نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

شکوہ نظم کا جواب کیا تھا؟||Alama Iqbal write which poem in response to shikwa

 علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی شاعری سے جہاں مسلم امہ کی فکری ترجمانی کی اور ان کے لیے لسانی ، علاقائی اور نسلی تقسیم سے اوپر اٹھ کے ایک جسم واحد کا سبق دیا وہیں اردو ادب میں نئے لہجے اور نئے شعری اسلوب کا اضافہ کیا 

اقبال نے نظم " شکوہ " 1911 میں لکھی یہ نظم مسدس ترکیب بند ہئیت میں ہے اس نظم میں اقبال نے عربی ، فارسی اور اردو کے اجتماعی روایت سے ہٹ کے اللہ تعالیٰ سے شکوہ کیا جو کہ کلاسیک میں ہمیشہ مناجات اور انسان کی نارسائی سے عبارت تھا 

اقبال نے خود بھی "خاکم بدہن" کہ کے یہ جسارت کی 

اس نظم میں مسلم امہ کے عروج اور اللہ کے پیغام کو دور دنیا تک پہنچانے کا ذکر کیا اور موجودہ ابتری کا شکوہ کیا کہ ہماری قربانیوں اور جذبوں کا صلہ وہ نہیں ملا جو ہمارا حق تھا 

کہتے ہیں :

صفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نے

نوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نے


تیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نے

تیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نے


پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیں

ہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیں


"ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات" کہنے والے اقبال کو امت کے زوال کے محرکات کا اندازہ ہوا تو انھوں نے رب کعبہ کی طرف سے امت کو جواب دیا اور 1913 میں نظم "جواب شکوہ " لکھی اس نظم سے جہاں اقبال نے امت کو آئینہ دیکھایا کہ اپنے آبا سے تمھیں کیسے نسبت ہو سکتی ہے جب تم ٹکڑوں ٹکڑوں میں بٹے ہو اور غیروں کے قدموں میں پناہ ڈھونڈتے ہوں وہیں ان کے خلاف مذہبی طبقے میں شکوہ کے خلاف اٹھنے والا طوفان بھی کسی قدر ٹھنڈا ہو گیا "جواب شکوہ " میں اقبال فرماتے ہیں :

صفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نے

نوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نے


میرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نے

میرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نے


تھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہو

ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو

شکوہ نظم کا جواب کیا تھا؟||Alama Iqbal write which poem in response to shikwa
شکوہ نظم کا جواب کیا تھا؟||Alama Iqbal write which poem in response to shikwa


تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...