نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

best poetry of allama Iqbal||allama iqbal poetry for students||2 line urdu poetry copy paste||علامہ اقبال کی شاعری||علامہ اقبال کی شاعری بچوں کے لیے

 

 

ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے

آتے ہیں جو کام دوسروں کے

۲

وہ آفتاب جس سے زمانے میں نور ہے

دل ہے ،خرد ہے ،روحِ رواں ہے،شعور ہے

۳

یہی آئین قدرت ہے،یہی اسلوب فطرت ہے

جو ہے راہِ عمل میں گام زن،محبوب فطرت ہے

۴

راز ِحیات پوچھ لے خضرِخجستہ گام سے

زندہ ہر ایک چیز ہے کوشش ناتمام سے

۵

باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم

سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا

۶

نقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نے

زیرِخنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نے

۷

سالارِ کارواں ہے میر حجاز اپنا

اس نام سے ہے باقی آرامِ جاں ہمارا

۸

دشت تو دشت ہیں،دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے

بحرِ ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے

 

۹

خطاب بہ جوانانِ اسلام

کبھی اے نوجواں مسلم!تدبر بھی کیا تونے

وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبت میں

کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاجِ سرِ دارا

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

ثریا سے زمیں پر آسمان نے ہم کو دے مارا

مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے  آبا کی

جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا

۱۰

وہ  زمانے میں معززتھے مسلماں ہو کر

اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر

۱۱

وائے ناکامی !متاعِ کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

۱۲

فرد قائم ربطِ ملت سے ہے،تنہا کچھ نہیں

موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

۱۳

کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیں

ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

۱۴

کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

۱۵

اپنی ملت پر قیاس  اقوامِ مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی

 

۱۶

ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ

پیوستہ رہ شجر سے،امید ِبہار رکھ

۱۷

سبق پھر پڑھ صداقت کا،عدالت کا،شجاعت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

۱۸

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں

جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

۱۹

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زورِبازو کا

نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

۲۰

جہاں میں اہلِ ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں

اِدھر ڈوبےادھر نکلے،ادھر ڈوبے اِدھر  نکلے

۲۱

نہ کہیں جہاں میں اماں ملی،جو اماں ملی تو کہاں ملی

مرے جرمِ خانہ خراب کو ترے عفوِبندہ نواز میں

۲۲

دعا

یارب! دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنا دے

جو قلب کو گرما دے ،جو روح کو تڑپا دے

پھر وادیِ فاراں کے ہر ذرے کو چمکادے

پھر شوقِ تماشا دے، پھر ذوقِ تقاضا دے

محرومِ تماشا کوپھر دیدۂ بینا دے

دیکھا ہے جو کچھ میں نےاوروں کو بھی دکھلا دے

بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل

اس شہر کے خوگر کو پھر وسعتِ صحرا دے

اس دور کی ظلمت میں ہر قلبِ پریشاں کو

وہ داغِ محبت دے جو چاند کو شرما دے

بے لوث محبت ہو،بے باک صداقت ہو

سینوں میں اجالا کر،دل صورت ِمینا دے

میں بلبلِ نالاں ہوں اک اجڑے گلستاں کا

تاثیر کا سائل ہوں ،محتاج کو داتا دے

 

 

۲۳

عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں

کہ یہ ٹوٹا ہوا تارامہِ کامل نہ بن جائے

۲۴

گزر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بیاباں میں

کہ شاہیں کے لیے ذلت ہے کارِآشیاں بندی

۲۵

تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا

ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں

۲۶

یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی

سکھائے کس نے اسمٰعیل کو آدابِ فرزندی

۲۷

نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول ،وہی آخر

وہی قرآں ،وہی فرقاں ،وہی یٰسیں ،وہی طٰہٰ

۲۸

تو ابھی رہ گزر میں ہے،قیدِ مقام سے گزر

مصروحجاز سے گزر،پارس و شام سے گزر

۲۹

پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات

تو جھکا جب غیر کے آگے ،نہ من تیرا نہ تن

۳۰

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

کافر ہے تو ہے تابع تقدیر  مسلماں

مومن ہے تو وہ آپ ہے تقدیرِالٰہی

دوسرا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں

best poetry of allama Iqbal||allama iqbal poetry for students||2 line urdu poetry copy paste||علامہ اقبال کی شاعری||علامہ اقبال کی شاعری بچوں کے لیے
best poetry of allama Iqbal||allama iqbal poetry for students||2 line urdu poetry copy paste||علامہ اقبال کی
شاعری||علامہ اقبال کی شاعری بچوں کے لیے

آج کے مطالعے کے لیے ایک ورق مزید پڑھیں 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...