best poetry of allama Iqbal||allama iqbal poetry for students||2 line urdu poetry copy paste||علامہ اقبال کی شاعری||علامہ اقبال کی شاعری بچوں کے لیے
ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا
حیات ذوقِ سفر کے سوا کچھ اور نہیں
۳۲
کسے نہیں ہے تمنائے سروری ،لیکن
خودی کی موت ہو جس میں وہ سروری کیا ہے!
۳۳
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کِشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
۳۴
عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام
اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں
۳۵
وہی ہے صاحبِ امروز جس نے اپنی ہمت سے
زمانے کے سمندر سے نکالا گوہر ِ فردا
۳۶
سبق ملا ہے یہ معراجِ مصطفٰی سے مجھے
کہ عالم ِ بشریت کی زد میں ہے گردوں
۳۷
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن،اپنا تو بن
۳۸
شکایت ہے مجھے یا رب!خداوندانِ مکتب سے
سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاک بازی کا
۳۹
دل ِ بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دل کا نور نہیں
۴۰
یہ پیام دے گئی ہے مجھے بادِ صبح گاہی
کہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہی
۴۱
نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے
خراج کی جو گدا ہو، وہ قیصری کیا ہے !
بتوں سے تجھ کو امیدیں ،خدا سے نو میدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے!
۴۲
نگہ بلند ، سخن دل نواز،جاں پرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے
۴۳
جب عشق سکھاتا ہے آدابِ خود آگاہی
کھلتے ہیں غلاموں پر اسرارِ شہنشاہی
۴۴
آئین ِجواں مرداں ،حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
۴۵
عروج ِ آدمِ خاکی کے منتظر ہیں تمام
یہ کہکشاں ،یہ ستارے ،یہ نیلگوں افلاک
۴۶
خودی کے زور سے دنیا پہ چھا جا
مقام ِ رنگ و بو کا راز پا جا
۴۷
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں
۴۸
زمانے میں جھوٹا ہے ا س کا نگیں
جو اپنی خودی کو پرکھتا نہیں
۴۹
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
۵۰
میں تجھ کو بتاتا ہوں ،تقدیر امم کیا ہے
شمشیر و سناں اول طاؤس ورباب آخر
۵۱
اے طائرِلاہوتی! اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
۵۲
تو اپنی خودی کو کھو چکا ہے
کھوئی ہوئی شے کی جستجو کر
۵۳
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستاںِ حرم
نہایت اس کی حسین،ابتدا ہے اسمٰعیل
۵۴
وہی جہاں ہے ترا جس کو تو کرے پیدا
یہ سنگ و خشت نہیں ،جو تری نگاہ میں ہے
۵۵
صورتِ شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب
۵۶
دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ،نئے صبح و شام پیدا کر
۵۷
خدا اگر دلِ فطرت شناس دے تجھ کو
سکوتِ لالہ و گل سے کلام پیدا کر
مرا طریق امیری نہیں ،فقیری ہے
خودی نہ بیچ ،غریبی میں نام پیدا کر!
۵۸
تقدیر کے قاضی کا یہ فتوٰی ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگ ِمفاجات
۵۹
نہیں تیرا نشیمن قصرِسلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
۶۰
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لبِ بام ابھی

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں