میرے خواب آباد ہو گئے ہیں ||اردو نظم|اردو شعروشاعری|قیصر شہزاد ساقی|Qaisar Shahzad Saqi nazm mery khawab abad ho gaiy hain
میرے خواب آباد ہو گئے ہیں
ان دنوں جب لوگ ہنستے کھیلتے
مستقبل کےان جانے ہتھکنڈوں سے بے خبر
تاک میں رہنے والی پر اسرار ،بوجھل اور تھکا دینے والی ذمہ داریوں سے دور
زندگی کرتے ہیں
میں تب بھی حیات کے بوجھ سے نالاں
افلاک کی وسعتوں اور عمیق اندھیروں میں سکوں کے خواب دیکھتا تھا
پھر تیری مسکراہٹ نے میرے آنگن کے قدیم اندھیروں میں روشنی کی چہکار بھر دی
میرے دل کے مردہ خانوں میں تیرےلمس نے تازہ دھڑکن جاری کر دی
میں جینے لگا ہوں
میرے خزاں رسیدہ وجود پہ تازہ کونپلیں نمودار ہونے لگی ہیں اور
زندگی کی تراوت پور پور سے چھلک پڑی ہے
میرے دن تیرے پیار سے لامحدود بے رنگیوں سے رنگینیوں میں ڈوب گئے ہیں اور
برسوں سے میرے ادھ ادھورے خواب
آباد ہو گئے ہیں
- صنعت حسن تعلیل اور اس کی مثالیں یہاں پڑھیں
- صنعت مبالغہ کی تعریف اور مثالیں یہاں پڑھیں
- مٖغربی نقادوں کے تنقیدی نظریات پڑھیں
- افسانہ ’’باسودے کی مریم‘‘ از اسد محمد خان یہاں پڑھیں
- افسانہ ’’ ترلوچن‘‘ از اسد محمد خان پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں
- ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی کی نظمیں یہاں پڑھیں
- اردو کی اصناف نظم و نثر پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں
![]() |
| میرے خواب آباد ہو گئے ہیں ||اردو نظم|اردو شعروشاعری|قیصر شہزاد ساقی|Qaisar Shahzad Saqi nazm mery khawab abad ho gaiy hain |

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں