نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

غیر افسانوی نثر کی اصناف|اردو ادب کی اہم اصناف||urdu adab ki asnaf

   

غیر افسانوی نثر کی اصناف

غیر افسانوی نثر میں جیسا کہ نام سے ظاہر ہے افسانوی نثر[داستان، ڈراما،ناول،افسانہ ] کے علاوہ ہر طرح کی نثری تحریریں شامل ہوتی ہیں۔

·       سیرت نگاری

یہ سوانح عمری کی ہی ایک قسم ہے لیکن اپنی پیشکش اور ماحول کے اعتبار سے تھوڑی مختلف ہے ۔سیرت نگاری کے لفظ میں تقدیس اور  مبارک کا تاثر موجود ہوتا ہے ۔۔۔۔یہ عربی زبان کا لفظ ہے  جسے ''السیرۃ'' لکھا جاتا ہے ۔

سیرت کو کئی معنوں میں استعمال کیا جاتا رہا لیکن اردو ادب میں اس کی تعریف''نبی اکرم ؐ کے احوال زیست اور اسوہ حسنہ کو قلم بند کرنا کی ہے''

مولوی محمد صبغت اللہ نے ''فوائد بدریہ '' کے عنوان  سے  سیرت کی کتاب لکھی جسے اردو میں پہلی سیرت کی کتاب کا درجہ حاصل ہے ۔

چند مشہور سیرت کی کتابیں:

سیرت النبیؐ مرتب مولانا شبلی نعمانی/سید سلیمان ندوی

خطبات احمدیہ مرتب سر سید احمد خان

رسول رحمت مرتب مولانا ابوالکلام آزاد

الرحیق المختوم  مرتب صفی الرحمن مبارک پوری

عرب کا چاند مرتب سوامی  لکشمن پرشاد

محسن انسانیت مرتب نعیم احمد صدیقی

سیرت سرور دوعالم ؐمرتب مولانا مودودی




 

·       سوانح عمری

سوانح کا لفظ ''سانحہ ''کی جمع ہے  جس کے معنی حوادث زمانہ ،حادثات زیست یا انوکھا واقعہ کے ہیں  چناں چہ سوانح عمری کا مطلب ہے ،کسی شخص کی زندگی کے منفرد احوال کی سرگزشت ۔

سوانح نگار کسی شخصیت جس کو وہ پوری طرح جانتا ہو ،قریبی رابطہ ہو  یا اس شخصیت کا اس طرح مطالعہ کیا ہو کہ کوئی گوشہ مخفی نہ رہ گیا ہو ۔۔۔۔۔اس کے ساتھ وہ اس شخصیت کے عہد کا مکمل شعور رکھتا ہو ۔

اردو میں ''توصیف نامہ ''از فیروز کو قدیم ترین سوانح عمری قرار دیا گیا ہے جب کہ جدید عہد  کی سوانح عمری کی ابتدا مولانا الطاف حسین حالی سے  ہوتی ہے جنھوں نے ''حیات سعدی''۱۸۸۳ء ،''یادگار غالب''۱۸۹۷ء اور '' حیات جاوید''۱۹۰۱ء  لکھ کر اس فن کو چار چاند لگائے ۔۔۔

·       آپ بیتی

اپنی زندگی کے حالات کا بیان ''آپ بیتی'' یا ''خودنوشت'' کہلاتا ہے ۔

سوانح عمری میں کسی دوسری شخصیت یا فرد کی زندگی کے بارے میں اپنی بساط میں لکھتا ہے   جب کہ آپ بیتی لکھنے والا اپنے حالات خود لکھتا ہے ۔

مولانا جعفر تھانیسری کی ''کالا پانی'' کو اردو کی پہلی آپ بیتی ہونے کا شرف حاصل ہے

خاکہ نگاری

خاکہ انگریزی کے لفظ SKETCH  کا مترادف ہے ،جس کے معنی کچانقشہ ،ڈھانچہ  یا لکیروں کی مدد سے بنائی ہوئی تصویر کے ہیں۔

ادبی اصطلاح میں اس سے مراد وہ تحریر ہے جس میں نہایت مختصر طور پر اشارے کنائے میں کسی شخصیت کا  ناک نقشہ ،عادات و اطوار اور کردار کو سیدھے  سادے انداز اور روانی کے ساتھ بیان کر دیا جائے۔

اردو میں خاکہ نگاری کی ابتدائی نقش مرزا فرحت اللہ بیگ کی تحریر ''نذیر احمد کی کہانی ۔کچھ ان کی ،کچھ میری زبانی '' ۱۹۲۷ء کو سمجھا جاتا ہے  چند مشہور خاکوں کے مجموعے:

مردم دیدہ از چراغ حسن حسرت

گنج ہائے گراں مایہ اور  ہم نفسان رفتہ از رشید احمد صدیقی

شیش محل از شوکت تھانوی

گنجے فرشتے اور لاوڈ سپیکر از سعادت حسن منٹو

گنجینہ گوہر از شاہد احمد دہلوی

جو ملے تھے راستے میں از احمد بشیر

جدیدخاکہ نگاری کا اہم نام ڈاکٹر اشفاق احمد ورک ہیں

سفر نامہ

سفر نامہ ایک بیانیہ صنف سخن ہے جس میں لکھنے والا اپنے سفر کے دوران کے چشم دید واقعات اور مشاہدات کو قارئین کے سامنے پیش کرتا ہے  اورانھیں بھی اپنا ہم سفر بنا لیتا ہے ۔۔۔۔

''عجائبات فرنگ'' از یوسف خان کمبل پوش ۱۸۴۷ء میں لکھا گیا اور اسے اردو سفرنامہ نگاری میں اولیت کا درجہ حاصل ہے ۔۔۔

مکتوب

مکتوب عربی زبان کا لفظ ہے  جس کے معنی ''لکھا گیا'' یا ''لکھا ہوا '' کے ہیں لیکن عام مفہوم میں  مکتوب سے مراد خط کو لیا جاتا ہے  ۔۔۔۔خط میں کوئی شخص اپنا حال احوال کسی سے بیان کرتا ہے اور   خیریت دریافت کرتا ہے  خط کاتب  کےعادات و اطوار کا  آئینہ دار ہوتا ہے اور اس کے جذبات و احساسات کا ترجمان ہوتا ہے اس لیے خط کو نصف ملاقات بھی کہتے ہیں ۔۔

مرزاغالب کے اردو خطوں کے مجموعے ''اردوئے معلیٰ'' ۱۸۶۹ء اور ''عود ہندی'' ۱۸۷۰ء اردو مکتوب نگاری کا ابتدائی سنگ میل ہے

طنز ومزاح

طنزو مزاح دو مختلف  چیزیں  ہیں لیکن اردو میں دونوں  کو ہم معنی سمجھا جاتا ہے دونوں کو علاحدہ علاحدہ سمجھتے ہیں۔

مزاح

''مزاح ایسی ہنسی یا کشادگی طبع کا نام ہے جس میں وقار اور متانت کے پہلو کو نظر انداز نہ کیا جائے  اور یہ کہ اس کا مقصد ایسی خوش خلقی اور فرحت قلوب ہے جو خیر اور تلطف پر مبنی ہو ۔نہ کہ اس کا مقصد اذیت پہنچانا یا کسی کی تحقیرو تذلیل کرناہو۔''

بحوالہ:اصناف نظم و نثر

طنز

ہلکے پھلکے انداز میں کسی شخص ،چیز یا رویے کا  تذکرہ کرتے ہوئے اس پر چوٹ کرنے کے عمل کو طنز کہا جاتا ہے ۔

مزاح کوHumour اور طنز  Satireکو  کہتے ہیں

مضمون

مضمون عربی زبان کا لفظ ہے ''ضمن میں لیا ہوا'' لیکن اصطلاح میں مضمون اس عبارت یا تحریر کو کہتے ہیں جو کسی خاص موضوع پر لکھی جائے [ذاتی اظہار خیال ]۔۔۔

اردو میں مضمون نویسی کا باقاعدہ آغاز سر سید احمد خاں سے ہوا۔۔۔

انشائیہ

چند لمحوں کے لیے سنجیدہ زندگی کی باقاعدگیوں سے قطع نظر کر کے غیر رسمی اور ہلکے پھلکے انداز میں کسی بھی موضوع پر ذاتی اظہار خیال کرنے کا نام انشائیہ ہے۔اسے light Essay  کہا جاتا ہے ۔۔

بقول ڈاکٹر بشیر سیفی:

''انشائیہ وہ صنف نثر ہے جس میں مصنف اپنے ذاتی تاثرات اور انفرادی تجربات بے تکلفی اور اختصار کے ساتھ پیش کرتا ہے۔''

مضمون اور انشائیہ کا فرق

·       دونوں میں اختلاف کے جو پہلو نظر آتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:

·       مضمون میں پیش کیے جانے والے دلائل معروضی اور عمومی ہوتے ہیں جب کہ انشائیہ ذاتی تاثرات کا نام ہے ۔

·       مضمون میں تمہید باندھی جاتی ہے جب کہ انشا ئیہ ا چا نک شروع ہو جاتا ہے۔

·       مضمون ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت لکھا جا تا ہے جب کہ انشائیہ غیر روایتی اوربے تکلفانہ اسلوب کا متقاضی ہوتا ہے ۔

·       مضمون طویل بھی ہوسکتا ہے جب کہ انشائیہ افسانے کی طرح اختصار میں لطف دیتا ہے۔

·       مضمون ہر طرح سے مکمل ہوتا ہے جب کہ انشائیے میں عدم تکمیل کا عنصر پایا جاتا ہے۔

·       انشائیے میں مصنف کی ذات یا  شخصیت بھی شامل ہوتی ہے جب کہ مضمون میں یہ  ضروری نہیں ۔

 

·       مضمون مکمل مزاحیہ بھی ہوسکتا ہے جب کہ انشائیہ صرف ہلکی پھلکی شگفتگی  ہی کا متحمل ہوسکتا ہے۔

·       مضمون میں کوئی اصلاح یا تنقید کا پہلو بھی کارفرما ہوسکتا ہے جب کہ انشائیہ کا واحدمقصد محض تخیل آرائی یا خیال آفرینی ہوتا ہے۔

·       آخری دلیل کے طور پر ہم ان دونوں اصناف کے فرق کو یوں بھی واضح کر سکتے کیا کہ یہ اصل میں دو بھائی ہیں ، جن میں ایک بڑا ہونے کے ناتے ذمہ دار اور سنجیدہ  ہے اور دوسرا چھوٹا اور لاڈلا ہونے کی بنا پر لا ابالی اور کھلنڈ را ہے ۔ ان میں بڑا بھائی مضمون اور چھوٹا انشائیہ ہے۔

 بحوالہ :اصناف نظم و نثر ڈاکٹر علی محمد خان اور ڈاکٹر اشفاق احمد ورک ؛الفیصل ناشران لاہور

مقالہ:

مقالہ مضمون کی ہی قسم ہے جو تحقیق کی غرض سے لکھا جاتا ہے یہ طویل ہوتا ہے اور گہرائی رکھتا ہے ۔۔۔

اس کے علاوہ نثری اصناف میں اقبالیات ،صحافت ،تحقیق،تنقید ،زنداں نامے اورتقریر وغیرہ آتے ہیں ۔۔۔۔

ختم شد


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

دستور نظم حبیب جالب||dastoor habib jalib||habib jalib main nahi manta

فیلڈ مارشل ایوب خان نے 1962 میں ایک آئین نافذ کیا   جو فرد واحد کے اقتدار کو بچانے اور اس کی طاقت کے دوام کے لیے نافذ کیا گیا تھا ۔اس آئین کے جواب میں حبیب جالب ؔ جو شاعر عوام و جمہور تھے  اور محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے تھے  نظم ’’ دستور ‘‘ لکھی   یہ نظم اس دور میں اتنی مقبول ہوئی کہ کسی نے ایوب خان سے کہا ’’ تمھارا  آئین  نافذ نہیں  ہو سکا ایک کمرے میں رہنے والا  ایک غریب سا شاعر اس آئین سے جیت گیا ہے  ‘‘ یہ نظم آج بھی ظلم و جبر اور انسانی آوازوں کے دبانے پر یاد کی جاتی ہے یہ  جمہور کی آزادی اور مزاحمت کا استعارہ ہے ۔ نظم پڑھیں دستور حبیب جالب دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا Deep jis ka mehlaat hi mein jale Chand logon ki khushiyon ko le kar chale Woh jo saaye mein har maslihat ke pale Aise dastoor ko subah be-noor ko Main nahin m...

تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations

   لیکچر نمبر:۶ تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی  مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations ڈاکٹر محمد قمر اقبال کا حضرت اقبال کی تصنیفات پر مفصل اور تحقیقی لیکچر  علامہ اقبال کی مشہور تصانیف تصانیف اقبال کا تعارف ۲۴۔اکتوبر ۲۰۲۱ء بزم فکر  اقبال پاکستان کے صدر جناب  پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال نے ۲۴۔ اکتوبر کو اقبال کی تصنیفات کے بارے میں ایک مبسوط لیکچر فراہم کیا جس میں اقبال کی تصنیفات کو ان کے سال اشاعت کی ترتیب سے شرکاء  کے گوش گزار کیا گیا۔یہ لیکچر معلوماتی سطح کا تھا فکر اقبال کے طالب علموں کو اقبال کی  فکر کے سرچشموں سے کماحقہ  آگاہ ہونا چاہیے اوریہ لیکچر اس سلسلے میں بھر پور معاونت فراہم کرتا ہے اقبال کی شاعری کی کتب ،نثری کتب ،تراجم اوران کے بعد مرتبہ کتب جو ان کی وفات کے بعد اکٹھی کی گئیں سب اس لیکچر میں جمع کر دی گئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی حوالہ جاتی کتب بھی قارئین کو لکھوا دی گئی ہیں اپنے مشمولات کے لحاظ سے یہ لیکچر کافی اہم ہے جس میں اقبال کی کتابیات تیار ہو گئی ہے ۔ڈاک...

himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب

غزل ہمانشی بابرہ himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب  لوگ تو لوگ ہیں لوگوں کی طرح دیکھتے ہیں ایک ہم ہیں اسے بچوں کی طرح دیکھتے ہیں   ہم کو دنیا نے لکڑ ہارا سمجھ رکھا ہے ہم تو پیڑوں کو پرندوں کی طرح دیکھتے ہیں   تم تو پھر غیر ہو تم سے تو پھر شکایت کیسی میرے اپنے مجھے غیروں کی طرح دیکھتے ہیں تیرا دیدار قضا ہوتا نہیں ہے ہم سے ہم تجھے دیکھنے والوں کی طرح دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل   میری خوشبو کو ہواؤں میں اڑانے والا لوٹ  کے آیا نہیں چھوڑ  کے جانے والا   پیار کے ساتھ مجھے طعنے دیا کرتا ہے  تجھ میں بھی رنگ ہے کچھ کچھ زمانے والا   ایسے بچھڑا ہے کہ ملنے کی  دعا کرتا ہے ہر ملاقات پہ منہ پھیرکے  جانے والا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   غزل     ساتھ دینے کا دلایا تھا بھروسا تونے اور پھر چھوڑ دیا مجھ کو اکیلا تو نے   اپنی مرضی سے مجھے چھوڑ کے جانے والے میری مرضی کو کہاں چھوڑ دیا تھا تو نے    بات رخسار کی ہوتی تو کوئی بات نہ تھی آج تو روح پہ مارا ہے تمانچا    تو نے   ...

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...

2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری

  اٹھا عجب تضاد سے انسان کا خمیر عادی فنا کا تھا    تو پجاری بقا کا تھا احمد ندیم قاسمی Utha ajab tazad se insan    ka khameer Adi fana ka tha to pujari baqa ka tha Ahmad Nadeem  Qasmi اداسیوں کا سبب کیا    کہیں بجز اس کے یہ زندگی ہے پریشانیاں    تو ہوتی ہیں احمد فراز Udasion ka sabab kia kahin bajuz is ky Ye zindagi hai preshanian to hoti hain Ahmad Faraz خود کو ترتیب دیا از سرِ نو زندگی میں ترا انکار بہت کام آیا Khud ko tarteeb dia az sar-e-nau Zindagi main tira inkar bht kam aya مرنا تو اس جہاں میں کوئی حادثہ نہیں اس دور ِ ناگوار میں جینا کمال ہے حسنی Marna to is jahan main koi hadsa nhi Is dor-e-Nagawar main jeena  kamal hai 2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری