ہے جس میں اقبال کی کتابیات تیار ہو گئی ہے ۔ڈاک...

himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب

غزل ہمانشی بابرہ himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب  لوگ تو لوگ ہیں لوگوں کی طرح دیکھتے ہیں ایک ہم ہیں اسے بچوں کی طرح دیکھتے ہیں   ہم کو دنیا نے لکڑ ہارا سمجھ رکھا ہے ہم تو پیڑوں کو پرندوں کی طرح دیکھتے ہیں   تم تو پھر غیر ہو تم سے تو پھر شکایت کیسی میرے اپنے مجھے غیروں کی طرح دیکھتے ہیں تیرا دیدار قضا ہوتا نہیں ہے ہم سے ہم تجھے دیکھنے والوں کی طرح دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل   میری خوشبو کو ہواؤں میں اڑانے والا لوٹ  کے آیا نہیں چھوڑ  کے جانے والا   پیار کے ساتھ مجھے طعنے دیا کرتا ہے  تجھ میں بھی رنگ ہے کچھ کچھ زمانے والا   ایسے بچھڑا ہے کہ ملنے کی  دعا کرتا ہے ہر ملاقات پہ منہ پھیرکے  جانے والا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   غزل     ساتھ دینے کا دلایا تھا بھروسا تونے اور پھر چھوڑ دیا مجھ کو اکیلا تو نے   اپنی مرضی سے مجھے چھوڑ کے جانے والے میری مرضی کو کہاں چھوڑ دیا تھا تو نے    بات رخسار کی ہوتی تو کوئی بات نہ تھی آج تو روح پہ مارا ہے تمانچا    تو نے   ...

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...

2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری

  اٹھا عجب تضاد سے انسان کا خمیر عادی فنا کا تھا    تو پجاری بقا کا تھا احمد ندیم قاسمی Utha ajab tazad se insan    ka khameer Adi fana ka tha to pujari baqa ka tha Ahmad Nadeem  Qasmi اداسیوں کا سبب کیا    کہیں بجز اس کے یہ زندگی ہے پریشانیاں    تو ہوتی ہیں احمد فراز Udasion ka sabab kia kahin bajuz is ky Ye zindagi hai preshanian to hoti hain Ahmad Faraz خود کو ترتیب دیا از سرِ نو زندگی میں ترا انکار بہت کام آیا Khud ko tarteeb dia az sar-e-nau Zindagi main tira inkar bht kam aya مرنا تو اس جہاں میں کوئی حادثہ نہیں اس دور ِ ناگوار میں جینا کمال ہے حسنی Marna to is jahan main koi hadsa nhi Is dor-e-Nagawar main jeena  kamal hai 2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری